ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
مر جاتے ہیں

ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا
باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے
کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا
ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں

ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے
جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں
اور ایک زندگی
جو کسی لڑکی کے نام کر دی جاتی ہے

جب سورج مر جاتا ہے
ہم چھت پر ٹہلتے ہوئے
پڑوس میں رہنے والی عورتوں کو سونگھتے ہیں
جب فسادات میں مرنے والوں کے اعضاء اکٹھے کیے جارہے ہوتے ہیں
ہم کسی اخباری تصویر پر پنسل سے
مونچھیں بنا رہے ہوتے ہیں

ہم موٹے ہو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود زندہ رہتے ہیں

عین اُس وقت /جب ہم خواب میں
کسی نو عمر لڑکی کے بریزئیر کا ہُک کھول رہے ہوتے ہیں
ایک بوڑھی چڑیل ہمارے مُنہ میں پیشاب کر دیتی ہے

جب کوّے اپنا قومی ترانہ پڑھ رہے ہوتے ہیں
سمندر ہمیں خودکُشی کے دعوت نامے بھیجتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ہم
آگ کا حمل ٹیسٹ کروانے کے لیے جہنم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں
ہمارے ہاتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں
ہمارے پائوں چُرا لیے جاتے ہیں
دروازہ دیوار میں تبدیل ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
آگ کے حمل کی طرح گِر جاتے ہیں


Related Articles

مَرے ہوؤں کی موت

نصیر احمد ناصر: جو پہلے سے مر چکے ہوں
ان کے مرنے کا اعلان عجیب لگتا ہے

بہت یاد آتے ہیں

بہت یاد آتے ہی چھوٹے ہو جانے والے کپڑے ، فراموش کردہ تعلق اور پرانی چوٹوں کے نشان - ----اولین

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ابرار احمد: اور اگر تم کہتے ہو ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے
تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*