دشمن پر حملے میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کا مارا جانا

دشمن پر حملے میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کا مارا جانا

حال ہی میں قندوز میں ایک مدرسے پر حملے میں بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ جنگ یا حالت امن کے دوران بچوں، عورتوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیئے۔ اس واقعے پر بحث کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے اس قسم کے حملوں کو جدید دور کی پیداوار اور ایک "غیر مسلم رواج" کے طور پر پیش کیا گیا۔ گو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خطرات اور واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے تاہم اس موقع پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسلم فقہاء اور آئمہ کرام بھی جنگ کے دوران بلاارادہ بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں کی تاویلات پیش کرتے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، جنگ جہاں بھی ہوئی اس کے نتیجے میں بچے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ہمارے نزدیک جنگ کوئی بھی ہو، کہیں بھی ہو، کبھی بھی ہو، کسی بھی عقیدے کے افراد کے مابین ہو، اس کے دوران عام شہریوں خاص کر بچوں اور عورتوں کی ہلاکتیں غیر انسانی فعل ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ درج ذیل حوالے شعیب محمد کی تحقیق کے ذریعے سامنے آئے ہیں، ان حوالوں کا مطالعہ قندوز کے حملے میں مارے جانے والے عام شہریوں کی ہلاکت کا غم تو کم نہیں کر سکتا مگر اس حملے نتیجے میں ہونے والی بحث کا معیار بہتر کرنے کے لیے ضرور مفید ثابت ہو گا۔

1) جلیل القدر اسلامی فقیہ و امام شافعی فرماتے ہیں: "جب دشمن پہاڑ، قلعے، خندق، کانٹے دار جھاڑیوں یا کسی بھی محفوظ جگہ پناہ لے تو اس پر منجنیق یا عرادہ کے گولے، آگ، بچھو، سانپ اور تکلیف دینے والی کوئی بھی چیز پھینکنا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں غرق کرنے یا کیچڑ میں دھنسانے کے لئے ان پر پانی کھول دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ان کے ساتھ عورتیں، بچے یا راہب ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
( کتاب الام ، ج4 ص257)

امام شافعی کفار پر اچانک حملہ کرنے کی بابت فرماتے ہیں: "یہ ممکن ہے کہ شبِ خون یا اچانک حملہ میں بچے اور عورتیں بھی کام آ جائیں (یعنی مارے جائیں)، لہٰذا ان کے بارے میں گناہ یا کفارہ یا دیت و قصاص ساقط متصور ہو گا کیونکہ شبِ خون اور اچانک حملہ ان کے لئے مباح کر دیا گیا ہے اور ان کے حق میں اسلامی حرمت نہیں رکھی گئی۔"
(کتاب الرسالہ مترجم، ص191، طبع محمد سعید اینڈ سنز کراچی)

2) فقہ حنفی کے مشہور امام علامہ سرخسی فرماتے ہیں: "اہل حرب کے شہر میں پانی چھوڑنے، انہیں آگ سے جلا ڈالنے اور ان پر منجنیق سے گولے برسانے میں کچھ حرج نہیں، اگرچہ ان کے درمیان بچے اور مسلمان قیدی یا مسلمان تاجر موجود ہوں۔"
(المبسوط، ج10 ص64)

3) فقہ مالکی کے عالم امام ابو عبداللہ المواق لکھتے ہیں: "ابن القاسم نے فرمایا: کفار کے قلعوں پر منجنیق سے گولہ باری کرنے اور ان کی خوراک اور پانی روک دینے میں کچھ حرج نہیں ، خواہ ان کے درمیان مسلمان یا چھوٹے بچے ہی کیوں نہ موجود ہوں۔یہی بات (امام) اشہب نے بھی فرمائی ہے۔"
(التاج والإكليل لمختصر خليل، ج4 ص544)

4) قفہ حنبلی کے عالم علامہ منصور بن یونس البہوتی منجنیق کے بارے لکھتے ہیں: "امام احمد بن حنبل کی رائے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا استعمال ضرورتاً اور بلا ضرورت دونوں طرح جائز ہے۔ (اور) ان پر (آگ کے) گولے پھینکنا جائز ہے، (ان کا راستہ کاٹنا) جائز ہے۔ ان کا (پانی) کاٹنا یا کھول دینا جائز ہے۔ (ان کی آباد عمارتوں کو منہدم کرنا) بھی جائز ہے خواہ عورتیں اور بچے وغیرہ بھی ضمناً مارے جائیں کیونکہ یہ شبِ خون مارنے کی ہی مانند ہے۔"
(شرح منتهى الإرادات، ج1 ص623)
نوٹ: اس عبارت میں بریکٹوں کے الفاظ خود عبارت کا ہی حصہ ہیں کہ جن کی تشریح بریکٹ کے باہر ساتھ ساتھ علامہ بہوتی نے کی ہے۔

5) مشہور امام ابن حجر الہیتمی لکھتے ہیں: "(کفار کو ان کے علاقوں میں محصور کرنا جائز ہے) اور ایسے ہی دیگر حصار (نیز ان پر پانی چھوڑ دینا) اور ان کا پانی کاٹ دینا ، (ان پر آگ یا منجنیق کے گولے برسانا) اور ایسے دوسرے افعال جائز ہیں، اگرچہ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں اور خواہ ہم یہ سب تدبیریں استعمال کئے بغیر بھی ان پر قبضہ پا سکتے ہوں۔"
(تحفة المحتاج في شرح المنهاج، ج9ص241)
نوٹ: اس عبارت میں بریکٹوں کے الفاظ خود عبارت کا ہی حصہ ہیں کہ جن کی تشریح بریکٹ کے باہر ساتھ ساتھ علامہ ابن حجر الہیتمی نے کی ہے۔

6) مشہور و معروف محدث امام بیہقی باب باندھتے ہوئے فرماتے ہیں: شبِ خون (اچانک حملہ) اور چھاپہ مار کاروائیوں میں عورتوں اور بچوں کا بغیر قصد قتل ہونا اور جو اس کے جواز کے بارے میں وارد ہوا ہے۔
(سنن کبریٰ بیہقی، ج9 ص78، قبل حدیث 18091)

7) مشہور محدث و فقیہ امام نووی باب باندھتے ہوئے فرماتے ہیں: شبِ خون میں بلاارادہ عورتوں اور بچوں کے قتل ہو جانے کا جواز
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، قبل حدیث 1745)

امام نووی مزید لکھتے ہیں: "ہمارا (یعنی شوافع)، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ جب رات کو کافروں پر حملہ کیا جائے اور رات کے اندھیرے میں مردوں، عورتوں اور بچوں میں امتیاز نہ ہو سکے اور وہ اچانک مارے جائیں تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔"
(شرح صحیح مسلم،ج12ص49-50، تحت حدیث 1745،1746)

نوٹ: ان تمام عبارات و نظریات سے ہمارا ہرگز اتفاق نہیں ہے بلکہ ہماری نظر میں بلاامتیاز مذہب و مسلک یا رنگ و نسل معصوم عوام بالخصوص خواتین اور بچوں کا خون بہانا اور انہیں نقصان پہنچانا ہرگز کسی صورت کوئی جواز نہیں پا سکتا۔

درج بالا عبارات کا پیش کرنے کا مقصد محض تصویر کا وہ دوسرا رخ دکھانا ہے کہ جب ہم سُپر پاور تھے تو تب ہمارے اسلاف اور اکابرین جنگی اخلاقیات کا کون سا نظریہ پیش فرماتے تھے۔ واللہ اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا حوالوں کی عربی عبارات
1) وإذا تحصن العدو في جبل أو حصن أو خندق أو بحسك أو بما يتحصن به فلا بأس أن يرموا بالمجانيق والعرادات والنيران والعقارب والحيات وكل ما يكرهونه وأن يبثقوا عليهم الماء ليغرقوهم أو يوحلوهم فيه وسواء كان معهم الأطفال والنساء والرهبان أو لم يكونوا

2) ولا بأس بإرساله الماء إلى مدينة أهل الحرب وإحراقهم بالنار ورميهم بالمنجنيق وإن كان فيهم أطفال أو ناس من المسلمين أسرى أو تجار

3) ابن القاسم: لا بأس أن ترمى حصونهم بالمنجنيق ويقطع عنهم المير والماء وإن كان فيهم مسلمون أو ذرية وقاله أشهب.

4) فظاهر كلام أحمد جواز مع الحاجة وعدمها.(و) يجوز رميهم (بنار، و) يجوز (قطع سابلة) أي طريق.(و) قطع (ماء) عنهم (فتحه ليغرقهم، و) يجوز (هدم عامرهم) وإن تضمن إتلاف، نحو نساء وصبيان ; لأنه في معنى التبييت۔

5) (ويجوز حصار الكفار في البلاد والقلاع) وغيرها (وإرسال الماء عليهم) وقطعه عنهم. (ورميهم بنار ومنجنيق) وغيرهما وإن كان فيهم نساء وصبيان ولو قدرنا عليهم بدون ذلك

6) باب قتل النساء والصبيان في التبييت والغارة من غير قصد، وما ورد في إباحة التبييت

7) باب جواز قتل النساء والصبيان في البيات من غير تعمد


Related Articles

ماضی کے مسافر

محمد علی شہباز: کیا انسان کبھی ایسی مشین تیار کر سکے گا جو اسے ماضی یا مستقبل میں فوری طور پر پہنچا سکے؟

شیعہ سُنی اختلافات کی نوعیت

امجد عباس: اسلام میں شیعہ اور سُنی دو بڑے فرقے شروع سے موجود رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت و جانشینی کے سیاسی نوعیت کے اختلاف سے یہ اُمت کھُل کر اِن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

کیا قتل اور زنا بالجبر کے مجرم آیت محاربہ کے تحت آ سکتے ہیں؟

شعیب محمد: پُر تشدد قتل اور زنا بالجبر کے مجرموں کو محارب قرار بھی دے دیا جائے تو ان پر اس حد کا اطلاق آسان نہیں اور شرعی طور پر آپ کو پھر حدود اور قصاص کے شرعی نصاب و شرائط کی طرف ہی لوٹنا پڑے گا۔