گونگا گلو (جیم عباسی)

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔


Related Articles

صاحب ، کتا اور چور

بھانت بھانت کے کتے بھانت بھانت کے لہجوں میں بھونک بھونک کر اپنے وجود، اپنی ذات اور نسل کی پہچان بتا رہے تھے۔

جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی!

محمد حمید شاہد: کہا جا سکتا ہے یہ کہانی ابھی تک اندھا آئینہ ہے۔ ایسا غیر شفاف آئینہ جس میں سب چہرے دھندلے ہو جاتے ہیں۔

کہانی کا سنگ میل

ڈاکٹر محمد آصف زہری: اور تکمیل تو ایک خلا کا نام ہے۔ ایک نقطہ انجام کے ساتھ ساتھ ایک نقطہ ابتداء۔ بلکہ دونوں کے درمیان ایک مختصر تریں لمحہ۔