فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

ہاں یوں ہے
کہ ہم تم بظاہر
زمانے کی چھت پر
ثابت کھڑے ہیں!
سو زینو ں کو چڑھ کر
کوئی آ کے دیکھے
تو سمجھے گا یوں کر
کہ ہم تم وہیں ہیں
جہاں کل کھڑے تھے

یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں!
لگن کی لپٹ ہے
خلاوں کی وسعت
اور ہم دو ستارے ہیں جو جل رہے ہیں
آنکھوں کی باتوں کے بہکائے لوگو
ذرا دل سے دیکھو
کہ ہم چل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

حسن چوزہ گر

پری زاد نیچے گٹر پر تیرے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن چوزہ گر ہوں
تجھے صبح بازار میں بوڑھے غدار ساجد کی دکان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ خوفناکی تھی، میں جس کی شدت سے نو ماہ مستانہ پھرتا رہا ہوں

کاشی

ورشا گورچھیا: بوڑھے بنارس کے بڑھے ناخنوں
جھریوں سے بنی تھیلیوں
اور چپچپی چمڑی والے ہاتھوں کو چھو کر
یوں لگا کہ تم وہی ہو، جو میں ہوں

سیدھے لوگ آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

ایچ بی بلوچ:مچلھیاں اور سیدھے لوگ
آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے
انہیں کسی بھی وقت
کنڈے سے لٹکایا جا سکتا ہے