گالی

گالی

میں
کبھی نہیں جان سکا
گالی
جذبے کی کون سی سطح ہے
میں نے کبھی گالی نہیں دی
مگر مجھے ہمیشہ
گالیوں سے دل چسپی رہی
میں ہر روز
ہر طرح کی گالیاں سُنتا ہوں
گالی کسی کو بھی دی جائے
اُسلوب میں عورت ضرور آتی ہے
میری ساری زندگی
لفظوں کے درمیان گزری
مجھے ہمیشہ لفظ نظر آتے ہیں
گالی
لفظوں کی ایک ترتیب کے سوا کُچھ بھی نہیں
میں
گالی دے کر
عام آدمی کی طرح
زندہ رہنا چاہتا ہوں
ایک ترتیب
مجھے عام آدمی بننے نہیں دیتی

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Mustafa Arbab

Mustafa Arbab

Mustafa Arbab was born in a village of District Sanghar,Sindh in 1967.He obtained a masters Degree in urdu from Sindh University.He lives in Mirpur khas.He began his literary career as a short story writer in 1984. A collection of his poems,"Khawab aur Aadmi"was published in 1999.Writing both in Sindhi and Urdu, he is also acknowledged as a translator of Sindhi literature. His work are published in well-established literary journals of the Indo-Pak subcontinent.


Related Articles

تم کہتے ہو

عارفہ شہزاد: مستور محبتوں کے راز اگلتے اگلتے
تم زبان سے ٹپکتی رال پونچھنا بھول گئے ہو

جنگ جُو کرد عورتوں کا گیت

نصیر احمد ناصر: ہم صدائے کوہ ہیں
دشمن ہماری آواز سے ڈرتا ہے
ہمارے نرغے میں آنے سے گھبراتا ہے

تم جو آتے ہو

ابرار احمد: تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے