دھند

دھند

جیسے مدھم سا، نرم سا احساس
جیسے جنگل میں مُشک کی خوشبو
دھند چاروں طرف ہے چھائی ہوئی
ایسا گہرا لطیف سناٹا
سانس لینا سنائی دیتا ہے
کہر ایسا کہ اپنا ہاتھ بھی اب
غور پر ہی دکھائی دیتا ہے
ایک ایسا عجیب سا جادو
جیسے ٹھنڈک لپٹ کے سوئی ہو
اک پرندہ بھی جب نہ جاگا ہو
گھپ اندھیرے سے دن نکلتا ہے
سارے جنگل پہ چپ کی چادر ہے
صبح کچھ کسمسا کے اٹھتی ہے
اک کرن دھوپ سے ذرا پہلے
آکے کہرے میں ٹوٹ جاتی ہے
چار سُو رنگ ہیں، دھنک کے رنگ
میرے قدموں میں رنگ ناچتے ہیں
جیسے قوسِ قزح کو گھیر کے دھند
قید کرنے مجھے ہی آئی ہو
مجھ کو لگتا ہے تیرا سایہ ہے
مجھ کو لگتا ہے کوئی آیا ہے
مجھ سے ملنے، مری تلاش میں تُو

جیسے مدھم سا، نرم سا احساس
جیسے جنگل میں مُشک کی خوشبو
Image: Vilhelm Bjerke Petersen

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا

قسم رب کی
اور اس سب کی
جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا
روایت ہے

ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے

قاسم یعقوب: ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے
اسمِ عظیم کا ورد لبوں پر رکھ کر
روز گھروں سے نکلتے ہیں

میرا بهائی ایک ہواباز تھا

برٹولٹ بریخت: ہماری قوم کے پاس جگہ کی کمی ہے
جنگیں اورعلاقے فتح کرنا
ہمارا قدیم خواب ہے