دہریت اور سماجی رویے

دہریت اور سماجی رویے

پاکستان میں ہمیں جس مذہبی جبر کا سامنا ہے وہ بہت حد تک مذہب سے ایک غیر علمی اور غیر محققانہ تعلق کی پیداوار ہے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کا اپنے مذہب سے تعلق مقدس شخصیات، عبادات اور عقائد سے جذباتی لگاؤ اور اندھے اعتقاد تک محدود ہے۔ اس غیر عالمانہ مذہبیت کے باعث سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اختلاف کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سید امجد حسین کی ترتیب دی کتاب "کب کا ترک اسلام کیا" لالٹین پر قسط وار شائع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ایسی آوازوں کو توانائی بخشنا ہے جو مذہب پر تنقید، اعتراض اور اختلاف کو آزادی اظہارِ رائے کا جزو سمجھتی ہیں۔ اس سلسلے کا مقصد مذہبی افراد کی دل آزاری نہیں بلکہ تنقید و تحقیق جیسے بنیادی علمی فریضے کی انجام دہی ہے۔ اس کتاب میں شامل مضامین بہت سے قارئین کے لئے ناگوار یا ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں، ایسے قارئین ان مضامین پر تنقید کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ لالٹین کے صفحات اختلافی آراء کے لئے بھی کھلے ہیں۔

تحریر: غلام رسول

اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

پچھلے چند دنوں سے کچھ عجیب سی پوسٹس پڑھنے کو مل رہی ہیں، جن کے پیچھے تجسس کی بجائے تضحیک کا مادہ کار فرما ہے۔ لیکن اہل ایمان کے علاوہ کچھ اپنے دوست بھی اس مسئلے پر کسی حد تک کنفیوژن کا شکار ہیں۔ چند اہم سوال جو اٹھائے گئے ہیں وہ کچھ یوں ہیں:

1- دہریئے خدا یا مذہب سے انکار کرتے ہیں لہذا کیا وہ محرمات مثلا ماں، بہن یا بیٹی سے مباشرت کرتے ہیں؟
2- کیا دہریئے اپنی بہنوں، بیٹیوں کو شادی سے پہلے جنسی تعلقات رکھنے کی اجازت دیتے ہیں؟
3- کیا دہریئے اپنی بیوی کو دوسرے کے ساتھ بانٹنا پسند کریں گے، کیا بیوی کو دوسرے مردوں کے ساتھ تعلق رکھنے کی اجازت دیں گے؟
4- دہریئے شادی کیسے کرتے ہیں؟
5- دہریئے مرنے کے بعد کون سی رسومات ادا کرتے ہیں؟
6- کیا دہریئے اپنے ماں باپ کا ادب کرتے ہیں؟

ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کے لیے اس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ دہریت مذہب نہیں ہے، یہ ایک ضابطہ حیات ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اور نا ہی یہ کسی قسم کا کوئی نظریہ پیش کرتا ہے۔ اس کا کسی بھی نوعیت کا کوئی معاشی پروگرام نہیں ہے، اور نا ہی یہ معاشی تفاوت اور دیگر معاشرتی مسائل کے حل کی راہیں سجھاتا ہے۔ دہریے سرمایہ داری کے حمایتی بھی ہو سکتے ہیں اور اشتراکی نظام کے بھی۔ دہریے عام انسانوں کی طرح معاشرے کی ایسے ہی رکن ہوتے ہیں جیسا کہ مذہب کے ماننے والے۔ یہ بھی معاشرتی تقاضوں کو اسی طرح نبھاتے ہیں جن پر اس معاشرے میں رہنے والے دیگر افراد عمل پیرا ہوتے ہیں۔ دہریے صرف خدا یا کسی مافوق الفطرت ہستی کے وجود کا انکار کرنے کے علاوہ وہ سب کچھ کرتے ہیں جس کا تقاضا ان سے معاشرہ کرتا ہے۔ (میں خود کئی ایک نزدیکی لوگوں کی نماز جنازہ میں گیا ہوں، جس سے مقصد ان کی مغفرت کی دعا کرنا ہرگز مقصود نہ تھی، بلکہ یہ اس چیز کا اظہار تھا کہ میں مرنے والے کے بچھڑ جانے کو محسوس کرتا تھا اور اسی کا اظہار کرنے اور جانے والے کو عزت دینے کے لیے مسجد تک جا پہنچا، البتہ میں دل ہی دل میں کچھ بڑبرانے کی بجائے پیٹ پر ہاتھ باندھے، سر جھکائے خاموشی سے کھڑا رہتا رہا ہوں۔) دہریے کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو قبول یا رد کرنے کےلئے عقلی دلیل اور استدلال کا سہارا لیں نہ کہ صدیوں پرانی کتابوں سے اخلاقی اور معاشرتی رویے کشید کریں۔

بس پر چڑھتے ہوئے کون سی دعا پڑھنی ہے، کون سا پاؤں پہلے پائیدان کے اوپر رکھنا ہے، اترتے وقت کون سی دعا پڑھنی ہے، گھر کے اندر اور باہر جانے کی دعائیں کون سی ہیں، جنسی عمل سے پہلے، بعد اور دوران کون سی آیت یا دُعا پڑھنی ہے، لیٹرین میں جانے کی دعا اور نکلنے کی دعا کیا ہے، پیشاب کرتے ہوئے عضو تناسل کو کس ہاتھ سے تھامنا چا ہیے، پاخانے کے بعد کون سے ہاتھ سے کتنی دیر تک صفائی کرنی ہے؟ دہریے اس قسم کی خرافات کو رد کرتے ہیں۔ وہ حیات بعد الموت کے قائل نہیں ہیں، ان کے نزدیک اس زندگی کے بعد انسان بھی دیگر حشرات الارض کی طرح ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا فرد کی دنیاوی خوشی ہی سب سے زیادہ اہم ہے، بشرطیکہ وہ خوشی کسی دوسرے کے دکھوں کی بنیاد بنا کر حاصل نہ کی جائے۔

چونکہ دہریے بھی اہل ایمان کی طرح ہی معاشرے کے رکن ہوتے ہیں، لہٰذا ان کی سوچ اور رویے بھی اسی ثقافت اور معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا وہ حصہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے اندر اور مغربی ممالک کے اندر موجود ناستکوں کے رویے اپنے اپنے معاشرتی اور ثقافتی اظہار کے مطابق ہوں گے، جو اکثر حالات میں ایک دوسرے سے متصادم بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن مغربی ممالک کے ناستکوں اور خدا کے وجود کو ماننے والوں کے ثقافتی رویوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ان کا شادی سے پہلے جنسی تعلقات پر ایک جیسا رد عمل ہی ہوتا ہے، کیونکہ ان معاشروں میں جنس کو اتنا گھٹیا مقام نہیں دیا جاتا، جبکہ ہمارے ہاں جنس کو گالی اور تشدد کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ تصور تک سرے سے ناپید ہے۔

پاکستانی اہل ایمان کے ماں، بہن یا بیٹی سے مباشرت کے سوال کا اصل مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتا کہ ملحدین کو بالواسطہ طور پر گالی دی جائے۔ اس قسم کی خرافات کو مغربی معاشرے کے لوگ سوائے ہنسنے کے کوئی اور جواب نہیں دیتے، کیونکہ تمام دیگر جاندار چیزوں کی طرح انسان کی بھی دو ہی بنیادی ضروریات ہیں اور وہ خوراک اور جنس ہیں۔ خوراک سے کسی بھی ذی روح کی انفرادی بقا کا سوال جڑا ہوا ہے۔ انسان کو اگر دیگر حشرات الارض کی طرح ایک خاص مدت تک خوراک نہ ملے تو اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے، جبکہ جنس سے اس ذی روح کی نسل کی بقا کا تسلسل وابستہ ہے۔ اگر جنس کا وجود ختم کر دیا جائے تو 80-90 سال تک اس کرۂ ارض پر شاید ایک بھی انسان باقی نہ رہے۔

میں بچپن میں ایک کھیت میں کھڑا تھا، ایک راہگیر کو بڑے ادب سے ماموں کہہ کر مدد مانگی، اس نے پاس آ کر بڑے پیار سے سمجھایا: بیٹا، میں تمہاری مدد تو کر دیتا ہوں لیکن آئندہ کسی کو ماموں نہیں کہنا بلکہ چچا کہنا، کیونکہ ماموں ایک گالی ہوتی ہے مجھے اس وقت اس بات کی سمجھ نہیں آئی لیکن اب کچھ کچھ سمجھنے لگا ہوں۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں سیکس کے ساتھ گناہ کا تصور وابستہ ہو، جس معاشرے میں ماموں یا سالا کے الفاظ ایک گالی کی حثیت رکھتے ہوں، جہاں جنس جو ایک انتہائی فطری جذبہ ہے اور جس سے نسل انسانی کی تخلیق اور تسلسل وابستہ ہے، جنس کو گالی سمجھنے کی سوچ اور رویے ایک ایسے معاشرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو انتہائی بیمار اور گل سڑ چکا ہے۔

میں یہاں پر اپنا ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سنانا چاہوں گا۔ ستر کی دہائی میں یورپ کا ایک چائنیز کیفے ٹیریا پاک ٹی ہاؤس کی شکل اختیار کر گیا تھا، دوست لوگ وہاں اتوار کے روز اکٹھے ہو کر بحث و مباحثہ کرتے، گپ بازی، میل ملاپ کی ایک بہت ہی مقبول جگہ تھی۔ اتفاق سے ایک دن اپنے ایک دیسی اور مقامی میں جھگڑا ہو گیا، جو گالیوں تک جا پہنچا، مقامی زبان کی گالیاں بہت ہی ’’معصوم‘‘قسم کی تھیں، جبکہ اپنے دیسی نے پنجابی گالیوں کا مقامی زبان میں ترجمہ شروع کر دیا، لیکن جب اس نے پہلی گالی کچھ یوں دی:’’میں تیری ماں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘، تو چند لمحوں کے لئے اس یوروپین کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا، لیکن پھر اس نے جواب دیا:’’میری ماں کا کسی کے ساتھ مباشرت اس کا ذاتی مسئلہ ہے، اگر وہ تمہارے ساتھ یہ کچھ کرنا چاہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ یہ لمحہ بہت ہی عجیب تھا اور اس پاکستانی کی حالت دیکھنے کی لائق تھی جس کا اتنا بڑا حملہ اس بری طرح پسپا کر دیا گیا تھا۔

چونکہ الحاد کوئی نظریہ نہیں ہے اور اس کے کوئی باقاعدہ اصول وضع نہیں کیے گئے لہذا ہر ملحد اپنے افعال یا افکار کا خود ذمہ دار ہے۔ میرے افکار صرف میرے ہیں جو میری زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہیں، میں کسی دوسرے ملحد کی نمائندگی نہیں کرتا۔ میری زندگی کا بیشتر حصہ مغربی ملک میں گذرا ہے، لہذا میری یا پاکستان اور دیگر ممالک میں موجود ملحدین کے افکار میں فرق ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ میرے افکار، میرا ثقافتی اظہار پاکستان میں موجود کسی ناستک سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ میرے ہر لفظ یا کسی بھی حصے سے دوسروں کا متفق ہونا قطعی ضروری نہیں ہے، میری افکار سے کسی کا اختلاف اس کے مجھ سے کم یا زیادہ ناستک ہونے کا اظہار نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے گرد و نواح اور زندگی کے تجربات کے مختلف ہونے کا نتیجہ ہے۔
جو ناستک پاکستان میں رہتے ہیں، وہ یقیناًاسی ملک کی ثقافت اور رسوم کی پابندی کرتے ہیں، البتہ جن دہریوں کو نزدیکی رشتہ داروں سے شادی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا پتہ ہوتا ہے، ماں بہن سے مباشرت تو درکنار وہ حتٰی الوسع اپنے کزن کے ساتھ شادی سے بھی احتراز کرتے ہیں۔ اتنے نزدیکی رشتوں کے ساتھ مباشرت کی کہانیاں البتہ ابراہیمی مذاہب میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ مومنین جب ناستکوں پر ماں، بہن، بیٹی سے مجامعت کا الزام لگاتے ہیں تو یوں گمان گزرتا ہے کہ انہیں ماں بہن سے مباشرت کرنے سے صرف مذہب نے روکا ہوا ہے وگرنہ وہ اپنی یہ حسرت ضرور پوری کرتے۔

