ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے
جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے
جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس بوسے کو
جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا
اور نہیں نکلتا

اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے
جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا گیا
جب ہم اپنی دوپہر کا بیان کر رہے تھے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس آدمی کو
جو اپنے فاقے پر
لوہے کی چادریں بچھاتا ہے

اس لڑکی کو بھول جانا چاہیئے
جو وقت کو
دواؤں کی شیشوں میں بند کرتی ہے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس ملبے سے
جس کا نام دل ہے
کسی کو زندہ نکالا جا سکتا ہے

ہمیں کچھ لفظوں کو بالکل بھول جانا چاہئے
مثلاً
بنی نوع انسان
ٰImage: stacey Friedman


Related Articles

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

علی زریون: اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں

پانی میں گم خواب

نصیر احمد ناصر: رقص کے تماشے میں
ارض و شمس ہوتے ہیں
اور خدا نہیں ہوتا

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*