دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

اگر مجھے بیس منٹ میں کچھ لکھنے کو کہا جائے تو میں کاغذ پر ۷ تک پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں لکھ سکوں گا
___یا شاید___
متعدد بار اپنا نام اور پتہ اس رسم الخط میں/ جو میں نے خود ہی ایجاد کیا تھا
میں ان بیس منٹوں میں اپنے دن بھر کے معمولات کے بارے میں کچھ باتیں لکھ سکتا ہوں
میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں صرف چھٹی والے دن اپنے جوتے پالش کرتا ہوں
یا یہ کہ میں صبح اس وقت اٹھتا ہوں جب دودھ والا پڑوسی کے فلیٹ پر دستک دیتا ہے
میں بیس منٹ میں آپ کو اس بوڑھے مصور کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکوں گا جو تیسری منزل پر عین میرے کمرے کے اوپر رہتا ہے

اگرچہ بیس منٹ کوئی اتنا کم وقت بھی نہیں ہوتا___ خاص طور پر جب آپ بغیر برساتی کے سٹاپ پہ اپنے مطلوبہ نمبر کے روٹ کے انتظار میں کھڑے ہوں___
___یا جب___

دفتر جانے کے لیے آپ کی آنکھ دیر سے کھلے اور پتہ چلے کہ رات آپ صبح کا لباس پریس کرنا بھول گئے تھے

بیس منٹ میں آدمی دفتر سے چھٹی کی درخواست لکھ سکتا ہے مگر اپنی محبوبہ کے نام خط لکھنے کے لیے یہ وقت بہت کم ہے
بیس منٹ کافی ہوتے ہیں/ چائے پینے، ٹائی باندھنے اور ایک زوردار قہقہہ لگانے کے لیے___ مگر کسی بات پر رونے کے لیے 20 منٹ کم پڑ سکتے ہیں
بیس منٹ سوچنے کے لیے کافی ہوتے ہیں
آپ سوچ سکتے ہیں /کوئی کتاب پڑھنے
کسی دوست کو ٹیلی فون کرنے___ ناخن تراشنے یا کسی اُدھوری نظم کو پورا کرنے کے بارے میں
آپ بیس منٹ میں کسی دوست کو منانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں
مگر روٹھے ہوئے کو منانے کے لیے ۲۰ منٹ بہت کم ہوتے ہیں

اگر کچھ برس پہلے اس دن میں ریلوے سٹیشن ۲۰منٹ لیٹ پہنچا ہوتا تو میری اس سے ملاقات ہی نہ ہوئی ہوتی___
کاش اس صبح دودھ والے نے پڑوسی کے فلیٹ پر ۲۰ منٹ لیٹ دستک دی ہوتی
Image: Richard Odabashian


Related Articles

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

عذرا عباس: ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے

میں خود سے مایوس ہوں

صدف فاطمہ: تم وہ ہر حسین منظر تھے
جس سے کائنات میں دیدہ ور سیراب ہیں

بدتمیز

وجیہہ وارثی: میں سوجاتا ہوں خواب آور گولیاں کھا کے
وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*