اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم
ابھی ابھی
الماری کے اک کونے سے ملی ہے
دبک کر بیٹھی
پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم
کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی
اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے
ہم دونوں کی باتیں تھیں
دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی
گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے
اِک اکلوتی پینٹنگ تھی
جس میں مَیں نے
تمھارے کہنے پر
نیلے رنگ سے اسٹروک لگائے تھے
میری جھولتی کرسی کے سائے میں رکھی کتابیں تھیں
جن کو پڑھ کر ہم
گھر والوں پر رعب جمایا کرتے تھے
مشکل مشکل باتیں کر کے ہم منہ ہی منہ میں ہنستے تھے
گھر والے سب عاجز آ کر
ہم کو تنہا چھوڑ دیتے تھے
میز پہ رکھے دو مگ بھی تھے
جن میں ہم آدھی چائے چھوڑ کے
بھول گئے تھے
ایک قلم تھا ڈھیروں کاغذ تھے
اس نظم کے سطروں میں کیسی میٹھی باتیں ہیں
لیکن اب اس نظم کے پیلے کاغذ پر
وقت نے سلوٹیں ڈالی ہیں
دیکھنے سے یوں لگتا ہے
نظم بہت پرانی ہے
پرانی چیزیں کہاں کسی کو بھاتی ہیں
مَیں نے پھر سے وقت سے نظر چرا کر
اُس نظم کو واپس
رکھ چھوڑا ہے _
Image: Jean Carolus


Related Articles

معدومیت کا مکالمہ (رضی حیدر)

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ، کہ جس میں

آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

نسیم سید: تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں

ایک گیت (پیڑا کتھا)

جمیل الرحمٰن: کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی