الحاد کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

الحاد کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

پاکستان میں ہمیں جس مذہبی جبر کا سامنا ہے وہ بہت حد تک مذہب سے ایک غیر علمی اور غیر محققانہ تعلق کی پیداوار ہے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کا اپنے مذہب سے تعلق مقدس شخصیات، عبادات اور عقائد سے جذباتی لگاؤ اور اندھے اعتقاد تک محدود ہے۔ اس غیر عالمانہ مذہبیت کے باعث سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اختلاف کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سید امجد حسین کی ترتیب دی کتاب "کب کا ترک اسلام کیا" لالٹین پر قسط وار شائع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ایسی آوازوں کو توانائی بخشنا ہے جو مذہب پر تنقید، اعتراض اور اختلاف کو آزادی اظہارِ رائے کا جزو سمجھتی ہیں۔ اس سلسلے کا مقصد مذہبی افراد کی دل آزاری نہیں بلکہ تنقید و تحقیق جیسے بنیادی علمی فریضے کی انجام دہی ہے۔ اس کتاب میں شامل مضامین بہت سے قارئین کے لئے ناگوار یا ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں، ایسے قارئین ان مضامین پر تنقید کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ لالٹین کے صفحات اختلافی آراء کے لئے بھی کھلے ہیں۔

تلخیص، ترمیم و اضافہ: سید امجد حسین

اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا میں ملحدوں سے اکثر یہ سوال پوچھے جاتے ہیں کہ الحاد کیا ہے، اس کا ضابطۂ حیات کیا ہے، اس کا قانون طرز معاشرت کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جہاں تک ملحدوں کے قانون طرز معاشرت کا سوال ہے تو اس پر کافی پہلے غلام رسول صاحب اپنا ایک عالمانہ مضمون ہم سے شیئر کرچکے ہیں جو آج بھی ان کی ٹائم لائن پر موجود ہے ۔

لیکن الحاد کے تعلق سے کئی بنیادی غلط فہمیوں اور اعتراضات کا مکمل اور تشفی بخش جواب بہت پہلے احمد خان صاحب نے دینے کی کوشش کی تھی جو آج بھی اس لیے اہم ہے کیوں کہ جو لوگ الحاد کے معنی تک نہیں جانتے، وہ بھی اس پر اپنا زور خطابت آزمانے سے نہیں چوکتے۔ کئی ایسے بچکانہ اور بے معنی سوالات جن کا الحاد سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اس پر ہمارے فاضل و قابل مومنین اکثر و بیشتر دریائے ذخار لٹانے کی فیاضی دکھاتے رہتے ہیں۔ احمد خان صاحب کا یہ مضمون سوال و جواب کے طرز پر ہے جسے میں نے تبدیل کردیا ہے اورصرف انھی نکات کو میں نے اس تلخیص میں شامل کیا ہے جن سے ملحدوں کا شب و روز سامنا ہے۔علاوہ ازیں کچھ ایسے نکات جن کا احمد خان صاحب نے ذکر نہیں کیا تھا، انھیں بھی میں نے بطور اضافہ اس میں شامل کردیا ہے۔ امید ہے کہ مومنین کے ساتھ ساتھ ملحدین کے لیے بھی یہ تلخیص چراغ راہ ثابت ہوگی اور آئندہ ہونے والے مکالموں میں الحاد کے تعلق سے کوئی اشکال نہیں رہے گا۔

(1) سب اہم سوال ہم سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ الحاد کیا ہے؟ حتیٰ کہ کئی لوگ اسے ایک مذہب بھی قرار دے دیتے ہیں۔ جب کہ دہریت یا الحاد مذہب نہیں بلکہ مذاہب کا رد ہے۔ جس طرح خلا کوئی شے نہیں بلکہ کسی بھی شے کی عدم موجودگی کو خلا کہا جاتا ہے۔ یا جس طرح خاموشی بذات خود کوئی زبان نہیں بلکہ جب انسان کسی بھی زبان کا استعمال چھوڑ دے تو اس کیفیت کو خاموشی کہا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح دہریت کوئی مذہب نہیں بلکہ مذاہب کی عدم موجودگی کی کیفیت کا نام ہے۔

(2) ہمارے مومنین ملحدوں سے اکثر سوال کرتے ہیں کہ کیا دہریت کی کوئی مرکزی کتاب یا کوئی دستاویز یا کوئی منشور یا کوئی مقدس ہستی ہے جس سے دہریے عقیدت رکھتے ہوں؟یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ کیا خاموشی کی کوئی گرائمر یا رسم الخط ہے؟ جی نہیں، گرائمر اور رسم الخط زبانوں کے ہوا کرتے ہیں، خاموشی کے نہیں۔ اسی طرح صحائف یا ضابطۂ حیات مذاہب کے ہوتے ہیں، دہریت کے نہیں۔

(3) مومنین کا اگلا وار یہ ہوتا ہے کہ جب دہریت کا کوئی اصول یا کوئی قاعدہ یا کوئی قانون ہی نہیں تو دہریے اپنی زندگی کیسے گذارتے ہیں، ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ جواب بہت آسان ہے کہ دہریے اپنے معاملات زندگی سماجی اصولوں، مروجہ قوانین اور عقل و خرد کی روشنی میں گذارتے ہیں۔ دہریے اپنی زندگی کا مقصد خود طے کرتے ہیں ، نہ کہ کسی قدیم اور بوسیدہ صحیفے میں زندگی کا مقصد تلاش کرتے ہیں۔ مختلف دہریوں کی زندگی کا مقصد بھی مختلف ہو سکتا ہے ، مثلاً اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، کوئی فلاحی ادارہ قائم کرنا، صحافی بن کر معاشرتی نا انصافی پر آواز اٹھانا وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھیں کہ سماجی اور معاشرتی قوانین اور انسانی حقوق کا عالمی منشور انسان کی ہزاروں سال کے ارتقائی مراحل طے کرکے موجودہ حالت تک پہنچے ہیں جو ہمارے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہیں۔

(4) مومنین اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سائنس یا کوئی دہریہ آج تک یہ ثابت نہیں کرپایا کہ خدا نہیں ہے تو پھر وہ کن بنیادوں پر خدا کےانکاری ہیں؟ یہ کافی گھسا پٹا سوال ہے لیکن سب سے زیادہ دہرایا جانے والا یہی سوال ہے جسے ہر وہ مسلمان ایک بار ملحدوں سے ضرور پوچھنا چاہتا ہے جس کا الحاد سے اول اول سامنا ہوا ہو۔ جواب وہی ہے کہ عدم کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ دعویٰ ثابت کرنا مدعی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ میں ایک مکا مار کر دیوار چین گرا سکتا ہوں تو اپنے اس دعوے کو ثابت کرنا میری ذمہ داری ہوگی، لیکن اگر میں دوسروں سے یہ توقع کروں کہ وہ یا تو میرے اس دعوے کو رد کرے یا پھر میری بات پر ایمان لے آئے تو یہ غیر منطقی بات ہوگی۔ مختصر یہ کہ وہ دعوے جو بغیر ثبوتوں کے کیے جائیں ، ان کو رد کرنے کے لیے بھی کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

