ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

by Tasneef Haider | مئی 18, 2019 5:23 شام

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ' دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!' پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

'شوق نہیں ہوکا'۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔' کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟'میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔'تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟' اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔'تم کب آئے؟'

کہنے لگا۔۔۔'گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔'
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Source URL: http://www.laaltain.com/ek-phool-k-mushahiday-ka-qisa/