غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !!
غلام گردشوں کے نگہبان ستارے
فرق نہیں کرتے
کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں
اتر آتے ہیں
بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں
ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے
یا کسی بھی روزن سے
کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان
حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی
ہمیں روک نہیں پاتے
تمہارے گال پر چمکنے سے !!
Image: Esam Jlilati

Siddique Shahid

Siddique Shahid

صدیق شاہد کا تعلق گجرات سے ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات سے اینوائرنمنٹل سائنسز میں بیچلر کیا اور قلمکار کریٹو رائٹنگ فورم کا حصہ رہے. جی سی یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرز کیا اور ادبی زندگی کا زیادہ حصہ بھی لاہور میں گزارا. غزل اور نظم ایک جتنی پیاری ہیں. آج کل پی ایچ ڈی کی غرض سے بیجنگ چین میں ہیں۔


Related Articles

موزارت سوناتا نمبر11

ستیہ پال آنند: مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!

ٹیڑھی پسلی سے بنی لڑکی

حفیظ تبسم:
اس نے تفریحی وقفے میں رسی کودنے کی بجائے جوابی نعرہ ایجاد کیا
اور باریش ریڈیو کے سامنے رکھ کر دیا

اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

جنید الدین: ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*