گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر
کاغذی گلوب نے
تیزی سے حرکت کی
اور مجھے کئی حصوں میں
منقسم کردیا
میں نہیں جانتا
میرا کون سا ٹکڑا
گلوب کے کس حصے میں گرا
یا اس کی سطح میں
جذب ہو کر رہ گیا

جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر
زندگی نے اُن کے ٹکڑوں کو کہیں پھینک دیا تھا
رگوں میں تیزی سے گردش کرتے
خون کی دھند میں
وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دیے
لیکن
جب سے رات کی انگلیوں میں کرچیاں بھری ہوئی ہیں
اسے پسلیوں میں ٹہوکے دینے کی عادت پڑ گئی ہے
یہ سمجھے بغیر
کہ ایک منقسم بدن کے کسی حصے میں پسلی نہیں ہوتی
اورکوئی مضطرب اداس بے خوابی
پیہم رائگانی کا حساب نہیں کر سکتی

میں کڑے جتن کر کے
اپنا بدن سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں
میری روح
پانی پر تیرتے کنول چننے میں مصروف ہو جاتی ہے
مگر آنکھیں دُور کہیں
تم سے منسوب اُس بینچ پر جا بیٹھتی ہیں
جس کے ارد گرد پڑے
بجھی ہوئی سگرٹوں کے
ان گنت ٹکڑے اٹھا کر
زندگی پھر
ٹوٹے ہوئے گلوب کی سرحدوں پر
گہرے کش لگانے لگتی ہے!


Related Articles

اللہ ہو سے عالمِ ہو تک

ستیہ پال آنند: اپنے ہی پانی مٹی سے اک ساعت ایسی گھڑ لیں
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!

ایک خط: روش ندیم کے نام

حفیظ تبسم: روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے

وصل گزیدہ

جمیل الرحمٰن: داستان
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں