ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔

وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔

اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔

پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔

ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔

تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔

سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

Image: Celestin Faustin


Related Articles

برف کا گھونسلہ

محمد حمید شاہد: ظریں پھسلتے پھسلتے کچن کی دہلیز کے پاس ابھری ہوئی سطح پر ٹھہر گئیں۔ میں وہیں دوزانوں بیٹھ گیا اور انگلیوں سے برف کی ڈھیری کھرچنے لگا

تاریک سورج

پورا قصبہ آج پھر اجتماعی خاموشی کا شکار تھا- بازار بند پڑا تھا اور اس کے مغرب میں قصبہ کے مرکزی چوک میں لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔عجیب سہما ہوا منظرتھا-

تجربہ

سنہری دھوپ پرندے کے سفید پروں پر پڑتی اور وہ روپہلے ہو جاتے۔ پرندہ آج بہت خوش تھا۔