(5) اوپر کے سوال سے ہی جڑا ایک سوال اور بھی ہے جو مسلمان ہم سے پوچھتے رہتے ہیں کہ جب موت کے بعد زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے تو انسان نیکی کیوں کرے اور برائی سے دور کیوں رہے؟ اس سوال کا جواب بھی کئی بار دیا جا چکا ہے۔ اچھائی اور برائی کا پیمانہ ہمارے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہے۔ ہماری اخلاقیات ہمارے ماحول، ہماری نفسیات ، والدین کی تربیت اور معاشرے سے جڑی ہوتی ہیں جس میں مذہب کا کوئی اتنا بڑا کردار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جہاں لوگوں کی اکثریت اسلام پسند ہے، جھوٹ بولنا کوئی بری بات نہیں سمجھا جاتا، حالاں کہ اسلام میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ جب کہ اسکینڈے نیویا ،نیوزی لینڈ جیسے لادینی معاشروں میں روزمرہ کی زندگی میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا اور اسے انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مذہب کا کارنامہ (اگر اسے واقعی کارنامہ کہا جا سکتا ہے تو)صرف اتنا ہے کہ ہزاروں سال پہلے سے آ رہے سماجی تنازعات کا حل ڈھونڈنے کے لیے انسانوں نے جو قوانین اپنے ماحول اور معاشرے کے مطابق بنائے، مذہب نے ان میں معمولی ترمیم و اضافے کے ساتھ انھیں مقدس شکل دے دی۔ لیکن مشکل یہ ہوئی کہ مذہب نے انھیں دائمی اورہر دور کے لیے جامد بھی قرار دے دیا۔ جب کہ جیسے جیسے انسان سماجی ترقی کے مراحل طے کرتا گیا، بہتر سے بہتر قوانین وجود میں آتے رہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ مثلاً مذہب نے غلامی کو معیوب نہیں سمجھا اور نہ اس کے نزدیک یہ کوئی غیر اخلاقی فعل تھا لیکن موجودہ عالمی قوانین نے اسے انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا اور اس پر قدغن لگا دیا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص اختلاف رائے پر بندوق تان لے، تمام اخلاقی حدود کو نظر انداز کرکے اپنے مخالف کو ماں بہن کی گالیوں سے نوازنا شروع کردے، جہاں عدم برداشت کی وافر مقدار پائی جاتی ہو، اس معاشرے میں سانس لینے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اچھائی اور برائی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں مذہب ناکام رہا ہے۔ ایک باشعور شخص صرف جنت و دوزخ کے سبب اچھائی اور برائی کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ وہ اسے معاشرے کے اجتماعی مفاد اور آفاقی و مثبت قدروں کی روشنی میں طے کرتا ہے۔

(6) مسلمان خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ہم اسے ایک بچکانہ سوال کرتے ہیں کہ کیا تم نے ہوا کو دیکھا ہے؟ عقل کو دیکھا ہے؟ اپنے اجداد کو دیکھا ہے؟ چنانچہ تمھارے پاس ان چیزوں کی موجودگی کے کیا ثبوت ہیں؟ ایسے سوالات وہی لوگ کرتے ہیں جنھیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ انسانی معلومات کے دو اہم ذرائع ہیں، پہلا مشاہدہ اور دوسرا تجربہ (حواس خمسہ)۔ اگر کہیں دھواں اٹھتا ہے تو ہم دور سے ہی یہ اندازہ قائم کرسکتے ہیں کہ ضرور اس جگہ آگ لگی ہوگی۔ اسی طرح ہوا جب چلتی ہے تو اس کے نتیجے میں جو کچھ بھی ہم مشاہدہ کرتے ہیں یا جن محسوسات کا تجربہ ہوتا ہے، وہ ہمارے حواس خمسہ بتادیتے ہیں کہ ہوا چل رہی ہے۔ ہمارے اجداد کی موجودگی کا ثبوت خود ہمارا وجود ہے۔ ان چیزوں کی موجودگی کو قبول ہم اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کرتے ہیں، نہ کہ یہ ہمارے اندھے ایمان کا حصہ ہیں۔

(7) کچھ مومنین جو خود کو عام مسلمانوں سے زیادہ پڑھا لکھا اور عقل و دانش سے بہرہ مند سمجھتے ہیں، وہ ہم سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر انسان بندر سے بنا ہے تو آج تک بندر کیوں موجود ہیں؟ ایسے سوال کرنے والے مسلمانوں کو میرا مشورہ ہوگا کہ وہ الحاد کی جان چھوڑ کر بایولوجی پڑھ لیں تو افاقہ ہوگا۔ ارتقا بایالوجی کا ایک نظریہ ہے، جس کا الحاد اور دہریت سے کوئی تعلق نہیں۔ اکثرفیس بکی مومنین کے ذہن میں پہلے ہی سے یہ مفروضہ قائم ہوتا ہے کہ نظریۂ ارتقا اور بگ بینگ ، الحاد کے ارکان ہیں، چنانچہ جب وہ اپنے مذہب اور عقائد کو درست ثابت نہیں کرپاتے تو وہ ملحدوں سے ارتقا اور بگ بینگ کے متعلق سوالات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ شاید ان کی خوش گمانی یہ ہوتی ہے کہ اگر انھوں نے ارتقا اور بگ بینگ کو غلط ثابت کردیا تو الحاد اور دہریت بھی غلط ثابت ہوجائے گی۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ فزکس اور بایولوجی کے نظریات کو کوئی غلط بھی ثابت کردے تو اس سے دہریت اور الحاد کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سائنس ایک علاحدہ علم ہے اور یہ تصور غلط ہے کہ سائنس کی کہی ہوئی ہر بات دہریوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ مثلاً میں Panspermia کے نظریے کو نہیں مانتا ، کیوں کہ اس کے ناکافی شواہد ہیں اور یہ محض ایک مفروضہ ہے، لیکن اس سے میری دہریت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ مختصر یہ کہ دہریت کو رد کرنے کے لیے آپ کو سائنس کو غلط ثابت کرنے کی بجائے خدا کے وجود کا کوئی ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔

(8) مومنین کا اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ سائنس آج تک ایک مچھر نہ بنا سکی ، کائنات یا انسان کیا خاک بنائے گی؟اور وہ مزید یہ کہتے ہیں کہ سائنس کے پاس ہر سوال کا جواب نہیں ہے جب کہ مذہب کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہے۔ چلیے ، اس مقام پر میں اعتراف کرلیتا ہوں کہ واقعی سائنس کے پاس ہر سوال کا جواب موجود نہیں ہے لیکن سائنس نے کبھی اس کا دعویٰ بھی نہیں کیا۔ انسان کے پاس اس کائنات کی اصل معلومات نہیں تھی اور انسانی دماغ متجسس ہے، سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ مذہب نے اس کی اس کمزور نبض پر ہاتھ رکھا اور اسے کچھ معلومات دے دیں لیکن افسوس کہ ان میں بیشتر غلط ثابت ہوچکی ہیں۔ سائنس وہ بچہ ہے جو کائنات کی اصل معلومات خود حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ ایک طویل عمل ہے۔ سائنس کا مقصد انسانی بھلائی ہے۔ انسان ہوا میں اڑنے سے قاصر تھا تو سائنس نے جہاز ایجاد کرکے اسے ہوا میں اڑنے کی سہولت فراہم کردی وغیرہ وغیرہ۔ سائنس دان اپنا وقت اور وسائل لوگوں کی جذباتی خواہشات پوری کرنے میں ضائع نہیں کرتے بلکہ انسانی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ رہی بات مچھر اور مکھی کی تو سائنس نے کلوننگ کے ذریعے مچھر مکھی سے کہیں زیادہ بڑے جاندار بھیڑ وغیرہ بنا کر دکھا دیے۔ جب مکھی اور مچھر کی ضرورت پیش آئے گی تو وہ بھی بنا لیے جائیں گے۔

(9) اب اس جواب کے بعد ہمارے اگناسٹک قسم کے حضرات رزم گاہ میں کود پڑتے ہیں اور دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب سائنس کے پاس ہر چیز کا علم نہیں ہے تو خدا کی موجودگی کا امکان بھی حتمی طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ کیا پتہ مستقبل میں سائنس بھی خدا کی موجودگی ثابت کردے؟ اس دلیل کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ کیوں کہ سائنس کے پاس ہر چیز کا علم نہیں، تو ممکن ہے کہ مستقبل میں سینٹا کلاز، سپر مین، اسپائیڈر مین اور دیگر فرضی کرداروں کا وجود بھی ثابت ہوجائے۔ کل رات میں نے دیکھا کہ آسمان سے بریانی کی برسات ہورہی تھی اور اس تصور کو صرف اس لیے رد نہیں کیا جا سکتا ، کیوں کہ کیا پتہ مستقبل میں سائنس میرے اس تصور کو درست تسلیم کرلے۔

(10) آخر میں مسلمانوں کے پاس ایک ہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر خدا نہیں ہے تو انسانوں کی اکثریت خدا پر یقین کیوں رکھتی ہے؟ اس سلسلے میں میرا ماننا یہ ہے کہ سچائی کو ثابت کرنے کے لیے اکثریت کی نہیں بلکہ ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف پانچ سو سال پہلے ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے جب ایک شخص نکولس کوپر نکس نے ایک کتاب لکھی اور دنیا کو ایک حقیقت بتائی کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ اس شخص کے بعد ہی برونو اور گیلیلیو آئے تھے اور یہ لوگ بالکل تنہا تھے۔ پوری دنیا ایک طرف اور اپنے زمانے میں یہ لوگ تنہا ایک طرف ہوتے تھے۔ ان کے خلاف چرچ اور دیگر مذاہب کے علاوہ پوری دنیا کے عوام و خواص شامل تھے۔ مگر یہ اکثریت مل کر بھی سورج کو زمین کے گرد گھمانے سے قاصر رہی۔ چنانچہ اسی طرح دنیا کی اکثریت بھی خدا کو ماننے کے باوجود آج تک خدا کو ثابت نہیں کر پائی۔ اور اس رزم گاہ میں ملحدین بالکل نکولس کوپرنکس، برونو اور گیلیلیو کی طرح اکیلے ایک طرف کھڑے ہیں اور دوسری طرف پوری دنیا کے مذاہب اور عوام و خواص شامل ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک جھوٹ کو سو لوگ بولیں تو سچ نہیں ہوجاتا ، نہ ہی سچ بولنے والے کسی اکیلے شخص کو جھوٹا قرار دیا جاسکتا ہے۔

(11) ان تمام سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے بعد مسلمان اب معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں اور ملحدوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان کی مقدس شخصیات کی توہین کرتے ہیں۔ دراصل یہ لفظ ‘‘توہین’’مومنین کا وہ ڈھال ہے جس سے وہ مذہب کے دفاع کی آخری کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے پیغمبر اور دیگر مقدس ہستیاں تنقید سے ماورا ہیں، اس لیے جو لوگ ان کے افکار و اعمال پر تنقید کرتے ہیں، وہ توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ گویا مسلمان لفظ‘‘توہین’’ کو بطور ایک ’’فیتہ‘‘استعمال میں لا کر معترضین اور ناقدین کے منھ پر چپکا کر ان کی زبان بندی کرنا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ مومنین کی مقدس ہستیاں ان کے لیے مقدس ہیں نہ کہ دوسروں کے لیے۔ کئی اور مذاہب کی مقدس ہستیاں بھی ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ دوسرے مذاہب اور عقائد رکھنے والے ان کی کس قدر توہین کیا کرتے ہیں، مثلاً پاکستان میں مرزا غلام احمدقادیانی کو نہایت ہی گندی زبان سے نوازا جاتا ہے، ان کے مضحکہ خیز کارٹون فیس بک میں بکھرے پڑے ہیں جنھیں ہزاروں لوگ شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے لیے گائے ایک مقدس جانور ہے جسے وہ ماں کا درجہ دیتے ہیں لیکن مسلمان بصد شوق اس کا گوشت کھا کر ان کے جذبات کی توہین کرتے ہیں کیوں کہ وہ ان کے لیے مقدس نہیں ہے بلکہ خورد و نوش کی ایک شے ہے۔ اسی طرح ملحدین کے لیے بھی پیغمبر اسلام یا کوئی دوسری مقدس ہستیاں بھی اس طرح لائق تعظیم ہرگز نہیں ہیں جس طرح مسلمانوں کے نزدیک ہیں۔ ہمارے لیے کوئی بھی مذہب، کوئی بھی نظریہ، کوئی بھی مفروضہ، کوئی بھی تصور تنقید سے ماورا نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک بقول ایک مفکر، دنیا میں کوئی بھی شے ایسی نہیں جو مکمل ہو اور سانس بھی لیتی ہو۔ البتہ عام مومنین اور ملحدوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ مومنین کے اعتراضات اور تنقید اکثر بے دلیل و حوالہ ہوتی ہیں جب کہ ملحدین ہر بات اپنے علم، منطق، دلیل، شواہد ، تجربے، حوالے کی روشنی میں کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی مسلمہ مقدس ہستیوں کے تقدس کا پردہ ان ہی کی مستند اور معتبر کتابوں کے حوالوں سے چاک کرتا ہے۔ چنانچہ جب ایک مسلمان اپنے ہی خنجر تلے اپنی گردن دیکھتا ہے تو وہ ’’توہین‘‘ کا شور مچانے لگتا ہے جو اس کی لاجوابی اور شکست خوردگی کی واضح دلیل کے سوا کچھ نہیں۔

(12) چار وناچار شکست خوردہ اور بے بس مسلمان دہائی دینا شروع کردیتے ہیں کہ ملحد ین کا ٹارگٹ صرف اسلام ہی کیوں ہے، دوسرے مذاہب کیوں نہیں؟ یہ سوال ہی لاعلمی کی واضح دلیل ہے۔ ایک دہریے یا ملحد کا ماضی میں جو مذہبی بیک گراؤنڈ ہوتا ہے، اور جس مخصوص مذہبی حصار سے وہ باہر آتا ہے، ظاہر ہے وہ اسی کواپنے احتجاج کا نشانہ بنائے گا، کیوں کہ وہ اسی مخصوص مذہب و عقائد سے برگشتہ اور بیزار ہو کر باہر نکلا ہے۔بہت پرانا مقولہ ہے کہ جس کے گلے میں جو ڈھول پڑا ہو ، وہ اسے ہی بجائے گا۔ ایک ہندو ملحد، ہندوازم کو ہی ٹارگیٹ کرے گا ، کیوں کہ وہ اپنے صحائف اور عقائد ہی سے برگشتہ ہو کر ملحد بنا ہے۔ ایک عیسائی یا یہودی ملحد بھی اپنے اپنے مذاہب کے Loopholes کو ہی آشکار کرے گا اور انھیں ہی زیر بحث لائے گا۔ فیس بک میں تقریباً تمام مذاہب کے ملحدین کے گروپس موجود ہیں جہاں انھی مذاہب پر تنقید کی جاتی ہیں ، جن کی رسی تڑا کر وہ آزاد ہوئے ہیں۔

لہٰذا، مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ پہلے الحاد کی بنیادی ہیئت ترکیبی کو سمجھیں ، پھر وہ چاہیں تو اس پر بے شک سوال کریں یا اسےتنقید کا نشانہ بنائیں۔ ہم ہر مثبت تنقید کا احترام کرتے ہیں کیوں کہ ہمارا وجود ہی اس پر قائم ہے۔ لیکن تنقید اور تنقیص کے فرق کو بھی سمجھنا ضروری ہے ، بغیر حوالے، شواہد اور منطقی دلائل کے تنقید کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔


Related Articles

دہریت اور سماجی رویے

غلام رسول: ایک ناستک ہونے کے ناطے میں کسی بھی آسمانی ہدایت کے بغیر ہر کسی کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک معاشرے آداب کا درجہ رکھتے ہیں۔ میں اس لیے بھی دوسروں کو احترام دیتا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے بھی احترام دیا جائے، جبکہ میرے والدین تو میرے جنم داتا ہیں۔

ملاحدہ دور حاضر کے نقطہ نظر سے

علامہ نیاز فتح پوری: مذہب کی بنیاد اس خیال پر قائم ہے کہ عالم فطرت کا کوئی ایک مالک ہے، خود دعاؤں کو سنتا ہے، اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور جزا و سزا دیتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ واقعات کی دنیا میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس سے ہمیں ان اعتقادات کی تصدیق ہوسکے۔