جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے
اور ہم دیکھ سکتے ہیں
ایک دوسرے کو
دکھ میں
اور خوشی میں
اور مِل سکتے ہیں
شام کی چائے
یا ڈنر کے امکان پر
میں اُس وقت کا سوچتا ہوں
جب ہمارے درمیان
ایک رات بھی نہیں رہے گی
تب ہم کیا کریں گے؟
کہاں طلوع ہوں گے؟
Iamge: Eugenia loli

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات

تم جانتے ہو

عارفہ شہزاد:
میں اس خوبصورت عورت کی طرح کیوں بننا چاہتی ہوں؟
تم جانتے ہو

خوبانی

عمران ازفر: خوبانی ہے
جلتے جسم کی حیرانی میں
تازہ نرمیلی قاشیں ہیں
جو اک تھال کے بستر اوپر
لمبی تان کے سوتی ہیں اب
بیج بدن میں پھوٹتے ہیں
اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں