ہمارے لوگ

ہمارے لوگ

اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
ہم سب اپنے اپ سے جھوٹ بولتے ہیں
کہ "ہم ٹھیک ہیں"
لیکن ہماری روحوں کے کھلے ہوئے زخموں سے
لہو بہہ رہا ہے
ہم سب مل کے
اپنے اپنے زخموں کو سینے سے لگائے
چپ چاپ انہیں سہلاتے رہتے ہیں
لیس کورٹ اور ریلز کی برف پگھل رہی ہے
کینڈین گیز گھروں کی طرف لوٹ رہی ہیں
واشنگٹن سکوائر پارک میں
درختوں پر سبزہ پھوٹ رہا ہے
اور سبز جیکٹ والے فوجی
اپنی طاقت کا اشتہار بانٹ رہے ہیں
وہ ایک دوسرے سے سر گوشی کرتے ہیں
"جوڑ جوڑ ڈھیلے پڑ چکے ہیں"
"دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جوڑ جوڑ سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں"
اور میں بنچ پر بیٹھی
سورج کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہوں
مجھے اپنا گھر یاد آرہا ہے
میں اپنے کھیتوں کی ہوا سو نگھ رہی ہوں
میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں برچھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے


Related Articles

امیزون

ھناء خان:
میں نے اک دن اتنا پوچھا
کیا مصنوعی ٹانگیں، بازو بھی ملتے ہیں؟
دل، گردے اور آنکھیں بھی
تھوڑے زیادہ پیسے دے کر
مل جاتی ہیں دو گھنٹے میں؟

بہت یاد آتے ہیں

بہت یاد آتے ہی چھوٹے ہو جانے والے کپڑے ، فراموش کردہ تعلق اور پرانی چوٹوں کے نشان - ----اولین

اب ہمیں کون دفنائے گا؟

مگر نہ جانے کیوں
کچھ چیختی آوازیں
ابھی تک
اس کے تعاقب میں تھیں:
ایدھی بابا !"
اب ہمیں کون دفنائے گا؟