ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

by Sidra Sahar Imran | مئی 10, 2019 12:13 صبح

ہنسی کی جھوٹن

لوگ
ہمارے دکھوں پر
کپاس کے پھول
رکھتے رکھتے
قہقہے ڈال جاتے ہیں
ہم ان قہقہوں کو
اپنے جوتوں کی
نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر
دبائیں
تو نفرت کی نیلی نہر
پھوٹ پڑے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کی گم شدہ پازیبیں

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں
ایک دوسرے کو ہجر بھیجا
تم میرے ہونٹوں سے
کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے
اور میں تمہاری آنکھوں سے
آنسوؤں کی طرح بے دخل ہوگئی
کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں
بڑی شدت سے جل رہی ہوں گی
مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے
دیکھو ہمارے اندر
کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں
کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟
نہیں ۔۔
میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدم ہمارا کچھ نہیں لگتا

ہم معذوری کے لیے
جنمے گئے
ہمارے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان
اور زبانیں
تمہارے کھیل کا حصہ بن گئیں
اور ہم
ٹوٹی ہوئی چپلوں کی طرح
گھسٹ گھسٹ کر چلتے رہے
سڑکیں ہمیں پہچانتی ہیں
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا شناختی کارڈ کوئی نہیں
ہماری گردنوں سے
غدار نسلوں کی ہڈیاں
لٹکی ہوئی ہیں
ہم نسلا حرامی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وفاداری کی نمبر پلیٹ

کپاس آنکھوں سے چنی جاچکی ہے
اب وہی ستارے بے لباس ہوں گے
جن کے حصے کا وقت ادھیڑ دیا گیا
خواب ۔۔۔مصر پہنچنے سے پہلے پہلے
مکڑی کے جالوں میں بدل جائیں گے
اور ہم ۔ ۔محبت کی ناجائز زمین پر
قدیم حویلی کی طرح
مشکوک کھڑکیوں سے جھانکیں گے
سلاخیں
ہماری آنکھیں ناپ کر بنائی گئیں
اور کنویں
ہماری قبریں
ہم نے کتنی صدیاں
اپنی آنکھوں کی پتھریلی زمین میں
نمک کی فصلیں اگائیں
پھر بھی ہمارے دل
تہہ خانوں میں چنوائے گئے
اب ہمارے پاس قیمتی کیا ہے
سوائے تیری پہنائی ہوئی زنجیر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم کن موسموں کا سیاہ دن منائیں؟

شور سے خالی
سیمنٹ کی جالیوں میں
کتنی آنکھیں زنگ سے پینٹ کی گئیں
مگر ۔۔۔
انتظار کا پانی مرنے میں نہیں آتا
راستے ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے
گونگے پتھر ہوگئے
اوردرختوں کی کلائیاں
گجروں سے خالی
وقت کے باٹ میں
یکطرفہ خوابوں کا وزن
کبھی پورا نہیں پڑتا
عشق آنکھوں سے مہنگا ہے
اور ۔۔حویلیوں میں لڑکیاں نہیں
بغیر کتبوں کے خواب دفن ہیں
کوئی قبر کس کے نام کی ہے
کون جانے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Image: P Gnana

Source URL: http://www.laaltain.com/hansi-ki-jhotan-and-other-poems/