گیت بنتا رہتا ہے

گیت بنتا رہتا ہے

انتظار سُر ہے اک
مدّتوں جو اک لے میں
خامشی سے بجتا ہے
دور پاس کی چاپیں
تیز دھیمی ہر آہٹ
دستکیں جو دار پہ ہوئیں
اور جو نہیں بھی ہوئیں
بول ہیں جو اس سر میں
وقت بھرتا رہتا ہے
امر چلتی رہتی ہے
گیت بنتا رہتا ہے
Iamge: Duy Huynh

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Swapnil Tiwari

Swapnil Tiwari

سوئپنل تیواری ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر غازی پور میں 1984 میں پیدا ہوئے اور فی الحال ممبئی میں اسکرپٹ رائٹنگ اور نغمہ نگاری کا کام کررہے ہیں، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ہندی کی نئی فکشن نگار نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کی مندرجہ ذیل کہانی ہندوستان میں غریب طبقے کی جد و جہد اور زندگی سے اس کے ایک لاحاصل لیکن اٹوٹ رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔


Related Articles

ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا

ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا

کارواں سے گزارش

مجھے لے چلو
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا

Love is a Punishment

نسرین انجم بھٹی: خون سے رنگے سب راستے محبت سے جدا ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں