جمال زیست (منزہ احتشام)

جمال زیست (منزہ احتشام)

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔

اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں اور تصویری البم میں بارہ سال کا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔وہ ہر سال اپنے ہم عمروں کے ساتھ بڑا ہوتا رہا۔اس کا چچیرا بھائی اس سے دو مہینے چھوٹا تھا۔ ہر سال جب بھی اس کے چچیرے بھائی کا جنم دن آتا اس کی ماں آہ بھر کر کہتی۔" ہائے میرا جمیل ہوتا تو اب وہ بھی اتنے سال کا ہوتا"۔ اور جب اکبر (اس کا ہم عمر چچیرا بھائی) کی شادی ہونے لگی تو اس کی ماں دیر تک روتی رہی اور خیالوں ہی خیالوں میں اپنے خاک میں خاک ہو چکے بیٹے کو سہرے باندھتی رہی۔

جمیل ہوتا تو اب کیسا گبھرو جوان ہوتا۔ ماں کے ساتھ کبھی کبھی وہ بھی سوچنے لگتی۔ جمیل کی وجہ سے ان بہن بھائیوں کی تعداد میں عجیب توازن تھا۔ جب وہ زندہ تھا تب وہ برابر برابر تھے تین بٹا تین۔ جمیل کی وفات کے بعد ان کے توازن میں فرق آ گیا ہے اور وہ دو بٹا تین ہو گئے تھے۔ مگر یہ ترتیب زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی تھی کیونکہ اس کی وفات کے دو سال بعد ان کی چوتھی بہن ثانیہ پیدا ہوئی اور یوں تین بٹا تین کا توازن چار بٹا دو میں بدل گیا۔ اب مساوات کی جگہ دو چوتھائی آ گئی تھی۔

اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اور سینہ پیدائشی ضعف جگر کی وجہ سے ابھرا ہوا تھا۔ اس کی پسلیوں کا پنجرہ ہموار نہیں تھا بلکہ زیادہ اوپر اٹھ گیا تھا۔ اپنی مختصر حیات میں اس نے ڈھیر درد سہے اور پھر بہار کی ایک دوپہر کو اس نے برآمدے میں لیٹے ہوئے ماں کو عجیب نظروں سے دیکھا اور پکوڑے کھانے کی فرمائش کردی۔ماں نے اسے(عالیہ) کہا کہ جا کے باہر سے پالک توڑ لائے۔ وہ پالک توڑنے چلی گئی۔ اس نے پالک کاٹی، آلو کاٹے لیکن وہ سب کچھ درمیان میں ہی رہ گیا۔ بے حد خوبصورت آنکھوں اور سینے کے ابھرے ہوئے پنجرے والا جا چکا تھا۔ وہ کٹی ہوئی پالک بعد میں کتنے ہی دن آگ والی کوٹھڑی کی پڑچھتی پر پڑی سوکھتی رہی۔ عالیہ انہیں دنوں دسویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی۔ بہار جس کا آغاز نمناک ہوا تھا اس کی بلوغت کی زندگی میں سوچ لے کر آئی۔ سوچ جس سے وہ بعد میں کبھی مفر حاصل نہ کرسکی۔ وہ بارہ سال کی زندگی جس کا غالب حصہ درد اور بخار سے بھرا ہوا تھا،وہ کیوں زمانے کے کھاتے میں درج ہوئی تھی۔ جس کا کوئی حساب کتاب نہ تھا۔ کبھی وہ یہ سوال ماں کے آ گے رکھتی تو ماں تقدیر کے کندھے پہ سارا بوجھ ڈال کے آزاد ہو جاتی۔ اس چمکتی دوپہر جب اس نے ماں سے سوال کیا تو وہ گندم صاف کر رہی تھیں۔ ماں گندم کو جھج میں پھٹک کے چارپائی پہ بچھے کپڑے پہ ڈال رہی تھی اور وہ پاس بیٹھی دانوں کے اندر سے گھنڈیاں اور مٹی کے روڑ نکال رہی تھی۔

گندم صاف کرتے ہوئے اس نے دانوں کی ایک مٹھی بھری اور پاس چگتی مرغیوں کے آگے پھینک دی۔ باقی دانے ایک بوری میں ڈالے جانے تھے تاکہ پسوائی کے لیے چکی پر بھیجے جا سکیں۔ اس نے دیکھا کچھ اور بھی دانے چارپائی پر پھیلے کپڑے سے نیچے گر کے کچے صحن کی مٹی میں مل گئے ہیں۔ جب جھاڑو پھرے گی تو یہ کوڑے کے ساتھ باہر گرا دیئے جائیں گے۔ تب اس نے سوچا خدا بھی انسانوں کی تقدیر ایسے ہی طے کرتا ہوگا۔ کچھ کی مٹھیاں بھر کے سکھ کے جزیرے میں پھینک دیتا ہو گا۔ کچھ کو مٹی میں رول دیتا ہو گا۔ کچھ کو بچا کے رکھ لیتا ہوگا کہ آگے بیجائی اور مزید پیداوار کے کام لائے جاسکیں۔ اور جو اکثریت ہے ان کی پراتیں بھر بھر کے بوری میں ڈال دیتا ہو گا تاکہ وہ چکی کے تیز پاٹوں میں پس کر آٹا بن جائیں۔ پھر ان کو گوندھا جائے۔اس کے بعد بیلا جائے۔پھر تنور یا توے پر پکایا جائے اور پھر کھالیا جائے۔سب سے زیادہ آ زادی تو پیداواری مقاصد کے لیے رکھے گئے دانوں کے حصے میں آ تی ہے۔ مگر بعد میں ہوتا ان کے ساتھ بھی وہی ہے۔ مگر یہ آزادی بھی کب تک ہے۔ نئے پودوں کے اگنے اور سٹے میں دانے پکنے تک بس۔ اس کے بعد ان کی جڑوں میں درانتی پڑتی ہے اور پھر وہی ایک جیسا چکرشروع ہوجاتا ہے۔ تو گویا یہ تقدیر ہے۔اس نے پھر مٹھی بھری جیسے تقدیر طے کر رہی ہو۔اب اس مٹھی میں جو دانے آئے ہیں وہ ان کی کیا تقدیر طے کرے؟
مرغیوں کے آ گے ڈالے۔
زمین پہ پھینک دے
یا بوری میں ڈال دے۔

اور اس مٹھی میں جو دانے ہیں کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقدیر طے کی جارہی ہے۔ اگر جانتے ہیں تو کیا وہ دعا کررہے ہیں کہ انہیں کس طرف ڈالا جائے۔کیا انہوں نے کوئی وظیفہ کیا تھا؟ کوئی عبادت کی تھی۔گڑگڑائے تھے۔ سجدے میں گرے تھے۔ یا ایسے ہی میری مٹھی میں جو آنے تھے وہی آ ئے۔ یہ ان کی تقدیر ہے۔اور جو بوری میں ڈالے جا رہے ہیں وہ ان کی تقدیر ہے۔

اس نے ماں کی طرف دیکھا تو اسے بہت ترس آیا۔ اس کے چہرے پہ گہری خاموشی تھی جیسے اب کبھی نہیں بولے گی، یا جیسے وہ اپنے سارے سوال ختم کرکے پرسکون ہو چکی ہو۔ کیا ماں کو اس سب کا پتا ہے جو وہ سوچ رہی ہے۔

موت ایک صدمہ ہے۔ ہاں مگر موت آس پاس والوں کے لیے ایک صدمہ ہے۔ لیکن زیست آس پاس والوں کے لیے صدموں کا مجموعہ ہے۔ ہمارا روٹھنا، کھانا نہ کھانا، بات نہ کرنا، بیمار ہو جانا، کسی ہڈی کا ٹوٹنا، معذور ہونا، ہماری غربت، ہماری خواہشوں کی عدم تکمیل، ہماری ناکامیاں، کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے قریبی رشتوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور ہماری کامیابیاں ہمارا اچھا نہ چاہنے والوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ جینا پھر بھی موت پہ فائق ہے اگرچہ موت صرف اکلوتا صدمہ ہے۔

جمیل بارہ برس کی عمر میں مرا، مگر موت نے کچھ بھی ساکت نہیں کیا۔ خاندان کے تصویری البم میں اس کی عمر بارہ برس ہی تھی مگر ماں کی یاداشت میں وہ سال ہا سال بڑا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ماں خیالوں میں اس کی دلہن بھی تلاشنے لگی تھی۔وہ سردیوں کی راتوں میں جب دیر سے آ نے والے خاوند کا انتظار چولہے کے پاس پیڑھی پہ بیٹھ کے کرتی تو لکڑیوں کے چولہے کی دوسری طرف جمیل بیٹھا رہتا۔ماں بیٹا گھنٹوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہتے۔ماں بیٹھی بیٹھی اونگھ جاتی تو اس کا سر انگیٹھی کی دیوار سے جا لگتا۔جمیل بیٹھا سر کو دائیں بائیں مسلسل ہلاتے ہوئے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تنکے توڑ کے آ گ میں پھینکتا رہتا اور آگ جلتی بجھتی رہتی۔ان کی زندگی ایسی ہی تھی ایک وقت میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور بیک وقت جدا بھی۔وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے۔باقی بہنیں بھائی اس دوران آ گ والی اسی کوٹھری کے دھواں دھار ماحول میں اپنے لحافوں میں دبکے سوتے رہتے۔دائیں بائیں سر کو ہلاتے ہوئے وہ سوچتا چلا جاتا۔اس کا ذہن بہت تخلیقی تھا۔پلاسٹک کے خریداری والے لفافے کو نیچے سے کاٹ سے سویٹر یا بنیان کی طرح پہننے کا طریقہ بھی پہلی بار اس نے نکالا تھا۔ایک دوپہر جب ماں ساگ توڑ کر شہر میں اپنی دیورانی کو بھجوانے کے لیے لفافہ ڈھونڈ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ اسے جمیل نے کسی بنیان کی طرح اپنے نحیف بدن پہ پہن رکھا ہے اور بہت آ رام سے آ نکھیں موندے سر کو ہلا رہا ہے جیسے کسی ان دیکھے جھولے کی لذت لے رہا ہو۔تو اسے تپ چڑھ گئی۔ایسے موقعوں پر وہ مارنے سے بھی گریز نہ کرتی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پلاسٹک کے معمولی خریداری لفافے بھی سنبھال کے رکھے جاتے تھے۔

اب اسے یاد کریں تو یاداشت میں اس کے نیلے رنگ کے کپڑے اور پلاسٹک کے سفید بوٹ رہ جاتے ہیں۔اور کچھ بھی ایسا نہیں جو اس کے تعلق سے یاداشت میں بچا ہو،سوائے آ نکھیں بند کرکے ہنستے ہوئے اس کا سر دائیں سے بائیں ہلاتے رہنا اور اس کا چیزوں کے عجیب عجیب نام رکھنا۔یہ بھی بڑاعجیب واقعہ ہے کہ اس نے ایک بار ہمسایوں کے بہت پستہ قد اور سفید رنگت کے لمبی فر والے کتے کا نام "غونی غیبی"رکھ دیا تھا۔ دوپہر کو جب سارا خاندان صحن کے بڑے درخت کے نیچے اکٹھا بیٹھا تھا اس نے اچانک ایک طرف اشارہ کرکے کہا وہ "غونی غیبی"ہے۔ سب نے اس کے اشارے کی طرف نگاہ کی وہاں ہمسایوں کا جانا پہچانا کتا کھڑا تھا۔اور پھر سب اس کے اس نام پہ ہنسنے لگے تھے۔اسی طرح ایک اور موقع پر اس نے ایک پرندے کا نام رکھا۔ایک لمبی دم والا پرندہ ہر روز ظہر کے وقت آ کے ماں کی لاڈلی مرغی کا انڈا پی جاتا تھا جسے ماں نے گندم کے بھڑولے کی چھت پہ مٹی کی انگیٹھی رکھ کے کڑک بٹھایا ہوا تھا۔جمیل اس پرندے کو آ تے اور انڈا پی کر جاتے دیکھتا رہتا مگر اس نے کبھی پرندے کی شکایت ماں سے نہیں کی۔ایک شام جب ماں نے انڈے سنبھالے تو سب خالی تھے اور کوئی چوزہ بھی نہیں تھا،تب پریشان حال ماں کو جمیل نے بتایا کہ "مریا میگی"سارے انڈے پی گیا تھا۔جب ماں نے حیرت اور خوف سے آ نکھیں پھیلا کر پوچھا کہ یہ "مریا میگی"کون ہے تو اس نے بتایا کہ بہت لمبی دم والا پرندہ جو ظہر کے وقت بلاناغہ آ تا ہے اور ایک انڈا پی کر چلا جاتا ہے۔سارے بہنیں بھائی جو پاس کھڑے تھے ہنس پڑے اور مریا میگی،مریا میگی کا ورد کرتے صحن میں چکرانے لگے۔ وہ ان کی اس حرکت پہ بہت خوش ہوا اور انہیں دیکھتا خوشی سے ایک جگہ کھڑا ہوکے سر ہلاتا رہا۔ان دنوں جمیل بظاہر خاندان کے لیے کوئی کار آمد فرد نہیں تھا۔جیسے اس کے باقی بہن بھائی یا چچاؤں کے بیٹے بیٹیاں تھے۔ وہ سارا دن باہر کھیتوں میں اچھلتے کودتے اور پھر اکتوبر کی مخزوں عصر کے وقت بکریاں چرانے نکل پڑتے۔یہ بکریاں چرانا بھی ان کے لیے کسی مہم جوئی جیسا تھا۔دور دور تک پھیلے کھیت کے خالی میدان ان کے اپنے تھے جن میں مکئی اور چاول کی فصل کاٹ کے اٹھالی جاتی اور کھیت کچھ دن آ رام کرتے تھے۔نہری پانی کی رواں کھالوں کے کناروں پہ اگے اونچے اور گھنے پاپلر کے پیڑ روح میں عجیب سی سرشاری بھردیتے۔بکریاں آ گے ہی آ گے منہ اٹھائے جاتیں اور بکروال اپنی مستیوں میں مگن کبھی کسی سانپ کی متابعت میں ہوتے تو کبھی امرود کے کوتاہ درخت کی شاخوں سے بندر کی طرح لٹکے ہوتے۔ایسے میں جمیل کو ساتھ لے جانا کسی خطرے سے خالی نہ تھا کیونکہ وہ ان کی ایک ایک بد عنوانی کی مفصل رپورٹ گھر میں دیا کرتا۔وہ سب اس کی اس عادت سے نالاں تھے۔خود تو کرتا کچھ نہیں انہیں بھی کچھ نہیں کرنے دیتا۔اسی طیش میں وہ موقع بموقع اسے مارپیٹ بھی لیا کرتے تھے۔

اس کی بارہ سالہ حیات اتنی اہم نہیں تھی کہ اس سے وابستہ کسی یاد کا اہتمام کیا جاتا۔ آ دمی کار آ مد تب گردانا جاتا ہے جب وہ موجد بنتا ہے۔اپنا خاندان خود بناتا ہے۔وہ تو ابھی خام مال تھا جس کی بقا کا انحصار جس کے اصل مادے پر ہوتا ہے۔مگر اس دورانیے کو بھلانا ممکن نہیں تھا۔زمانے کے جس مختصر وقفے میں اس نے اپنی سانسوں کا حصہ ڈالا۔اس کے بعد کے برسوں میں بہت روحیں جنمی ہیں۔مگر ایسا کوئی بھی نہیں جسے کسی شئے کا نام نہ پوچھنا پڑا ہو۔اور جو اپنے ہردکھ کی ستر پوشی خود کرلیتا ہو۔سبھی چیزوں کے نام خود رکھ لیتا ہو۔


Related Articles

سرخ شامیانہ-پہلی قسط

حسین عابد: میں جو تُند ندی کی طرح تھا، ایک بدبودار جوہڑ بنتا جا رہا ہوں، جامد اور یکساں۔ اب مجھ پر صرف کائی کی تہیں جم سکتی ہیں۔ اس نے استہزائی کرب سے سوچا۔

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 11 دسمبر 1971- "یومِ بختیار صاحب"۔

آج چونکہ کیمپ کی کمان صوبیدار بختیار صاحب کے سپرد تھی لہٰذہ آدھی نفری تو سارا دن" چِندی اور پُھلترُو "لئےرائفلیں صاف کرتی رہی۔باقی نفری صوبیدار صاحب کے اخلاقیات، ملٹری، سیاست اور جنسیات کے موضوع پر دیئے گئے درس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔

مماثلت

جیم عباسی: اس نےبلی کو گود میں بٹھایا اور رکشا گھر کی جانب موڑ دیا۔ بلی کی مرہم پٹی کرتے اچانک اسے حسنہ کی آنکھیں یاد آگئیں۔بلی کی آنکھوں میں اور ان میں کوئی فرق نہ تھا۔

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*