فرق کی موت (حسین عابد)

فرق کی موت (حسین عابد)

زندگی اور موت میں
ایک سانس کا فرق ہے
ایک سوچ کا

سانس
اکھڑ سکتی ہے
انکاری دل کی دہلیز پر
پس سکتی ہے آخری دانے کی طرح
روزمرہ کی چکی میں
ضبط ہو سکتی ہے ہیرے کی طرح
بحقِ سرکار
چھلنی ہوسکتی ہے
سستے مذاق کی طرح
امپورٹڈ مشین گن کے قہقہے سے

سوچ
بدل سکتی ہے
صحن میں گرتی پکی جامنیں، آم کا بُور، شام کی بارش، چھاتی میں اڑتی تازہ محبت کی تتلیاں، شانے اور گردن کے بیچ دہکتا بوسہ، رانوں میں مہکتا نمو کا بیج، رنگوں سے اٹے بازار، اینٹ سیمنٹ کا عہدِ وفا، بھٹی میں ڈھلے فولاد کا غرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظر کے واہمے میں
سرائے میں، امتحان گاہ میں، حیات بعد از موت کی تیاری کے اکھاڑے میں
خدا کے جوتے کی نوک پر دھرے ذرے میں

وحشت
اس فرق کی موت ہے
اور موت کی زندگی
Image: Gustav Klimt

Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Related Articles

اس بڈھے کا وائرس

راوی کے کنارے
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود

وہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں؟

نصیر احمد ناصر: ایک عام آدمی کی طرح
تاریخ کا حصہ ہوں
نہ کسی لشکر کی راہ میں رکاوٹ
بے وجہ پکڑے جانے سے ڈرتا ہوں
جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں

بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے مجھ سے