ہمارے لوگ

ہمارے لوگ

اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
ہم سب اپنے اپ سے جھوٹ بولتے ہیں
کہ "ہم ٹھیک ہیں"
لیکن ہماری روحوں کے کھلے ہوئے زخموں سے
لہو بہہ رہا ہے
ہم سب مل کے
اپنے اپنے زخموں کو سینے سے لگائے
چپ چاپ انہیں سہلاتے رہتے ہیں
لیس کورٹ اور ریلز کی برف پگھل رہی ہے
کینڈین گیز گھروں کی طرف لوٹ رہی ہیں
واشنگٹن سکوائر پارک میں
درختوں پر سبزہ پھوٹ رہا ہے
اور سبز جیکٹ والے فوجی
اپنی طاقت کا اشتہار بانٹ رہے ہیں
وہ ایک دوسرے سے سر گوشی کرتے ہیں
"جوڑ جوڑ ڈھیلے پڑ چکے ہیں"
"دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جوڑ جوڑ سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں"
اور میں بنچ پر بیٹھی
سورج کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہوں
مجھے اپنا گھر یاد آرہا ہے
میں اپنے کھیتوں کی ہوا سو نگھ رہی ہوں
میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں برچھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے

نصیر احمد ناصر: دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے
جن کی خوراک
معصوم روحیں ہوتی ہیں
وہ جانوروں کی ہوں یا انسانوں کی

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

عذرا عباس: یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا

نیا والو

لارا سالومن: میرے خاندان میں دل کے امراض عام ہیں۔ میرے والد کو اپنے تیسرے عشرے کے آغاز میں اپنا ایک والو، سور کے والو سے بدلوانا پڑا اور میرے چچا کی وفات پچاس کے پیٹے میں ہارٹ فیل ہونے سے ہوئی۔