حیرت کا شکار (رضوان علی)

حیرت کا شکار (رضوان علی)

کل ایسا لگا
کہ جیسے کسی جنگلی جانور نے
پینترہ بدل کر
میری کمر پہ کاٹ لیا ہو

سینہ، گردن، سر تو شاید
ایک آدھ زخم سہہ بھی جاتا
لیکن کمر سے جب یکلخت
گوشت کا بڑا سا ٹکڑا
کاٹ کر نکال دیا جائے
تو شکار وہیں ڈھیر ہو جاتا ہے

اور میں زمین پہ گرا بے بسی سے
اس جنگلی جانور کی طرف دیکھتا رہا
ارے، یہ تو میرا برسوں پرانا پالتو کتا ہے!!

Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے

علی زریون: آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا
تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں
دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟

نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو

موم بتی سے معاشقہ، اندھیروں کے بغیر

میں کیسے سمجھاؤں کہ کبھی
دیکھنے کے لیے روشنی بجھانی پڑتی ہے
عالمِ دید
منظروں کے دل
اندھیرے کے سینے پر بلکتے ہیں

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*