ناستکوں سے متعلق سوالوں کا جواب دینے کے لیے میں اپنے حوالے سے بات کروں گا۔ میں ایک پاکستانی، پنجابی، دیہاتی، سنی مسلم گھرانے میں پیدا ہوا۔ یورپ میں مقیم ہوں۔ میں نے یورپ میں شادی نہیں کی اور اس کی وجہ مذہبی تفاوت نہیں تھی کہ میں مسلمان ہوتے ایک یورپی عیسائی سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا، بلکہ اس کی وجہ صرف ثقافتی فرق تھا۔ میں پاکستان میں پلا بڑھا اور اپنے آپ کو اس قابل نہیں پایا کہ میں یورپ کی ایک لڑکی کے ساتھ ثقافتی فرق کی وجہ سے چل پاتا۔ ہاں مجھے پاکستان میں پلی بڑھی عیسائی، ہندو، سکھ یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی ایسی لڑکی ملتی جو مجھ سے شادی کرنا چاہتی تو مجھے اس سے شادی منظور تھی۔ لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں یہ ممکن نہیں تھا، کوئی بھی غیر مسلم مذہبی فرق کی وجہ سے اپنی بیٹی سے میری شادی کرنے کے لیے کبھی تیار نہ ہوتا۔ مجھے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ایک مسلمان لڑکی سے شادی کرنی پڑی۔ چونکہ کوئی بھی پاکستانی مسلمان والدین بغیر نکاح کے اپنی بیٹی میرے حوالے کرنےکے لیے تیار نہیں ہو سکتے تھے، لہٰذا میں نے باقاعدہ نکاح کیا، لیکن اگر مجھے بغیر نکاح کے لڑکی ملتی تو مجھے اس جھنجھٹ میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میرے نزدیک نکاح یا عدالتی کارروائی ایک معاشرتی تکلف سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اگر دو بالغ انسان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے اکٹھا رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کا پورا حق ہے۔ مجھے اگر یورپ میں میرے ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی ایسی لڑکی ملتی جو مذہب سے میری طرح دور ہوتی تو مجھے اس کے ساتھ دفتر جا کر اپنے آپ کو میاں بیوی کی طرح رجسٹر کروانے یا بغیر شادی کیے اکٹھے رہنے میں کوئی برائی نظر نہ آتی۔ میں اگر کسی لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اس کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتا ہوں تو اس خواہش یا جذبے کی تصدیق کے لیے مجھے کسی عجیب و غریب حلیے والے مرد یا کسی سرکاری محکمے کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستان یا دیگر ممالک میں موجود ناستک اپنے ارد گرد کے معاشرے کے غلام ہیں، وہ اگر چاہیں بھی تو اپنی سوچ پر اس طرح عمل نہیں کر سکتے جنہیں وہ صحیح سمجھتے ہیں، وہ کسی دوسری خاتون کے ساتھ بغیر شادی کیے نہیں رہ سکتے، وہ اپنی بہنوں بیٹیوں کے شادی کے بغیر جنسی تعلقات رکھنے کے معاشرتی نتائج کا سامنا نہیں کر پائیں گے، لیکن مغربی ممالک میں اب پاکستانی نژاد اہل ایمان لڑکیاں بھی شادی سے پہلے جنسی تعلقات میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتیں۔ عرب سنی خواتین مسیار اور شیعہ خواتین متعہ کا سہارا لے رہی ہیں۔ ترکی میں میرا ایک دوست جو ناستک نہیں ہے وہ کئی ماہ ایک ترک خاتون کے ساتھ رہ کر اب شادی کے بندھن میں بندھا ہے۔ وہ یہ کچھ پاکستان میں نہ کر پاتا۔

کیا کوئی ملحد اپنی بیوی کو دوسرے کے ساتھ بانٹنا چاہے گا، اس کا تعلق بھی ہر فرد کی ذاتی سوچ کے ساتھ ہے۔ گروپ سیکس نام کی چیز مغربی ملکوں میں موجود ہے، کچھ عرصہ پہلے ایک مقامی اخبار میں پڑھا تھا کہ کچھ مقامی لوگ ایک ہوٹل میں کمرہ بک کر لیتے ہیں، اور ’’فراغت‘‘کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، میں چونکہ پاکستان میں ایک گاؤں میں ہی پلا بڑھا، لہٰذا پاکستان کی شہری زندگی کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن سنا ہے کہ اسلام آباد وغیرہ جیسے شہروں میں کچھ لوگ بیویوں کو کچھ لمحوں کے لیے تبدیل کرنے میں قباحت محسوس نہیں کرتے۔ ویسے میں اپنے اختیار کردہ ملک میں ذاتی طور پر ایک غیر پاکستانی دوست فیملی کو جانتا ہوں جو اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے، حالانکہ وہ ناستک بھی نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی ایک تحفہ ہے اور اس سے جس قدر خوشی کشید کی جا سکتی ہے، ضرور کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کچھ عرصہ اکٹھا رہنے کے بعد محبت کی چنگاری مدھم ہونے لگتی ہے، اور انہیں اپنے ساتھی کے علاوہ دیگر افراد میں بھی کشش محسوس ہوتی ہے، لہٰذا ہر چند مہینوں اور سالوں بعد نیا جیون ساتھی ڈھونڈنے کی بجائے یہ بہتر طریقہ ہے کیونکہ اس سے ان کی معاشی زندگی اور بچے کسی قسم کے مسائل کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ اکٹھے رہ کر اگر زندگی کا مزہ لے سکتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے۔

وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی

لیکن اکثریت اس سے مختلف خیال رکھتی ہے، ان کے نزدیک جب ایک دوسرے کے ساتھ مزید رہنے کو جی نہ چاہے تو علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ بہت زیادہ خواتین دوست ایسی بھی ہیں، جنہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی کیونکہ وہ اپنی آزادی نہیں کھونا چاہتیں۔ ان میں زیادہ تر کے بچے بھی نہیں ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس دنیا میں کافی انسان موجود ہیں، ان کے بچے نہ پیدا کرنے سے نسل انسانی کی بقا کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

جنسی رویوں یا سوچوں کا بنیادی تعلق ثقافت اور رسوم و رواج سے ہے لیکن مومنین کے نزدیک وہ اخلاقیات کا مسئلہ ہے، اس سلسلہ میں سب سے اہم مغالطہ جس کا مومنین شکار ہیں وہ یہ ہے کہ اخلاقیات مذہب کی پیداوار ہے۔ لیکن میں ناستک ہوتے ہوئے جھوٹ اس لیے نہیں بولتا کہ مجھے کسی آسمانی باپ کی سزا کا خوف ہے، میں اس لیے سچ بولتا ہوں کہ جو میری بات سن رہا ہے وہ مجھے اس قابل سمجھتا ہے کہ میری بات سنے، میں اس عزت افزائی کے بدلے اسے جھوٹ بول کر گمراہ نہیں کرنا چاہتا، اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے جھوٹ بول کر گمراہ کرے، میں اس لیے کسی کو دھوکا نہیں دینا چاہتا کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ کوئی مجھے دھوکا دے۔ میں کسی کو بھی اس لیے قتل نہیں کرنا چاہتا کہ میرے نزدیک ایک انسان کی سب سے قیمتی متاع اس کی زندگی ہے، اور اسے اگر فطرت سے یہ تحفہ ملا ہے تو مجھے اس سے چھیننے کا بالکل اسی طرح حق نہیں ہے جیسے میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھ سے میری سب سے قیمتی متاع جو میری زندگی ہے، مجھ سے چھینے۔

کیا میں اپنے ماں باپ کا ادب کرتا ہوں۔ ادب کیا چیز ہے، میں اسے تین حصوں میں تقسیم کروں گا۔ کیا میں اپنے ماں باپ سے عزت و احترام سے بات کرتا ہوں۔ کیا میں ان کی ہر بات مانتا ہوں۔ کیا میں بڑھاپے میں ان کا سہارا بنوں گا؟

ایک ناستک ہونے کے ناطے میں کسی بھی آسمانی ہدایت کے بغیر ہر کسی کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک معاشرے آداب کا درجہ رکھتے ہیں۔ میں اس لیے بھی دوسروں کو احترام دیتا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے بھی احترام دیا جائے، جبکہ میرے والدین تو میرے جنم داتا ہیں۔

کیا میں اپنے والدین کی ہر بات مانتا ہوں، اس کا جواب نفی میں ہے۔ میرے والدین پچھلی صدی کے لوگ ہیں، ان کی سوچ اور خیالات اپنے وقتوں کے مطابق شاید صحیح ہوں لیکن اب پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، ان کے اکثر مشورے میرے کام کے نہیں ہیں۔ میرے والد میری شادی اپنے بڑے بھائی کی بیٹی سے کرنا چاہتے تھے، میں نے انکار کر دیا، پٹائی بھی ہوئی لیکن میں ڈٹا رہا، مجھے آج بھی اپنے اس فیصلے پر ندامت نہیں ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو بھی یہی درس دیا ہے کہ میری بات یا مشورے کو اس بنا پر ہرگز نہ ماننا کہ میں تمہارا باپ ہوں اور میرے ہر الٹے سیدھے فیصلے کو مان لینے سے میری عزت افزائی ہوگی۔ اگر تمہیں میری صلاح یا مشورہ صحیح نہ لگے تو بنا لحاظ کیے انکار کر دینا۔ اور مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب میرے بچے اکثر اوقات مجھے غلط ثابت کر کے میرا منہ بند کر دیتے ہیں، ان لمحوں میں مجھے لگتا ہے کہ میں نے ان کی پرورش کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔

کیا میں اپنے والدین کے بڑھاپے کا سہارا بنوں گا؟ انسانی بچہ پیدا ہوتے وقت جس قدر بے آسرا ہوتا ہے شاید کسی دوسری ذی روح کے بچے کو ایسی بے بسی کا سامنا نہ ہو۔ میں پیدائش کے وقت سب انسانی بچوں کی طرح گوشت کے ایک لوتھڑے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ میری ہر قدم ہر حفاظت کی گئی، آج اگر میں ہوں تو اپنے والدین کی وجہ سے ہوں، میرے والدین وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری زندگی کا میرا پہلا قدم اٹھانے میں میری مدد کی، اب وہ اپنی زندگی کے آخری قدم اٹھا رہے ہیں۔ ان کے آخری قدم اٹھانے کے وقتوں میں اگر میں ان کا ساتھ نہ دوں تو لعنت ہے مجھ جیسے احسان فراموش پر۔ میں یہاں پر والدین کی محبت کا ذکر نہیں کر رہا، اگر میں والدین کا ایسے کٹھن وقتوں میں سہارا نہ بن پایا تو شاید زندگی بھر آئینے میں اپنا منہ دیکھنے کی ہمت نہ کر پاؤں۔ لیکن میں یورپ میں رہتا ہوں، میں نے زندگی بھر ریاست کو ٹیکس ادا کیا ہے، ریاست میرے بڑھاپے اور علاج معالجے کی ذمہ دار ہے، چونکہ یہاں پر اولڈز ہوم بہت ہی معیاری ہیں، لہٰذا میں ذاتی طور پر اپنے بڑھاپے کے وقتوں میں اپنے بچوں پر بوجھ بننے کی بجائے اولڈز ہوم میں جانا پسند کروں گا۔

یہی حال مرنے کے بعد کی رسومات کا ہے، اگر میں پاکستان میں ہوتا تو مرنے کے بعد میں کوئی الٹی سیدھی وصیت کر کے اپنے لواحقین کی زندگی میں کانٹے بونا پسند نہ کرنا چاہتا، وہ اپنے حالات کی مناسبت سے اگر مجھے دفن کرتے، جنازہ و فاتحہ خوانی کرواتے، مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، میرے مرنے کی وجہ سے میرے لواحقین کی زندگیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اسی معاشرے کا حصہ بن کر زندہ رہنا ہے۔

لیکن میں یورپ میں مقیم ہوں، میرے بچے میری لاش کے مالک ہوں گے، انہیں جو بھی مناسب لگے گا وہ کریں گے۔ مجھے دفن کر دیں، جلا دیں، سمندر میں پھینک دیں، کسی لیبارٹری کے حوالے کر دیں، یہ ان کا مسئلہ ہے، مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ویسے بھی مرنے کے بعد میرے لیے میرا جسم بے کار ہو جائے گا، میرا جسم مجھے کسی بھی حالت میں دوبارہ زندہ نہیں کر پائے گا، میں گرچہ اس وقت موجود نہیں ہوں گا، لیکن مجھے ان کے کیے گئے کسی بھی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔


Related Articles

ملاحدہ دور حاضر کے نقطہ نظر سے

علامہ نیاز فتح پوری: مذہب کی بنیاد اس خیال پر قائم ہے کہ عالم فطرت کا کوئی ایک مالک ہے، خود دعاؤں کو سنتا ہے، اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور جزا و سزا دیتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ واقعات کی دنیا میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس سے ہمیں ان اعتقادات کی تصدیق ہوسکے۔

الحاد کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

احمد خان: دہریت یا الحاد مذہب نہیں بلکہ مذاہب کا رد ہے۔ جس طرح خلا کوئی شے نہیں بلکہ کسی بھی شے کی عدم موجودگی کو خلا کہا جاتا ہے۔