گھنٹی کا انشائیہ

گھنٹی کا انشائیہ

یہ سمجھنا ذرا مشکل ہے ، مگر مجھے اپنی زندگی میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ عزیز ہے تو وہ میرے موبائل فون کی گھنٹی ہے۔ حالاں کہ اس میں گھنٹی جیسا کچھ نہیں ، کیوں کہ وہ تو عرصہ دراز پہلے ختم ہوچکی، اب کبھی کسی کسی پرانی ہندی یا انگریزی فلم میں سنائی دے جاتی ہے۔ میں نے اپنے موبائل پر کوئی خاص رنگ بھی سیٹ نہیں کی ہے، میں اسے ضروری نہیں سمجھتا ۔ مگر جب کبھی وہ بجتا ہے تو میرے بدن میں زندگی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی موبائل کے اس پار کھڑا ہو کر مجھے یاد کر رہا ہے اور اس شدت سے یاد کر رہا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ میں اس سے ہم آہنگ ہو جاوں۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، مثلاً آج سے تقریبا دس برس پہلے جب میں نے ایک چھوٹا سا ٹاٹا انڈیکوم کا سیکینڈ ہینڈ موبائل خریدا تھا اس وقت بھی مجھے اپنے موبائل کی گھنٹی سے ایسا ہی عشق تھا۔ حالاں کہ اس وقت بہت کم لوگ مجھے فون کیا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لوگوں کہ پاس موبائل فون ہی نہیں ہوا کرتے تھے ۔میں اس وقت کپڑے کی دکان چالنے والے اپنے ایک دوست کے ساتھ کام کرتا تھا ۔لہذامیں نے کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ جاڑ کر ایک سیکینڈ ہینڈ موبائل خرید لیا تھا۔پھر اس چھوٹے سے موبائل کی گھنٹیوں کی مختلف آوازوں کو سنا اور ایک بہت ہی بے ہنگم سی آواز کو سیٹ کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آواز بے ہنگم ہونے کے ساتھ ساتھ ذرا لاوڈ تھی۔جس سے میرےفون کے بجنے پر میرے اطراف کے لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ میرے پاس موبائل ہے اور مجھے فخر محسوس ہوتا تھا۔ وہ چھوٹا سا فون تھا ۔ مگر میں اسے گھنٹو ں دیکھتا تھا۔ کام کے دوران بھی جب میں کسی کپڑے کو لپیٹ رہا ہوتا اور کاروباری ڈسک پر بچھارہا ہوتا تو میری ایک آنکھ اس دیسک کے نیچے رکھے ہوئے موبائل پر لگی رہتی تھی، پھر جب اچانک اس کی لائٹ جلتی تو میں سمجھ جاتا کہ کسی کا فون آ رہا ہے اور میرے بدن میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔اس کے باوجود میں اس وقت تک فون نہ اٹھاتا جب تک اس کی گھنٹی نہ بج جاتی۔ اس گھنٹی کے بجنے سے مجھے فون کے ہونے اور اپنے ہونے کا بھرپور احساس ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ اس بات پر حیران رہتا ہوں کہ لوگ اپنا فون سائلنٹ پہ کیسے رکھ لیتے ہیں ۔ان کی جیبوں میں پڑا ہوا ان کا فون خاموشی سے جلتا بجھتا رہتا ہے اور انہیں اس بات کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کو میں بے حس تصور کرتا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے اپنا پہلا اسمارٹ فون حاصل کیا تھا ،جی ہا ں خریدا نہیں تھا بلکہ حاصل کیا تھا ، کیوں کہ جس وقت وہ مجھے ملا میں ایک اسمارٹ فون کی کمپنی میں نوکر تھا اور اس کمپنی نے مجھے اپنے موبائل کے فیچر سمجھنے کے لیے ایک عدد فون ہی دے دیا تھا۔ یہ بات بھی آج سے تقریبا آٹھ برس قبل کی ہے ، جب مجھے اس کمپنی کے ذمہ داران کی حماقت پر بہت ہنسی آئی تھی ۔ اس ہنسی میں ایک نوع کی خوشی بھی شامل تھی کہ میں ایک عدد اسمارٹ فون کا مالک بن گیا تھا۔ حالاں کہ میں اس موبائل کو لیے بنا بھی اس کے فیچر سمجھ سکتا تھا، مگر شائد اس بار قسمت ہی کچھ مہربان تھی۔ خیر اس اسمارٹ فون میں میں نے پہلی بار بے شمار گھنٹیوں کی آوازیں سنی تھیں۔اتنی گھنٹیوں کو ایک ساتھ دیکھا تو خوشی کے مارے میری آنکھ بھر آئی ۔ کون ہوگا جو اتنی گھنٹیا بنا لیتا ہوگا۔میں نے گھنٹوں اپنی ان گھنٹیوں کو سنا۔ ایک کے بعد ایک کئیوں کو سننے کے بعد ایک شاندار اور تیز آواز والی گھنٹی کو اپنے موبائل پر سیٹ کیا اور اگلے فون کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے اپنے پہلے اسمارٹ فون کی گھنٹی سے پہلی مرتبہ اس بات کا ادراک حاصل ہوتھا کہ گھنٹیوں کی آواز میں بھی اسمارٹنس اور غیر اسمارٹنس پائی جاتی ہے، کیوں کہ جب پہلی مرتبہ میرے اسمارٹ فون پر کسی شخص کا کال آیا اور اس کی گھنٹی بجی تو میں نے اپنے ان تمام موبائل فونز کے بالمقابل جو اب تک میرے پاس رہ چکے تھے اس فون کی گھنٹی میں ایک نوع کی ملائمیت محسوس کی ۔ یہ گھنٹی تیز تھی مگر اس طرح میرے اور میرے اطراف میں پائے جانے والے لوگوں کے کانوں میں چبھتی نہیں تھی جس طرح میرے چھوٹے موبائل فونز کی گھنٹی چبھا کرتی تھیں۔ حالاں کہ مجھے اس چبھن سے ایک نوع کا عشق ہو چلا تھا ، لیکن میرے اطراف میں پائے جانے والے لوگ ہمیشہ اس گھنٹی کو ایک اوبی ہوئی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ میں ان کے اس انداز سے بھی محظوظ ہی ہوتا تھا، کیوں کہ اس سے مجھے ان کے پاس موبائل کے نہ موجود ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ اپنی نئی گھنٹیوں سے میں ذرا دیر میں مانوس ہوا مگر جب میرا ان سے ایک رشتہ بن گیا تب مجھے ان دوسرے چھوٹے موبائل فونز کی گھنٹیاں غیر ثقافتی محسوس ہونے لگیں۔ جن پر کبھی میں فریفتہ تھا۔ اب میں ان سے الگ ہی رہنا پسند کرتا تھا اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسمارٹ فون کی گھنٹی پر میں نے کبھی کوئی گانا لگانا پسند نہیں کیا، کیوں کہ مجھے اس سے اپنے موبائل کی شناخت خطرے میں پڑتی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے گانا صرف گانے والے مقامات اور اس سے مخصوص آلوں پر ہی درست معلوم ہوتاہے ۔ اپنی گھنٹیوں میں اس کو شامل کرنا میں گھنٹیوں کی توہین سمجھتا ہوں ۔

میرےپاس اب بھی ایک اسمارٹ فون ہے اور اس پر ایک نہایت ہی دل آویز گھنٹی لگی ہوئی ہے۔ جس کے بجنے سے ایک انجانی قوت میرے جسم میں تیر جاتی ہے۔ میں نے اپنی گھنٹیوں سے ایک ایسا تعلق بنایا ہے کہ جب کبھی میرا موبائل بجتا ہے تو میرے قدم خود بہ خود اس کی طرف اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ خواہ موبائل کتنا ہی دور اور نزدیک کیوں نہ ہو، میں کبھی اپنے بجتے ہوئے فون کی گھنٹی بند نہیں کرتا ، بلکہ فون اٹھا لینے کی صورت میں جب اس کی آواز اچانک رک جاتی ہے تو مجھے ایک طرح کی بے چینی محسوس ہوتی ہے یا یوں کہوں کہ اس سے میرا وہ سکون جاتا رہتا ہے جو گھنٹی کے شور سے پیدا ہوتا ہے۔ مجھے اپنے بجتے ہوئے فون کے قریب جانا بہت پسند ہے۔ اس لیے میں اسے زیادہ تر خود سے دور ہی رکھتا ہوں ۔ پھر جب فون بجتا ہے تو میں چونک کر اٹھتا ہوں ایک پر کیف عالم میں آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھتا ہوں ۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ باتھ روم سے نکلتے نکلتے یا کچن سے کمرے تک آتے آتے فون کی گھنٹی بجتے بجتے بند ہو جاتی ہے اور مجھ پر اضطراب تاری ہو جاتا ہے۔ ایسے عالم میں میں فون کرنے والے کی بے صبری کو لعن تعن کرتا ہوں کہ دوو چار گھنٹیوں میں ہی اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیا۔ ایسے لوگوں کو غصے کے عالم میں میں پلٹ کر فون نہیں کرتا۔ مگر ایک مختلف نوع کی جمالیات مجھے کسی بھی شخص کو فون کرنے پر اکساتی رہتی ہے اور وہ کوئی اور شئے نہیں، بلکہ موبائل کے اسپیکر سے چھن کے آنے والی وہ تھر تھراتی ہوئی گھنٹی کی آواز ہی ہے جو رک رک کر بجتی ہے۔ مجھے اس آواز میں قیامت کے گہرے آثار نظر آتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کسی کو یہ بھی عجیب لگے لیکن جب جب میں اس تھر تھراتی ہوئی غیر مترنم گھنٹی کو سنتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ موت کا فرشتہ بہت آہستگی سے میری جانب بڑھ رہا ہے۔ وہ ہر دو قدم کے بعد رک جاتا ہے اور پھر میری طرف بڑھتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سامنے والے کے فون اٹھاتے ہی میرا یہ تصور ہوا ہوجاتا ہے۔ مجھے اپنے فون کی گھنٹی کے ساتھ ساتھ میسج اور ای –میل اور فیس بک یا واٹ سپ نوٹی فیکشن کی باریک اور گردن پر ہاتھ پھیرتی چھوٹی گھنٹیاں بھی بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں ۔ اکثر تو میں رات بھر میں کئی بار صرف ان گھنٹیوں کو سننے کے لیے اپنا انٹر نیٹ ڈاٹا بند نہیں کرتا یا وائی فائی آن رہنے دیتا ہوں۔ کئی کئی دنوں تک جب میرے موبائل پر کوئی فون نہیں کرتا تو میں انہیں چھوٹی موٹی گھنٹیوں کے سہارے اپنا کام چلاتا رہتا ہوں ۔ پھر جن دنو ں کئی فون آتے ہیں تو ان گھنٹیوں کو وقت دینے کے لیے اپنے فیس بک پر کچھ لکھ کر لگا دیتا ہوں تاکہ اس کی نوٹیفیکیشن سے میرا اور ان گھنٹیوں کا رشتہ ہموار رہے۔ میں ایک دن میں کئی کئی بار اپنے موبائل فون کو صرف انہیں گھنٹیوں کی وجہ سے اپنی جیب سے نکالتا ہوں ، ان کو بجتا ہوا سنتا ہوں اور پھر جیب میں رکھ دیتا ہوں اور ہمیشہ ان موبائل کمپنیوں کو دعا دیتا ہوں جنہوں نے فون کی موجودہ حالت کو متحرک بنانے کے لیے ان میں ان مختلف المزاج گھنٹیوں کو شامل کیا۔ مجھے وہ لوگ بہت ہی مردہ اور بے جان محسوس ہوتے ہیں جو ان گھنٹیوں سے بچنے کے لیے اپنا فون سائلنٹ پر رکھتے ہیں ، اللہ جانے انہیں کس طرح اس عمل سے گزرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ میں تو اپنا فون کسی بھی حال میں خاموش نہیں کرتا ، پھر خواہ وہ کوئی محفل مشاعرہ ہو، رقص ہو، سنیما ہو یا سیمینار، کیوں کہ مجھے اپنی یہ گھنٹیا دنیا کے کسی بھی ثقافتی عمل سے ہزار گنا زیادہ عزیز ہیں ۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

فسطائیت کیا ہے

بنیتو مسولینی (1883-1945)   (مسولینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اٹلی کے فسطائی دور میں ۱۹۲۲ سے ۱۹۴۵تک

(غزل - (ظفر خان

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے

ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے

اردو گرائمر برائے نیا پاکستان

چونکہ نیا پاکستان بن گیا ہے۔ اس لیے اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ نصاب بھی نیا ہو۔
اردو قواعدوانشاء کی انقلابی تدریس کے لئے نیا نصاب پیش خدمت ہے۔