ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ
اور کسی سبز آنکھ میں
تمہارے چہرے نہ کھل سکیں
تم وہی ہو
جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا
اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے
ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے
منفی اعداد ہیں
تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر
اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو
اور ہم اپنے پیٹ پتھروں سے باندھ کر
خوش ہیں
ہمارے بعد مٹی کبھی سونا نہیں ہوسکے گی
اور تمہارے پیتل جیسے پیر
بدعاؤں کی طرح
آسمان پر ڈولتے پھریں گے
مگر خدا ساتویں کھڑکی نہیں کھولے گا
تم اپنی قبریں لے کر کہاں جاؤ گے؟
Image: Alexander Petrovich Botvinov

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

نرم گھاس میں سرگوشیاں

ہانس بورلی: تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں

زبان

نزارقبانی: میں نے کچھ نہیں کہا
اس عورت سے
جس سے میں محبت کرتا ہوں