ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے
ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے
ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے
راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے

ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے
ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو
ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو
تمہیں پہچان کر گلے لگا لیتا ہے

ایک گیت تمہیں قتل کر دیتا ہے
ایک گیت جس سے تم محبت کرتے ہو
ایک گیت جس سے تم نفرت کرتے ہو
تمہارا گلا گھونٹ کر تمہیں قتل کر دیتا ہے

پڑے پڑے ایک کھٹا اور میٹھا گیت
بدذائقہ ہو سکتا ہے
رکھے رکھے ایک سادہ مگر الجھا ہوا گیت
شکن آلود ہو سکتا ہے
ایک گیت دُکھنے لگتا ہے
جب اس میں پیپ پڑ جاتی ہے
یا تمہارے گلے میں پھنس سکتا ہے
جب تم اسے نگلنے لگتے ہو

لیکن ایک گیت بھلایا نہیں جا سکتا
ایک بھلایا ہوا گیت
ایک خون آشام عفریت ہے
جو تمہیں بھنبھوڑ ڈالتا ہے

ایک گیت دہرایا نہیں جا سکتا
ایک دہرایا گیا گیت
ایک موذی عادت ہے
جو تمہیں تھکا دیتی ہے

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا
ایک گایا گیا گیت
ایک بے کار سہولت ہے
جسے تم کبھی استعمال نہیں کر سکتے


Related Articles

امن کا پرندہ

حسین عابد: امن قبرستان میں قید کردیا گیا
اور باہر فاختہ اڑا دی گئی

ہیجڑا

سینہ بند اپنے لیئے میں بھی منگانا چاہوں
مجھ کو حالانکہ یہ معلوم بھی ہے سب کی طرح
کہ مری چھاتیاں وہ پھل بھی نہیں جن کے لیئے
کوئی جنّت بھی لٹا کر نہ پشیماں ٹھہرے

Child Abuse

کوئی نظم ایسی لکھوں میں
کہ جس میں علامت کا پردہ نہ ہو

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*