اک کسی دن

اک کسی دن

سپاٹ چہروں، اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
یہاں میں برسوں سے ہوں مگر
خود کو اجنبی کی طرح اکیلا ہی پا رہا ہوں
یہاں تو رستے تلک بچا کے نگاہ مجھ سے نکل رہے ہیں
کہ جیسے مجھ سے ہوئے مخاطب تو خندقوں میں پھسل پڑیں گے
عمارتیں دیکھتی ہیں مجھ کو
کہ جیسے میں اشتہار ہوں ایک پھوہڑ ان چاہا اور سستا
کہیں نہیں ہوں نظر میں لوگوں کی آج بھی میں
بس اک خلا ہوں، اگ آئے ہیں ہاتھ پاؤں جس کے
خلاؤں کو کوئی نام کیا دے؟
سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے
پڑا ہی رہتا ہے ایک اجگر کی طرح جی سے
نگل لی ہو بھیڑ اک کسی دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Image: Pawel kuczynski

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Swapnil Tiwari

Swapnil Tiwari

سوئپنل تیواری ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر غازی پور میں 1984 میں پیدا ہوئے اور فی الحال ممبئی میں اسکرپٹ رائٹنگ اور نغمہ نگاری کا کام کررہے ہیں، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ہندی کی نئی فکشن نگار نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کی مندرجہ ذیل کہانی ہندوستان میں غریب طبقے کی جد و جہد اور زندگی سے اس کے ایک لاحاصل لیکن اٹوٹ رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔


Related Articles

تاریخ کا آخری جنم

نصیر احمد ناصر: تم جانتی ہو
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے

مسلسل موت

جہاں آراء تبسم: میں پہلی بار جھولے میں مری تھی
جب میرے بابا نے مجھ کو دکھ سے دیکھا تھا

کایا کا کرب

آفتاب اقبال شمیم: اس نے چاہا
بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے
مگر شاخوں سے مرجھائے ہوئے پتوں کی صورت
ہاتھ اس کے بازوؤں سے
گر چکے تھے