ایک روشن روح

ایک روشن روح

(نصیر احمد ناصر کے لئے ایک نظم )
روس کی شاعرہ :یلنا سپرا نووا / اردو مفہوم سلمیٰ جیلانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شفاف چمکیلی برف سے ٹکرا کر
کوئی خیره کن شعا ع
اداس راہداریوں سے نیچے اترتی ہے
اور سب سے روشن ستارے پر پڑتی ہے
وہ سیرس یا ایلڈ باران ہے
یا کوئی اور
بکریوں کے تھنوں سے دودھ دوہتی ہے
اور ہمیں تسکین کا احساس گھیر لیتا ہے
جیسے بچے کی محبت دل میں جاگتی ہے
اور یہ سب کچھ خالق کے نظام فطرت سے
کتنا قریب دکھائی دیتا ہے

جب حسن کی گرد بیٹھتی ہے
تو ابدیت کے طلوع ہوتے اجالے میں
تم اس مقام کی طرف
جاتے دکھائی دیتے ہو
جہاں باز اڑان بھرتے ہیں
وہ تمام تعریفیں بیان کرتے ہوئے
جو لڑائی کو شکست دے کر
امن کی نوید بن کر
انسانیت کے آسماں پر جگمگاتی ہیں

ایک ایسی روح
جو تحیر خیز عجائب کی دنیا میں پیدا ہوئی ہو
اندھیرے سایوں کو مٹاتی ہو
اور امن و آشتی پینٹ کرتی ہو
جس سے تمام کائنات
متحرک ہو جائے
بہت سی تابناکی
اور بالکل مدھم دھندلکے
سب اک توازن میں
جیسے فطرت
اپنے الوہی تناسب میں
سب کو سنبھالے ہوئے ہے

دانائی کے ارفع عالم کے در کھول کر
سننسی خیزی کو
شفاف پاکیزگی میں تبدیل کرتے ہوئے
تم پہاڑوں کی
بلند و بالا چوٹیاں سر کر جاتے ہو
تب کہیں
یہ انمول تحفہ
شفافیت کے پار سے ابھرتا ہے
اور ہماری روحوں کی
خالص ترین تطہیر کو
انتہائی رفعتوں تک

لے جاتا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salma Jilani

Salma Jilani

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan, she worked as a lecturer for eight years in Govt Commerce College Karachi. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University. She has been teaching in different international tertiary institutes on and off basis. Writing short stories in Urdu is her passion which have been published in renowned quarterly and monthly Urdu literary magazine such as Funoon, Shayer, Adab e Latif, Salis , Sangat and Penslips magazine and in children’s magazines as she writes stories for children as well. She also translates several poems of contemporary poets from all over the world into Urdu and vice versa, since she considers translations work as a bridge among different cultures which bring them closer and remove stereotyping.


Related Articles

میں خود کو پکارنا چاہتا ہوں

سدرہ سحر عمران:میں نہیں جاننا چاہتا
کہ مجھے کس نے گلی کے کونے میں دیکھا تھا؟

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

انور سین رائے: کچھ نہیں بس اتنا چاہتا ہوں
کچھ دیر کے لیے سمٹ جاؤں
کچھ دیر کے لیے
پاؤں پسار کر آنکھیں موند لوں
اور اس سے پہلے دیکھوں
کیسا لگتا ہے سب کچھ
میرے بغیر

عورت کے کام

اے سورج، بارش، جھکے ہوئے آسمان!
اے پہاڑو، سمندرو، پتو اور پتھرو!
اے ستاروں کی چمک اور چاند کی چاندنی!
صرف تمہی وہ سب ہو
جن کو میں اپنا کہہ سکتی ہوں