فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

ہاں یوں ہے
کہ ہم تم بظاہر
زمانے کی چھت پر
ثابت کھڑے ہیں!
سو زینو ں کو چڑھ کر
کوئی آ کے دیکھے
تو سمجھے گا یوں کر
کہ ہم تم وہیں ہیں
جہاں کل کھڑے تھے

یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں!
لگن کی لپٹ ہے
خلاوں کی وسعت
اور ہم دو ستارے ہیں جو جل رہے ہیں
آنکھوں کی باتوں کے بہکائے لوگو
ذرا دل سے دیکھو
کہ ہم چل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

سمجھدار چُپ

چھوٹے سے میلے کا ایک منظر ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے

آسیب زدہ کیل سے ٹکی تصویر

وجیہہ وارثی: تصویر پر بنے ہونٹوں پر ہونٹ ثبت کیے
ہونٹ غائب ہو گئے

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

علی زریون: اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں