جنگ سخت کوش ہے

جنگ سخت کوش ہے

عراقی نژاد امریکی شاعرہ دنیا میخائل
انگریزی سے ترجمہ سلمیٰ جیلانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
صبح سویرے
سائرنوں کو جگاتی ہے
اور ایمبولینسوں کو
مختلف علاقوں میں بھیجتی ہے
لاشوں کو ہواؤں میں جھلاتی ہے
اسٹریچروں پر زخمیوں کو لادتی ہے
ماؤں کی آنکھوں سے
بارش کے سندیسے بھیجتی ہے
زمین کھود ڈالتی ہے
بہت سی چیزیں
کھنڈروں کے اندر بے ٹھکانا کر دیتی ہے
ان میں سے کچھ بے جان اور گیلے پن سے دمکتی ہوئی
اور کچھ زرد رو، ابھی بھی تڑپتی ہوئی
یہ سب سے زیادہ خیال پیدا کرتی ہے
بچوں کے ذہنوں میں
دیوتاؤں کا دل بہلاتی ہے
آسمان میں آتش بازی اور میزائل چھوڑ کر
کھیتوں میں بارودی سرنگوں کی بوائی کرتی ہے
خاندانوں کو ہجرت پر اکساتی ہے
پیشواؤں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے
جب وہ شیطان پر لعن طعن کرتے ہیں
(غریب شیطان ایک طرف آگ میں جھلستا ہے)
جنگ مسلسل کام میں لگی رہتی ہے،
دن دیکھتی ہے نہ رات
یہ ظالموں کا حوصلہ بڑھاتی ہے
کہ وہ لمبی لمبی تقریریں کریں
جرنیلوں کو تمغوں اور شاعروں کو موضوعات
سے نوازتی ہے
مصنوئی اعضاء کی صنعت کو بڑھاوا دیتی ہے
مکھیوں کو کھانا کھلاتی ہے
تاریخ کی کتابوں میں نئے صفحات جوڑتی ہے
قاتل اور مقتول میں مساوات قائم کرتی ہے
عاشقوں کو ایسے خط لکھنا سکھاتی ہے
کہ نوجوان لڑکیاں ان کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جائیں
اخباروں کو تصویروں اور مضامین سے بھر دیتی ہے
یتیموں کے لئے نئے گھر تعمیر کرتی ہے
کفن بنانے والوں کو توانائی بخشتی ہے
قبریں کھودنے والوں کی پیٹھ ٹھونکتی ہے
اور سیاسی رہنما کے چہرے پر مسکراہٹ پینٹ کرتی ہے
وہ ناقابل بیان محنت سے کام کرتی ہے
پھر بھی
ابھی تک
کسی نے ایک لفظ اس کی تعریف میں نہیں کہا
Image: Wissam Al Jazairy

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salma Jilani

Salma Jilani

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan, she worked as a lecturer for eight years in Govt Commerce College Karachi. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University. She has been teaching in different international tertiary institutes on and off basis. Writing short stories in Urdu is her passion which have been published in renowned quarterly and monthly Urdu literary magazine such as Funoon, Shayer, Adab e Latif, Salis , Sangat and Penslips magazine and in children’s magazines as she writes stories for children as well. She also translates several poems of contemporary poets from all over the world into Urdu and vice versa, since she considers translations work as a bridge among different cultures which bring them closer and remove stereotyping.


Related Articles

غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے

ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

سدرہ سحر عمران: ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔

مفرور

نصیر احمد ناصر: اس سے پہلے کہ سمندر بھی اُن کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
اُن جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے