جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

لی کوک لیانگ (Lee Kok Liang) ملائیشیا کی چینی نژاد برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ’’جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں‘‘ یوں تو ایک ایسے موضوع کو پیش کرتی ہے جس پر ہزارہا انداز سے لکھا جاتا رہا ہے، لیکن زوال عمر کے تجربے کو اس کہانی میں ایک بالکل اچھوتے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس زاویے کو نبھانے کے لیے فن پر نہایت ماہرانہ دسترس ضروری تھی، اور کہانی پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ اسے اسی مہارت اور فنی ضبط کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے "آج" کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649


تحریر: لی کوک کیانگ
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنگ منگ نے بائیں کلائی اٹھا کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ساڑھے پانچ بجے تھے۔ اس کے پاس ابھی کچھ وقت تھا۔

جوں ہی اس کی کار سائے سے نکلی، دھوپ اس پر جھپٹ پڑی اور بونیٹ کی کالی سطح سے روشنی کی چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بکھر اٹھیں۔ پیش بندی میں اس نے پہلے ہی سے اپنی آنکھیں سکیڑ لی تھیں۔ ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ تھامے تھامے، اس نے دوسرے ہاتھ سے رومال نکالا اور پھرتی سے اپنی گُدّی پونچھی۔ پسینہ اس کے چہرے کے اطراف اور گردن پر بہنے لگا تھا۔ رومال کو کار کے فرش پر ڈال کر اس نے سیٹ پر سے چشمہ اٹھایا اور اپنی آنکھوں پر جما لیا۔ سڑک اب اپنے ہلکے نشیب و فراز سمیت بتدریج چڑھائی میں تبدیل ہو رہی تھی۔ جب وہ بڑے موڑ پر پہنچا تو اس نے اپنی گھڑی ٹیلے پر بنائے گئے اس نئے گھنٹہ گھر سے ملائی جو بلوریں آسمان میں پیوست ہوتا نظر آتا تھا۔

دور سڑک کے سرے پر اسے اپنے بنگلے کی سیاہ ڈھلوان چھت، چائے کی دبیز باڑھ کے پرلی طرف گرد اڑنے کے سبب کسی قدیم جہاز کے ڈھانچے کی طرح جھکولے کھاتی دکھائی دی۔ اس کا بنگلہ پہاڑیوں میں ایک بلند مقام پر واقع تھا۔

جیسے ہی چھت پر نظر پڑی، اسے اپنی کنپٹیوں پر خفیف سی پھڑکن محسوس ہوئی۔ اس کی ڈھلی عمر کا لہو۔ یہ پھڑکن بڑھ کر شدت اختیار کر گئی۔ کنگ منگ نے پیٹھ اکڑا لی اور تن کر بیٹھ گیا۔ جوں جوں وہ بڑی سی چھت اپنی جسامت اور میلے پن کو نمایاں کرتی گئی، وہ بھی بےارادہ اپنے گھٹنے اکڑاتا رہا۔ یہ چھت سخت ڈھلوان تھی اور بارش نے اس پر بالکل پسینے کے نشان کی طرح کے دھبے ڈال دیے تھے۔ اس کا چہرہ ٹھنڈا ہو گیا اور تھرتھری اس کی ریڑھ کی دُمچی سے چھوٹی چھوٹی لہروں کی شکل میں نکل کر پھیل گئی۔ جیسے ہی درد کی لہر اس کی دائیں کنپٹی تک پہنچ کر ہتھوڑے کی چوٹ کی طرح لگی، اس نے سانس روک لی۔ دو دن قبل بھی اس نے یونہی لاچاری سے اس چھت کو دیکھا تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، وہ یوں جنبش کرتی معلوم دی جیسے کسی نہ نظر آنے والی موج پر بپھرتی چلی آتی ہو اور خوف دلاتی ہو کہ اونچی باڑ کے اوپر سے خود کو اٹھا پھینکے گی۔ کسی نہ کسی طرح اتنی قوت اس میں آ گئی کہ اس نے اپنی کار کو پشتے سے ٹکرا جانے سے پہلے ہی روک لیا۔

مگر اس بار وہ لرزشیں اس کے شانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی جاتی رہیں۔ اس کی سانس ایک طویل آہ کی صورت نکلی اور اس نے اپنی کار سڑک پار کر کے بھاری چوبی پھاٹک کے سامنے رسان سے لا روکی۔

اترنے سے پہلے اس نے اس دورے کے گزر جانے کا انتظار کیا۔ پھر اس نے پھاٹک کھولا اور کار کو آہستگی سے پختہ راستے کی ہلکی سی چڑھائی پر چڑھا لے گیا۔ اس نے انجن بند کیا تو تکان اور گرمی کے اثر کو تیزی سے خود پر غالب آتے محسوس کیا۔ اس نے اپنی پیشانی کو بازوؤں پر ٹکا دیا اور بغل کی بساند کے بھپکے سونگھتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے نظر آیا کہ اس کے ہاتھ کتنے کھردرے اور سانولے ہو چکے تھے۔ جہاں جہاں اس نے کبھی کھجا لیا ہو گا وہاں وہاں جلد پر ننھے ننھے سے سفید نشان پڑ گئے تھے۔ مساموں کے سِروں پر چھوٹے چھوٹے سیدھے روئیں ابھرے ہوے تھے اور ایک گہری کاسنی ورِید اس کی لٹکتی کھال پر نمایاں تھی۔ وہ چل کر پھاٹک تک گیا اور پٹوں کو بہت احتیاط سے بند کیا اور نیچے والی لوہے کی چٹخنی کو دبانے کے لیے پیر استعمال کیا۔ جب وہ ان ڈِھبریوں کو غور سے دیکھنے کے لیے جھکا جن سے تختے جوڑے گئے تھے تو دھوپ نے اس کی گدّی کو جھلسا دیا۔ تب وہ سیدھا ہوا اور اپنے اس بنگلے کی طرف قدم بڑھائے جو اس نے اُس وقت بنوایا تھا جب وہ اپنی نوجوان شریک حیات کے ساتھ پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر بسنے کے لیے جاوا سے آئے تھے۔ اس نے پہاڑی کی ڈھلان کا یہ قطعہ اس وجہ سے منتخب کیا تھا کہ یہ سستا بھی تھا اور شہر کے ساحلی علاقوں سے زیادہ ٹھنڈا بھی۔ یہ بنگلہ اس نے کئی بیٹوں کو دھیان میں رکھ کر بنوایا تھا۔ ایک بڑا وسیع بنگلہ، رین ٹری کے مانند مضبوط۔

بنگلے کے سامنے والے حصے نے زمین کی چوڑائی کا تقریباً تین چوتھائی حصہ گھیر رکھا تھا۔ نچلی اور بالائی منزل میں چار چار دریچے تھے۔ بنگلے کی ڈیوڑھی ایک چوبی پیش دہلیز تھی۔ بالائی منزل استعمال نہیں ہوتی تھی، اس کے زینوں کو اس نے تختے جڑوا کر بند کروا دیا تھا۔ پچھلے دنوں جب اس نے بجلی کی وائرنگ دوبارہ کروائی تھی تو کاریگروں کو اوپر جانے نہیں دیا تھا۔ بعض اوقات راتوں کو بالائی منزل پر بلیوں کی بھدبھد اس کو سنائی دیتی۔ کنکریٹ کی پختہ روش، اونچی باڑ، آزو بازو اور پشت پر جست کے تاروں کا جنگلہ اور بھاری پھاٹک تازہ اضافے تھے۔

جب وہ ڈیوڑھی کے قریب پہنچا تو قریبی کھڑکی کا گلابی چھینٹ والا پردہ یوں ہلا جیسے ہوا نے اسے ہلا دیا ہو۔ قدم روک کر اس نے آنکھیں سکیڑیں تو اس کو پردے کے پیچھے کسی کی جھلک محسوس ہوئی۔ اس نے پورچ کی ٹھنڈک میں سنبھل کر قدم رکھا اور پھر دہلیز پر بیٹھ کر اپنے جوتے کھولنے لگا۔ ہُو کا عالم تھا۔

’’کون؟ تم ہو کیا؟‘‘ وہ اپنی آواز کو قابو میں رکھتے ہوے پکارا۔
کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے پھر پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘ پھر اس نے نئی ملازمہ آہ نوئی کا ہیولا ہال کے اندھیرے میں چلتا ہوا پہچانا۔
’’تم اکیلی ہو کیا؟‘‘ اس نے اپنی آواز جھلّاہٹ سے پاک رکھنے کی کوشش کی۔

لڑکی نے اقرار میں اپنی مُنڈی زور سے ہلائی اور منھ پھیر لیا۔ وہ جو اپنی بالی عمر میں تھی اور دھوپ سے سنولائی ہوئی بھی تھی، اپنے کندھے لٹکائے کھڑکی کے قریب کھڑی تھی۔ اس کے بشرے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ اس نے کس کے پردے کو تھام لیا اور اپنے بدن میں دوڑتی کپکپی کو روکنے کی کوشش کی۔

’’کیا ابھی کھڑکی میں سے تم جھانک رہی تھیں؟‘‘ اس نے اپنی درشتی پر تاسف کرتے ہوے بہت نرم لہجے میں پوچھا۔ یوں پردے کو لمبے بے تکے ہاتھ سے تھامے وہ اپنے بسنتی جوڑے میں بہت الھڑ لگ رہی تھی۔ جوں ہی لڑکی نے اپنے قدم بدلے، پردے میں سے روشنی در آئی اور اس کے نوخیز سینے کو چھونے لگی— اس نے فوراً ہی اپنی نظر ہٹا لی۔ اس کی پوروں کے سروں پر سنسناہٹ کچھ اس طرح ہونے لگی جیسے اس نے دن کی پہلی سگریٹ پی ہو۔ اس نے اپنے داہنے ہاتھ کو جنبش دی اور جیب میں کھسے قلم کا کلپ درست کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ خود کو سخت گیر ظاہر کرتے ہوے اس نے درشتی سے کہا، ’’تم جا سکتی ہو، اور آئندہ جھانکنا مت۔‘‘ وہ ہال پار کر کے گیا اور پنکھے کا بٹن کھول دیا۔

مگر وہ اس پر نظریں جمائے اسی جگہ کھڑی رہی۔ اس کے دہانے کے کنارے ایسے کپکپائے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو۔ دھوپ سرک کر اب اس کی گردن پر آ گئی تھی اور اس کے کان کے نیچے واقع اس مسّے کو تپا رہی تھی جو سیاہ نہیں تھا بلکہ منّے سے تازہ زخم کی طرح سرخ تھا۔ وہ ہچکچائی اور پھر اس نے ایک دم پردہ چھوڑا اور سر جھکائے جھکائے چل دی۔ ہال کے پرلے سرے پر سبز دروازے کے پاس سے جب وہ گزری تو اس کے قدم تیز ہو گئے اور پھر وہ بنگلے کے پچھواڑے نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ کنگ منگ کی نظروں نے ہال میں اس کی چال کا تعاقب کیا اور پھر اس کی نگاہیں پلٹ کر سبز دروازے پر ٹک گئیں۔ وہ بند تھا۔

جب وہ چلی گئی تو یہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنا بایاں ہاتھ اس نے گود میں اس طرح رکھ لیا کہ وہ گھڑی پر نظر رکھ سکے۔ پنکھے کی ہوا نے اس کو ٹھنڈک پہنچائی۔ کچھ دیر بعد اس نے قمیص اتاری اور دبے پاؤں چلتا اپنے کمرے میں گھس گیا جو کہ پچھواڑے کی طرف جانے والی راہداری کے دوسرے سرے پر تھا۔ اس نے اپنی وارڈروب کھولی اور اپنے کپڑوں کو چھوا، ان کے کرارے پن کو محسوس کیا۔ قمیص اٹھا کر اس نے اپنی ناک سے لگائی اور پاک صاف سُوت کی مہک کو سونگھا۔ اس لڑکی نے کتنی عمدگی سے اس کے کپڑے استری کیے تھے۔ کتنے افسوس کی بات تھی کہ اس کا اپنا لباس ہمیشہ میلا اور جسامت سے ایک سائز بڑا نظر آتا تھا۔ اس نے سوچا کہ آیا وہ اس کو کچھ نئے جوڑے خرید دے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی تو پہلی نظر میں وہ کتنی سہمی ہوئی نظر آ رہی تھی، مگر اس کے اس خوفزدہ بشرے میں بھی کوئی بات ایسی تھی جو اس کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ اگر وہ کلی ہوتی تو وہ اس کو پروان چڑھاتا اور اس کے کھل اٹھنے کا انتظار کرتا، اور جو کہیں وہ اس کی اپنی بیٹی ہو سکتی تو وہ کتنا فخر محسوس کرتا۔ لیکن جب بھی اس سے لباس کے بارے میں پوچھنے کا اسے خیال آتا، ایک احساسِ گناہ اس کے حواس پر غالب آ جاتا اور وہ ایک لفظ بھی نہ بول پاتا، گو اس کا ارادہ ہمیشہ اس پر شفقت کرنے کا ہی ہوتا۔

کرسی کھڑکی کے قریب گھسیٹ کر اور کھڑکی کے شیشے پر سر ٹکا کر بیٹھا وہ اپنے کمرے میں سے باورچی خانے میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک سگریٹ وہ پھونک چکا تھا اور دوسری جلانے والا تھا کہ اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔ وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے نکل کر باورچی خانے میں گیا۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ ریفریجریٹر میں سے اس نے ٹھنڈا پانی لے کر ایک جگ میں انڈیلا اور سبز دروازے تک لے کر آیا۔ آہستہ سے اس نے چابیوں کا گچھا نکالا اور دروازے سے کان لگائے کھڑا رہا۔ چھوٹی سوئی چھ پر تھی۔ اس نے توقف کیا، یہاں تک کہ بڑی سوئی لرزتی ہوئی بارہ پر آ گئی۔ پھر اس نے دروازے کو چابی لگائی اور دھیمے سے دروازہ تھوڑا کھول دیا۔

اس کمرے کی تمام کھڑکیاں بند تھیں۔ دروازے میں کھڑے کھڑے اس نے کونے میں لگے ایک بستر پر نظر ڈالی۔ وہاں کوئی جنبش نہیں تھی۔ پنجوں کے بل کمرہ پار کرکے اس نے آہستہ آہستہ جھلملی کی ڈوری کھینچی۔ کمرہ روشن ہو گیا۔ وہ تن کر سیدھا ہوا، چل کر پلنگ تک آیا اور اس کی پٹی پر کولھا ٹکا کر بیٹھ گیا اور اپنی بیوی کو تکنے لگا۔

وہ چت پڑی تھی اور باقاعدگی سے سانس لے رہی تھی۔ جونہی اس کے وزن سے پلنگ دبا، وہ کسمسائی اور اپنے ٹخنے ایک دوسرے پر رکھ لیے۔ ہلکی روشنی میں اس کا چہرہ چھوٹا سا دکھائی دیتا تھا، سُتا ہوا، جھرّیوں سے بھرا جنھوں نے اس کے رخساروں پر چھوٹے چھوٹے سفید کھرونچوں کی سِیون سی بنا دی تھی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح بند نہیں تھیں، ان کی ہلالی درزوں میں سے وہ اس کے ڈھیلوں کو حرکت کرتے اور اس کے سوجے ہوے بیضوی پپوٹوں کو پھڑکاتے دیکھ سکتا تھا۔ بال اس کے سفید تھے، بس اطراف میں کہیں کہیں سیاہ پٹیاں سی تھیں۔ اس کی تازہ جھریوں کو یوں بیٹھ کر تلاش کرنا کچھ عجیب سا عمل تھا۔

کولھے کے پٹھے دُکھنے لگے تو اس کو پہلو بدلنا پڑا۔ اس ہل جل نے اس کی بیوی کو بےچین کر دیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، پتلیوں کو نچایا اور ایک ہلکی سی کراہ کے ساتھ کروٹ لے لی اور خود ایک گولے کی طرح گڑی مڑی ہو گئی۔ اس کے سارونگ نے اوپر کی طرف کھسک کر اس کی ٹانگوں کو ننگا کر دیا جو لیموں کی طرح زرد اور کسی نہ کسی حد تک اب بھی کسی کسائی دکھائی دیتی تھیں۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی انگلیاں ان پر پھیریں تاکہ اُن بیتے ہوے ابتدائی ایام کو یاد کر سکے۔ یقیناً اس کے ناخنوں نے ان پر خراشیں ڈال دی ہوں گی کیونکہ اس نے پیر زور سے جھٹکے اور اپنا ہاتھ منھ پر رکھ کر ہانپنے لگی۔ پہلی نظر میں وہ اس کو پہچان نہ سکی تھی اور وحشت زدہ سی گھورے جا رہی تھی۔

’’کیا میں نے تم کو پریشان کر دیا؟‘‘ وہ اس پر جھکا اور اس کا ہاتھ منھ پر سے ہٹایا۔ ’’آئی ایم سوری۔‘‘ اس کی بیوی نے اسے دیکھنے کے لیے خود کو اٹھا لیا۔ ’’نہیں نہیں، اٹھو مت، سو جاؤ، میں ہوں یہاں پر،‘‘ وہ پھڑکتے ہونٹوں سے مسکرایا۔

جماہی لیتے ہوے اور پیر پھیلاتے ہوے وہ تکیے پر گر گئی۔ بستر پر پَسر جانے کے بعد وہ سیدھی چھت کو تکنے لگی اور نچلے ہونٹ کو اندر دبا کر زور سے چبانے لگی۔اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن قبل اس کے کہ وہ اس کو چھوتا، اس نے اپنا ہونٹ چھوڑ دیا جو اُچک کر بہت گلابی سا ہو کر باہر نکل آیا۔ خود کو اپنی کہنیوں کے بل اٹھا کر اس کی بیوی نے اس کے چہرے کو دوبارہ غور سے دیکھا اور ایک ہاتھ سے اس کا ڈھیلا گریبان پکڑ لیا۔ وہ تنی ہوئی مسکراہٹ لیے دم سادھے بیٹھا رہا۔

’’پانی، پانی، مجھے پانی چاہیے۔‘‘ اس کی آواز میں شناسائی کا کوئی شائبہ نہ تھا۔

’’اچھا، اچھا، تم لیٹ جاؤ، میں تمھارے لیے پانی لاتا ہوں۔‘‘ ٹھڈّی سے اٹھتی ہوئی لرزش کو دباتے ہوے اس نے نرمی سے اپنی قمیص اس کے ہاتھ سے چھڑائی اور مسکراہٹ اپنے چہرے پر جما لی۔ اس کا ہاتھ لگتے ہی اس کی بیوی نے اپنا منھ گھما لیا۔ رخسار کی ہڈی باہر کو ابھر آئی جس نے اس کی گردن کی شکنوں کو سپاٹ کر کے غائب کر دیا۔

دروازہ کھلا چھوڑ کر جب وہ جگ اور پلاسٹک کا پیالہ لے کر لوٹا تو اس کو اسی حالت میں پایا۔ یہ طے کرتے ہوے کہ وہ اب اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا، اس نے بیوی کو دبی آواز سے پکارا، ’’دیکھو میں پانی لے آیا۔ لو پی لو۔‘‘

دونوں ہاتھوں سے پیالہ تھام کر اور اپنی ناک کے بانسے سے اس کی کگر ملا کر وہ آہستہ آہستہ پانی پینے لگی۔ کچھ دیر بعد اس کا دم رکنے لگا اور پانی اس کے رخساروں پر بہنے لگا۔ وہ پیالے کو پچکانے لگی۔ اپنے فیصلے کو فراموش کرتے ہوے اس نے پیالہ اس کے ہاتھ سے چھین لینا چاہا۔ جیسے ہی اس نے اسے ہاتھ لگایا، وہ زور سے چیخی اور اپنا سر جھٹکا۔ پانی چھلک گیا اور اس کے بلاؤز پر سامنے گیلی دھاریاں بن گئیں۔ فوراً ہی اس نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کھڑا ہو گیا اور اپنی دکھاوٹی مسکراہٹ لیے اسے دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی مٹھیاں کس کر اپنی رانوں کے اطراف گاڑ لیں۔ کافی دیر تک وہ اپنی سانس روکے رہا۔ اس بار اس کی چیخ بھلا کتنی دور تک گئی ہو گی؟ کتنی دور؟ دیکھتے دیکھتے پورے گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ملازمہ اب کہاں دبکی بیٹھی ہو گی بھلا؟ تلخی کی ایک لہر نے اس کے خیالات کو منتشر کر دیا۔ اس کی کنپٹیاں لپکنے لگیں۔ کیا اس نے کافی خمیازہ نہیں بھگت لیا تھا؟ ایک ایسی بات کے لیے جو وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ہو۔ اس کے جسم میں ٹھنڈے غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مگر ہمیشہ کی طرح خود کو اس کے سامنے یوں کھڑے دیکھ کر اس نے اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کیا۔ اور جیسے ہی وہ ذرا پرسکون ہوا، ایک نئے طرز کی کوفت اور حقارت اس کے حلق میں مثل کڑواہٹ کے باقی رہ گئی۔ اس نے اس عجیب ذائقے کو محسوس کیا اور پھر اسی راضی برضا والی کیفیت نے اس کے جسم پر طاری ہو کر اس کی ہڈیوں کو کچھ اور نرم اور عضلات کو کچھ اور کمزور کر دیا۔ سب کچھ اتنا مایوس کن اور بےکیف لگ رہا تھا۔ دونوں کی عمر تھوڑی سی باقی رہ گئی تھی۔ جو وہ یہاں تک جھیل لے جا سکتا تھا تو اب چند روز اور مزید کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اس کو اپنی بیوی کی خبرگیری تو کرنا ہی تھی کہ اس کے سوا اب اس کا تھا بھی کون۔
اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین لینا ایک غلطی تھی۔ ہاں، اس کی غلطی ہی تھی۔ اس نے اپنی مٹھیاں کھولیں تو اس کے کندھے لٹک گئے۔ اب وہ اس کو ٹھیک طرح دیکھ سکتا تھا۔ حیرت سی حیرت! اس کا چہرہ کتنا سُت گیا تھا، بس ہڈیاں ہی نکلی رہ گئی تھیں۔ ایک سہ پہر کو جب وہ دفتر لنچ بریک کے بعد معمول سے ذرا پہلے پہنچ گیا تھا تو چھوٹے اسٹور روم کے پاس سے گزرتے ہوے اس کے کان میں یہ بات پڑی تھی کہ عورت جب بوڑھاتی ہے تو کون سا حصہ پہلے مرجھاتا ہے۔ ایک جملہ اس کے ذہن میں اٹک گیا تھا، ’’میری خالہ بولتی ہیں۔۔۔۔‘‘ ایک تیکھی سی آواز سنائی دی تھی جو ہنسی ضبط کرتے ہوے تھوڑے توقف کے بعد بولی تھی ’’کہ جب عورت بوڑھی ہونے لگتی ہے تو مکھڑے سے چل کر نیچے کو سوکھنا شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم تو نیچے کی طرف بہت بعد میں بڑھتے ہیں نا۔‘‘ اور ہنسی کے فوارے کھلکھلاہٹ سمیت ابل پڑے تھے اور وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا۔

اس کی بیوی تکیے پر سر ٹکائے یوں چپ چاپ پڑی تھی جیسے اس چیخ نے اسے نڈھال کر دیا ہو۔ وہ اپنی لٹوں کو اپنی چھنگلیا کے گرد لپیٹنے لگی، دھیرے دھیرے اور سنبھل سنبھل کر، اور ساتھ ہی وہ جَھرجَھری آواز میں گنگنانے لگی۔ کمرے میں دھوپ نے جگہ بدل لی تھی اور روشنی کا ایک بڑا سا قطعہ اس کے بلاؤز پر بلّی کی طرح لیٹا اس کی جھریوں بھری خشک گردن کو چاٹ رہا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں وہ دیکھتے دیکھتے کتنی بوڑھی ہو گئی تھی۔ کیا یہ کسی اندرونی ناسور کے زیراثر خون بہہ جانے کے سبب ہوا تھا کہ جس نے اس کے گوشت کی ساری نمی چوس لی تھی؟ سنگاپور یونیورسٹی کے طب کے استاد نے اس کا معائنہ کیا تھا اور وہ اس میں کوئی جسمانی آزار دریافت نہ کر سکا تھا۔ بیوی کے بارے میں اس نے پروفیسر سے اس وقت بات کی تھی جب وہ سامنے کوچ پر مصنوعی نیند کے غلبے میں بےحس پڑی تھی۔ اور واپسی کے سفر میں وہ اپنی سیٹ پر اس وقت تک غافل بیٹھی رہی تھی جب تک کہ نوجوان مردوں اور عورتوں کا ایک غول جشن آزادی کی خوشیوں سے سرشار، غل مچاتا، ڈبے میں داخل نہ ہوا تھا۔ اس نے بےچینی سے پہلو بدلا اور اپنے چہرے کے بائیں حصے پر یوں ہاتھ مارنے لگی جیسے اس پر مکھیاں آبیٹھی ہوں۔ بہرحال وہ خود اس موج اڑاتے غول کو دیکھ کر برانگیختہ ہو گیا تھا، خاص طور پر ان نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر جو اپنی اونچی اونچی اسکرٹس میں بہت اطمینان اور یقین سے راہداری میں چل رہی تھیں اور ان کے پسینے میں نہائے چہرے اس گرم دوپہر میں بہت چونچال لگ رہے تھے۔ جب وہ اس کے لیے پانی لینے باہر گیا تھا تو اسے نوجوان لڑکیوں کے اس ہجوم میں اپنا راستہ بنانے کے لیے دھکاپیل کرنا پڑی تھی اور جب اس کی رانوں نے ان کے پٹھوں سے رگڑ کھائی تو اس کی ناک میں ان کی جوان مہک پہنچی تھی اور اس کے رگ و پے میں خون تیزی سے دوڑنے لگا تھا جس نے اسے بے دم کردیا تھا۔ واپسی پر اس کی بیوی نے غالباً اس کی جولانی کو بھانپ لیا تھا کیونکہ وہ اکڑ کر بیٹھ گئی تھی اور اس نے پیٹھ پھیر کر پانی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے رومال احتیاط سے نکالا تھا اور بیوی سے چھپا کر ایک گولہ سا بنا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا تھا اور اس کے چیخنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔ جس کے بجاے اس نے اپنے بال کھول ڈالے اور لٹیں اپنی انگلیوں میں لپیٹ کر انھیں اپنے منھ کے سامنے مثل پروں کے پھیلا لیا تھا۔ جب وہ لڑکیاں اِدھر سے گزریں تو یہ منظر دیکھ کر کھلکھلائی تھیں اور اس کو بہت غصہ آیا تھا۔

اس کو بستر پر لیٹے لیٹے، بالوں سے کھیلتے اور انگلیوں کو بار بار حرکت دیتے دیکھ کر وہ بڑی تھکن محسوس کرنے لگا۔ اس کی ٹھڈّی دکھنے لگی اور درد مٹانے کے لیے اس نے اپنی ریڑھ دوہری کر لی۔ کاش کہ وہ چند ساعت سر ٹکا کر جھپکی لے سکتا، بن سوچے رہ سکتا۔ مرد سب سے پہلے کہاں سے سکڑتا ہے؟

اس خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوے وہ بولا، ’’آؤ، باہر باغیچے میں چلیں۔ الامینڈر کھِلے ہوے ہیں، چلو۔‘‘ اس کو کمرے سے لازماً نکالنا چاہیے۔ ان لڑکیوں کے تصور نے کنگ منگ کو گڑبڑا دیا تھا۔

لیکن وہ سنی اَن سنی کر رہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں اور کمبل کے ایک کونے کو باربار مروڑے جا رہی تھی جیسے اس سے چھوٹی چھوٹی گیندیں بنا رہی ہو۔

’’آؤ چلو،‘‘ اس نے منت کی، ’’الامینڈر سچ مچ اتنے پیارے سے اجلے اجلے، پیلے پیلے ہیں۔‘‘ اس نے لمبی سانس کھینچی۔ کمرہ جوان جسموں کی مہک سے پٹا معلوم ہوا۔ ایک خطاکار کی طرح اس نے چونک کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اب بھی اپنا کمبل مروڑے جا رہی تھی۔
’’ارے بھئی چلو نا،‘‘ اس نے اپنی قوتِ برداشت پر تعجب کیا۔ بیوی نے کمبل چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ بالوں کی طرف اٹھ گیا۔

’’چلو گی نا؟‘‘ اس کی آواز میں تناؤ پیدا ہو گیا۔ اس کو دیکھتے ہوے اسے خیال آیا کہ خوابیدہ نفرتوں کے اس مستقل نقاب کے باعث وہ کتنی مسخ ہو چکی تھی۔ ایک درگزر نہ کرنے والا انتقامی کینہ اس پر مسلط تھا اور کسی بھی لمحے اس کے خدوخال بگڑ سکتے تھے۔ اس بارے میں سوچتے ہوے ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور جتنا جتنا اس نے سوچا اتنا ہی اس کا جوش بڑھتا گیا۔ اب اس کو کمرے سے باہر لے جانا لازم ہو گیا تھا۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ ابھی بھی کافی وقت تھا۔ لیکن پہلے اس کو پرسکون کرنا ضروری تھا۔ اس کی وحشت کو دور کرنا تھا۔

’’اچھا تو بھئی،‘‘ وہ بولا، ’’تمھیں اپنے بالوں کی اتنی فکر ہے تو میں تم کو برش لا دیتا ہوں، پھر تم پیاری لگو گی۔‘‘ اس کہنے کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو وہ کر رہی تھی۔ بس وہ تجربے سے یہ جان چکا تھا کہ اس کے سامنے کچھ بھی بول دینا اس کی توجہ مبذول کر لیتا تھا۔ اس کا خیال غلط نہیں تھا۔

جب کہ وہ یہ کہہ رہا تھا، اس کی بیوی نے پھرتی سے اپنے ہاتھ میں اپنا منھ چھپا لیا اور ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے گالوں پر آنکھوں کے کناروں تک پھیل گئی۔ ایک دبی دبی سی ہنسی پھوٹی اور گزر گئی۔ برسوں پہلے جب وہ اس کو پہلی مرتبہ ایک مشترک پارٹی میں لے گیا تھا تو لوٹتے وقت کسی بیوقوف انگریز نے ملائی زبان میں اس کی ستائش کی تھی اور وہ ایک دم ٹھٹک کر اور گردن اٹھا کر بھونچکّا سی ایسے دیکھنے لگی تھی جیسے کہ اب کیا کرے۔ اُس وقت بھی اس نے اچانک اپنا ہاتھ اٹھا کر رومال سے منھ چھپا لیا تھا اور ہنسنے لگی تھی جس پر کنگ منگ نے شرمندگی محسوس کی تھی۔ ویسا ہی احساس اس پر اس وقت بھی طاری ہوا۔ بس صرف اس کے کنارے چپچپی نفرت اور حقارت سے سنے ہوے تھے، پھربھی اس نے تنی ہوئی مسکراہٹ اپنے چہرے پر برقرار رکھی۔ بیوی نے ہامی میں سر ہلا دیا۔

اس کو وہیں چھوڑ کر وہ کمرے کے دوسرے سرے پر رکھی ڈریسنگ ٹیبل تک گیا، جھکا اور برش کی تلاش میں درازیں کھکھوڑنے لگا۔ آئینہ نکال دیا گیا تھا۔ ایک دن وہ لوٹتے میں ہوٹل پر رک جانے کی وجہ سے گھر دیر سے پہنچا تو اس کو آئینے کے سامنے اس طرح کھڑے پایا تھا کہ اس کا ایک ہاتھ بےطرح کٹ گیا تھا، خون بہہ رہا تھا اور آئینے کی کرچیاں فرش پر بکھری پڑی تھیں۔ بہلا پھسلا کر اس کو بستر تک واپس لانے میں اسے کافی وقت لگا تھا اور جب ڈاکٹر نے اسے خواب آور دوا دے دی تھی تو وہ کرسی پر بیٹھا رہا تھا اور اس کی تیمارداری کرتا رہا تھا۔ تب ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ لوٹتے ہوے کبھی ہوٹل پر نہیں رکے گا۔ یہ اس کی ایک اور غلطی تھی۔

’’مل گیا،‘‘ وہ برش دکھاتے ہوے جیسے ہی مڑا، اس کی نمائشی مسکراہٹ اس کے چہرے سے جاتی رہی۔ وہ اپنے بستر پر نہیں تھی۔ وہ تیزی سے بستر کی طرف لپکا اور گھٹنوں کے بل جھک کر پلنگ کے نیچے دیکھنے لگا۔ خون اس کے سر کی جانب چڑھ گیا اور وہ بڑی دقت سے کھڑا ہو سکا۔ آنکھیں موند کر سہارے کے لیے اس نے پلنگ کی پٹی پکڑ لی، یہاں تک کہ چکر کا اثر جاتا رہا۔ وہ کتنا بیوقوف تھا کہ اس نے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔

جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ تھوڑا سا لڑکھڑایا۔ اس نے اپنا سر آہستہ سے باہر نکالا اور خفیف سی بھی حرکت کی سن گن لینے لگا۔ دل ہی دل میں دعا مانگتا رہا کہ اس شام اتنی جلدی اس کو ہسیٹریائی دورہ نہ پڑے۔ وہ اپنی سانس روکے رہا تو تھوک اس کے منھ میں جمع ہو گیا۔ جوں ہی اس کو یقین ہوا کہ اس کی بیوی ہال میں نہیں ہے، وہ کمرے سے باہر آیا اور دروازہ بند کرنے کا خیال رکھا۔ پنجوں کے بل رینگتا وہ باورچی خانے کی طرف ہو لیا۔

جس وقت وہ داخل ہوا، آہ نوئی پھسکڑا مارے ترکاری کاٹنے میں منہمک تھی۔ اس کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا پیندا کس قدر کَس کے اس کے بسنتی پجامے پر دباؤ ڈالے ہوے تھا تو ہلکی سی جھنجھناہٹ اس کی رانوں میں دوڑ گئی۔ شاید اس نے بھی محسوس کر لیا کہ وہ وہاں اکیلی نہیں کیونکہ وہ ایک دم گھبرائی سی آواز نکال کر پلٹی اور چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر تختے پر گر پڑا۔ خود کو تنبیہ کرتے ہوے کہ وہ پرسکون رہے گا، وہ ایسا بن کر باورچی خانے میں ہر طرف نظر دوڑانے لگا جیسے کہ اس نے اسے دیکھا ہی نہیں، اور پھر خاموشی سے واپس پلٹ کر باغیچے کی طرف نکل گیا۔

جب وحشت کے ابتدائی آثار نمودار ہوے تو خوش بختی ہی سمجھیے کہ بنگلے کے تینوں اطراف جست کے تاروں کا اونچا جنگلہ لگوا کر وہ احتیاط اختیار کر چکا تھا۔ سامنے والی باڑ گھنی تھی اور وہ شمار ہی نہیں رکھ سکا تھا کہ اس کو اس کی خاطر کَے گاڑی گوبر استعمال کرنا پڑا تھا۔ مگر موجودہ چوبی پھاٹک لگنے سے قبل ایک چھوٹا سا جھولنے والا دروازہ تھا جس میں کنڈی لگی تھی اور جو آسانی سے کھولی جا سکتی تھی۔ ایک شام وہ یہ جھولنے والا دروازہ کھلا چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی۔ ڈھونڈنے والے پہاڑی کی ڈھلانوں پر چاروں اطراف پھیل گئے تھے اور کچھ وقت تک اس نے اس بڑے رین ٹری کی طرف اشارہ کرنے سے گریز کیا تھا جس کی ایک موٹی سی ٹیڑھی میڑھی ڈال ایک ضخیم پتھریلی چٹان پر جھکی رہتی تھی۔ مگر جب وہ ان لوگوں کو کہیں نہ ملی تھی تو پھر اس نے ان کو اس پیڑ کا بتایا تھا اور خود تھکن کا بہانہ کر کے ایک گِرے ڈالے پر بیٹھ گیا تھا جبکہ وہ سب اپنی ٹارچیں لیے اس طرف بڑھ گئے تھے۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے تھے، اس نے ان کے قدموں کو گنا تھا۔ بڑے نعرے بلند ہوے جب ان لوگوں نے اس کو پتھریلی چٹان پر کھڑے کھڑے ہاتھ اٹھا کر اس جھکے ہوے ٹیڑھے میڑھے ڈالے کو پکڑنے کی کوشش کرتے دیکھ لیا تھا، اور جب وہ لوگ اس کو لے کر اس کے پاس آئے تھے تب بھی اس نے چیخنا چلّانا بند نہیں کیا تھا اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوے وہیں ان لوگوں کے سامنے اس سے لپٹ کر رو پڑا تھا۔ یہ کئی برس پہلے ہوا تھا۔

چوبی پھاٹک اب مٹیالا ہو چکا تھا، اور اس کے جوڑ کی درزوں میں سبز کائی جم چکی تھی۔ ایک نظر میں اس نے دیکھ لیا کہ وہ بند تھا، اس لیے وہ پورچ میں ہی کھڑا رہا۔ باغیچے میں ایک سبز لان تھا جس میں اس نے سب سے بڑھیا گھاس جو وہ خرید سکتا تھا، لگوائی تھی۔ اس میں جگہ جگہ گھنی پتیوں سے ڈھکے، لذیذ پھلوں والے چھوٹے درخت لگے ہوے تھے۔ اجلے اجلے، پیلے الامینڈر اپنی بھوری پھلیوں سمیت پھاٹک کے قریب اگے ہوے تھے۔ پانچ قسم کے ہبسکس کے پودے اپنے سرخ چکنے پھول اٹھائے لان کے وسط میں لگے تھے۔ اس نے کناروں پر لال اینٹیں چنوائی تھیں۔ الامینڈر کے قریب ہی فرنجی پانی کا ٹیڑھا میڑھا درخت اپنی شاخوں کو اینٹوں کی حد سے بھی آگے پھیلائے وقفے وقفے سے اپنے پھولوں کے پیراشوٹ زمین پر بھیج رہا تھا۔ ہوا میں قدرے خشکی پیدا ہو گئی تھی اور دھوپ اب پیڑوں کی اوپری شاخوں پر پہنچ گئی تھی۔

’’نکل آؤ،‘‘ پیڑوں کی طرف مبہم انداز میں ہاتھ اٹھ کر اس نے بلند آواز سے کہا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے!‘‘ دم سادھ کر اس نے کن سوئیاں لیں۔ ’’تم بےایمانی کر رہی ہو،‘‘ وہ بولا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے، اگر تم یہ کرو گی تو میں نہیں کھیلوں گا۔‘‘ پھر اس نے اپنا سر رک رک کر بائیں سے دائیں گھمایا اور آسمان کی طرف دیکھا جو غروبِ آفتاب کے باعث ہلکا بینگنی بلکہ تقریباً بھورا گلابی ہو رہا تھا۔ تھوک گٹکتے ہوے وہ چلّایا، ’’نکل آؤ!‘‘ اور پھر اس نے ظاہر کیا کہ جیسے وہ اندر جا رہا ہو۔ اس نے گھڑی پر تیزی سے ایک بےچین نظر ڈالی۔

اس کی آواز کی گونج ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی بیوی کا قہقہہ لان کے سرے پر لگی ہبسکس کی جھاڑیوں کے پیچھے سے گونجا۔ وہ جھاڑیوں کو ہلاتی کھڑی ہو گئی۔ بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوے تھے۔ مسکراہٹ سے تھوڑی دیر کے لیے چہرہ شکن آلود ہوا اور پھر وہی بیزاری لوٹ آئی۔ کناروں پر کھلے چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں کو توڑتے ہوے رکتا رکاتا وہ اس کی طرف گیا۔

’’شریر کہیں کی، تم پہلے کیوں نہیں نکلیں؟‘‘ اس نے پھول اس کے ہاتھوں میں پکڑا دیے، جن کو اس نے اونچا اٹھا لیا اور ان کی پنکھڑیوں کو وہ دونوں ہاتھوں سے مسلنے لگی۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں پر لگے سرخ دھبوں کو دیکھا تو پھر سے قہقہہ لگایا۔ اس نے فوراً ہی جیب سے رومال گھسیٹا اور گھبرایا سا اس کے ہاتھ پونچھنے لگا۔ جس وقت وہ یہ کر رہا تھا تو اس نے کنکھیوں سے پورچ کے پاس والی کھڑکی کے پردے کے پیچھے تھوڑی سی حرکت دیکھی۔

’’آہ نوئی، آہ نوئی،‘‘ اس نے آواز دی، ’’ذرا چٹائی تو نکال لانا۔‘‘
سایہ پردے کے پاس سے ہٹ گیا۔

اور پھر وہ باہر آئی، روشن زرد کوندے کی طرح لپکتی، لپٹی چٹائی بغل میں دبائے اور اپنا سر جھکائے وہ ان کی طرف آئی۔ ان کے قریب پہنچ کر چٹائی اس نے زمین پر ڈال دی اور چپ چاپ کھڑی ہو گئی۔ اس کی بیوی نے ملازمہ کو گھورا اور بدبداتے ہوے مٹھیاں بھینچیں۔ لمحے بھر کو اسے اندیشہ ہوا کہ اس کی بیوی اس ملازمہ کو بھی اسی طرح کھدیڑ دے گی جس طرح وہ گزشتہ سال ایک اور ملازمہ کے ساتھ کر چکی تھی، مگر اس مرتبہ اس کی بیوی نے فقط تھوک دیا۔ ’’مجھے الھڑ چھوکریوں سے چڑ ہے، بڑی کتّی خصلت ہوتی ہیں،‘‘ وہ پھنکاری، مگر لڑکی ہلی تک نہیں۔ وہ جلدی سے بولا، ’’جاؤ، تم جا سکتی ہو۔‘‘ وہ اتنی جلدی کوئی ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لڑکی جانے کو مڑی تو اس کی کمر کتنی پتلی دکھائی دی۔

’’آؤ یہاں بیٹھیں،‘‘ اس نے چٹائی گھاس پر بچھا دی۔ جاتی ہوئی لڑکی پر سے نظریں ہٹائے بغیر اس کی بیوی چٹائی پر تن کر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ پھر دور کے خیالوں میں گم ہو گیا۔

اس نے اپنی جیب سے تاش کی وہ گڈی نکالی جو اس کی تلاش کے دوران اس نے میز پر سے اٹھا لی تھی۔ گڈی کے دو حصوں کو انگوٹھوں اور انگلیوں میں دبا کر اس نے بار بار پھریری دی۔ یہ کرتے دیکھ کر اس کی بیوی کے چہرے کا انداز بدل گیا۔ اس نے پتوں کو پھینٹا اور اس کے سامنے کھلے پتے ایک قطار میں جمانے لگا۔ وہ اس کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھتی رہی اور جب اس نے ہاتھ روکا تو بغیر کچھ کہے وہ جھکی اور اس نے غلام اٹھا لیا۔ اس نے گردن ہلائی اور مسکرایا۔ تین ماہ قبل وہ تاش کے پتے پہچان ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ ترکیب اسے ڈائجسٹ کے ایک مضمون سے سوجھی تھی۔ شہر کا کوئی بھی ڈاکٹر اس کے لیے سوا مسکّن دوائیں تجویز کرنے اور اس کو پرسکون رکھنے کا مشورہ دینے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ جہاں تک اس پاگل خانے تن جونگ نائیر اسپتال کا تعلق تھا تو وہ تو ایک قیدخانہ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ وہ اس کو وہاں تو کبھی نہیں بھیج سکتا، حالانکہ چند ڈاکٹر اس کی تصدیق کرنے کو تیار تھے۔ اس کے کچھ کاروباری دوستوں نے سمجھایا بھی تھا کہ آزادی ملنے کے بعد بڑی بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ تب سے وہ متعدد بار تن جونگ نائیر تبدیلیاں دیکھنے جا چکا تھا۔ گزشتہ چھ برسوں میں وہ کئی بار وہاں جا چکا تھا مگر ناامیدی کے سوا اسے کچھ نہ ملا تھا۔

پتے پھنٹے اور چابکدستی سے پرندوں کے پروں کی طرح دوبارہ چٹائی پر پھیلا دیے گئے۔ مگر اس بار اس نے ان کو چھوا تک نہیں۔ اس نے سر اٹھا کر بیوی کی طرف دیکھا۔ پپڑیاں جمے خشک بھورے ہونٹوں کو اندر باہر کرتے ہوے اس نے پھوپھو کرنا شروع کر دیا۔ پھولے ہوے غبارے اور پچکے ہوے جوف کی طرح گال پھولنے اور سکڑنے لگے۔ سوکھی ہوئی چام کے نیچے ہڈیاں اُبھر آئیں۔ دفتر میں اس لڑکی کا کہا ہوا جملہ اس کے ذہن میں کچوکے لگانے لگا، اور ایک صدمے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ اس کی بیوی کے بارے میں ہی گفتگو کر رہی تھیں۔ یہ بات کان میں پڑنے سے چند روز پہلے وہ ایک جوان عورت کی طرح بنی ٹھنی اس کے دفتر آ دھمکی تھی اور جب اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دورے کی حالت میں تھی۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی وہ اس کو اپنے کمرے سے باہر لایا تھا۔ وہ ایک ایسی بےکیف گرم سہ پہر تھی جب ہر ایک اکھڑا اکھڑا اپنی ڈیسک پر بیٹھا وقت گزر جانے کا منتظر تھا۔ اس کی بغلوں میں پسینہ بہہ رہا تھا۔ جب وہ دفتر میں سے گزر رہے تھے تو اس کی بیوی ہاتھ چھڑا کر ایک لڑکی کی طرف لپکی تھی اور اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا تھا۔ لڑکی نے سسکی بھر کر کھڑے ہونے کی کوشش کی تھی مگر اس کی بیوی نے ٹہوکا دے کر اسے دھکیل دیا تھا اور چیخ چیخ کر اس کا سینہ نوچنے لگی تھی۔ ’’بیہودہ! بیہودہ!‘‘ سب لوگ دم بخود دیکھتے رہ گئے تھے۔ چپراسی کی مدد سے وہ اس کو دفتر سے باہر لایا تھا۔ اس سہ پہر وہ پھر لوٹ کر دفتر نہیں گیا تھا۔

’’اچھا، بادشاہ اٹھاؤ،‘‘ اس نے اپنے جذبات قابو میں رکھتے ہوے کہا۔ اس کی بیوی پھونکیں مارتی رہی۔ اس کے گلے میں کچھ پھنسنے لگا اور اس کی آواز بیٹھ سی گئی۔ دفتر میں ہونے والے اس واقعے کی یاد نے اس کی تلخی میں اضافہ کر دیا۔

شاید اس تبدیلی کو اس نے محسوس کرلیا اور یک لخت پھونکنا بند کر دیا۔ اس کے بشرے پر تکان کا اثر نمایاں ہو گیا۔ اس کی آنکھیں گمبھیر ہو کر جھٹپٹے میں چمکنے لگیں۔ اس کا دایاں ہاتھ کانپا اور وہ بار بار اپنی انگلیاں کھولنے اور بند کرنے لگی۔ وہ بالکل چپ بیٹھی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اب وہ روئے گی یا اس پر چیخے گی۔

’’چلو اٹھاؤ،‘‘ اپنی آواز اور بھینچ کر اور اپنی تلخی کا مزہ لیتے ہوے اس نے اصرار کیا۔

اس کے بائیں رخسار کے عضلات جھٹکا لے کر پھڑکے اور جب اس نے گھبرا کر اپنا داہنا ہاتھ پھیلایا تو ساتھ ہی اس کو ٹکٹکی باندھ کر گھورنے لگی۔ اس کو گھورتے جو دیکھا تو اس نے اپنا سر ساکت رکھ کر اس کے آر پار دیکھنے والی ترکیب استعمال کی۔ اس بار اس نے ہتھیار ڈال دیے، اپنا سر جھکا کر اس نے اپنا ہاتھ پتوں کے عین اوپر ٹھہرا لیا۔ اچانک اس سکوت کو پہاڑی کی طرف اڑ کر جاتے ہوے ایک زرد پرندے کی سریلی آواز نے توڑ دیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور سر اٹھا کر پرندے کی اڑان دیکھنے لگی۔ جب اس نے پرندے کی اڑان کا رخ یہ دیکھا کہ وہ بڑے درختوں کی جانب لپک رہا تھا تو اس کے چہرے پر ہیبت چھانے لگی۔

’’یہ دیکھو۔۔۔‘‘ اس نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے کہا کیونکہ وہ بھی دیکھ چکا تھا کہ پرندے کی منزل کدھر تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا، اس نے ہاتھ مار کر تاش چٹائی پر تتر بتر کردیے اور دونوں مٹھیوں سے گھاس پیٹ پیٹ کر بین کرنے لگی۔

’’کوئی بات نہیں، روؤ مت، کوئی بات نہیں!‘‘ اس کی تلخی کافور ہو گئی۔ اس نے اس گھور غم کو محسوس کیا جس نے ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ اس پر اتنا اچانک ٹوٹا تھا کہ اس نے اسے بالکل پست کر دیا تھا۔ ایک بار تو اس نے بھی حقیقتاً ندامت محسوس کی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کانپتا ہاتھ اس کے شانے پر رکھ دیا۔ وہ ایک دم پرسکون ہو گئی۔ ’’آؤ لیٹ جاؤ، تم کو زیادہ آرام ملے گا۔‘‘ جب تک پہاڑی نظر نہ آئے، اس کا سکون برقرار رہے گا۔

اس نے بغیر کسی مزاحمت کے اُسے لٹانے دیا۔ چٹائی پر پاؤں پھیلا کر اس نے اپنے بازو پیٹ پر رکھ لیے اور آسمان کو تکنے لگی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگا، چھوٹی چھوٹی باتیں جو وہ سننا پسند کرتی تھی، ساتھ ہی ساتھ اپنی آنکھیں بند کر کے انگلیوں سے اس کی پیشانی سہلاتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ وہ سو چکی تھی۔ اندھیرا پھیل رہا تھا اور آسمان گہرا اُودا ہو چکا تھا اور اکادکا بدلیاں تیر رہی تھیں۔ ہوا رک گئی تھی، زمین اپنی گرمی کے نم بھپارے رہ رہ کر چھوڑ رہی تھی۔ سڑک پر کاریں تواتر سے اپنی آوازیں بکھیرتی گزر رہی تھیں۔ جب وہ قریب سے گزرتیں تو ان کے ہیڈ ماپ باڑھ پر روشنی کی چتیاں ڈالتے اور سیاہ پتیوں میں جگنو سے اڑاتے۔ پہاڑی کی ڈھلانیں مدھم ہوتے جھٹپٹے کو جذب کر رہی تھیں۔ جیسے جیسے رات کے سائے پھنگیوں کی جانب بڑھ رہے تھے، ویسے ویسے درختوں کی گوبھی نما چوٹیاں اوجھل ہوتی جا رہی تھیں۔ اور وہ زرد پرندہ غالباً کسی بڑے درخت کی جھولتی شاخ پر بسیرا کیے نیچے کالی چٹانوں کو دیکھ رہا ہو گا۔ شام کے دھندلکے میں فرنجی پانی کا پیڑ وقفے وقفے سے اپنے سیاہ جسم سے چھوٹی چھوٹی سفید بوندیں ٹپکا رہا تھا۔

اور اسے سیوچو کا خیال آیا جو اپنے سفید لباس میں اس فرنجی پانی کے نیچے گرے ہوے پھولوں کے درمیان مثل ایک سائے کے بت بنی ششدر کھڑی پہاڑی کے عقب میں غروب ہوتے آفتاب کی بھڑک دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اس کو اندر بلا لے جانے کے لیے گھر کے اندھیارے سے نکل کر دبے پاؤں اس کے پیچھے پہنچا تو اس نے اس کو تقریباً ڈرا دیا تھا۔ وہ اس کی بیوی سے بہت چھوٹی تھی۔ سیوچو اپنی شادی کے دن کے انتظار کا وقفہ گزارنے کے لیے ان کے پاس رہنے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ کنگ منگ کو اس کا نکاحی گواہ بننا تھا کیونکہ اس کے سسر کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کے کنبے میں اور کوئی مرد نہیں تھا۔ شادی میں ابھی کوئی دو ماہ باقی تھے۔ مگر وہ اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کرنا چاہتی تھی جو اس وقت رخصت ہو کر آ گئی تھی جب سیوچو ابھی بچی ہی تھی۔

غالباً پہاڑی کے حسن سے متاثر ہو کر گھر کے اندر جانے سے پہلے اس نے اس کے ساتھ بےتکلفی سے گفتگو کی تھی۔ کسی نوجوان لڑکی سے بےتکلفی سے گفتگو کرنا اس کو ایک انوکھا تجربہ لگا تھا۔

پراسرار کمردرد اور پسینہ چھوٹنے کی تکلیف کے سبب اس کی بیوی کی صحت کچھ دنوں سے گر رہی تھی، اس لیے لڑکی کی میزبانی اس نے کنگ منگ کے سپرد کر دی تھی۔ بعض اوقات وہ سیوچو کو شہر لے جاتا تھا جہاں وہ خریداری کیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ اس کی خوش اخلاقی کا گرویدہ ہوتا گیا تھا۔ ہر شام کھانے کے بعد وہ دونوں باغیچے میں چلے جاتے تھے جبکہ اس کی بیوی معذرت کر لیتی تھی۔ اس کو آپس کی بیشتر گفتگو تو اب یاد نہیں رہی تھی؛ زیادہ تر تو وہی معمولی باتیں تھیں جن سے اس کو دلچسپی تھی۔ لڑکی کو بیرونی دنیا کی معلومات کی چیٹک تھی اور جلد ہی اس کی ابتدائی جھجک جاتی رہی تھی۔ اب وہ اس کو الجھن میں ڈالے بغیر اس کی طرف دیکھ سکتا تھا۔ دو چمکدار سیاہ آنکھیں جن سے رات کی روشنی منعکس ہوتی رہتی تھی، نازک بیضوی چہرہ اور آواز جو کھنکھناتی تھی۔ وہ اس کی بیوی کا بہتر مثنیٰ تھی اور حیرت انگیز طور پر نرم خو تھی۔ اس کی بیوی میں تو ایک مخصوص سی سنگدلی کا شائبہ تھا، ضبط کے پارچے تلے مستور ایک خوابیدہ ڈاہ۔ لڑکی کو دیکھ کر اسے پیلی چڑیا کا پوٹا یاد آ جاتا تھا۔
اب وہ صحیح صحیح تو دہرا نہیں سکتا تھا کہ یہ سب ہو کیسے گیا تھا۔ ایک شام وہ تاش کھیل رہے تھے کہ اتفاقاً اس کی انگلیاں اس کی ہتھیلی کی پشت سے چھو گئیں جو ٹھنڈی تھی مگر اس کو یوں معلوم دیا جیسے اچانک کوئی سلگتی چنگاری آ گری ہو۔ اس کی ریڑھ تن گئی تھی۔ اس رات کے بعد وہ اس سے کترانے لگا تھا۔ اس نے اپنے ان احساسات کو دبانا شروع کر دیا تھا جنھوں نے ایک عجیب پریشان کن صورت اختیار کر لی تھی۔ مگر چند ہی راتیں ڈانواڈول رہنے کے بعد اس نے اس واقعے کو ذہن سے جھٹک دیا تھا بلکہ اسے اس قسم کی بات سمجھنے لگا تھا جس کی پروا نہیں کرنا چاہیے تھی۔ آخر تھا تو وہ ایک امرِ اتفاقی۔

اول اول تو وہ لڑکی حیران پریشان رہی تھی اور اس کے اندر کی تبدیلی کو سمجھ نہ پائی تھی، قہقہے اس کے اب بھی کھنکتے تھے۔

آہستہ آہستہ اس کو گھورے جانے کا احساس ہوا تھا اور پھر جب بھی وہ اس پر سے اپنی نگاہ جلد نہیں ہٹاتا تھا تو اس کی تیوری پر تشویش نمایاں ہو جاتی تھی۔ وہ اس سے خوفزدہ نظر آتی تھی۔ مگر جب تک رات کی دبیز ہوا میں اس کی تازہ سنگتروں جیسی خوشبو آتی رہتی تھی تب تک اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی کہ وہ لڑکی اس کو پراسرار سمجھتی تھی۔

جس روز ملک کی آزادی کا اعلان ہوا تھا، وہ بار میں اپنے کاروباری ساتھیوں کی سنگت میں جام لنڈھا کر اور ویٹریسوں سے ٹھٹھولیاں کر کے جشن مناتا رہا تھا اور جب وہ معمول سے ذرا دیر میں گھر پہنچا تھا اور اپنے پنجوں پر اپنا توازن قائم کرتے ہوے کار سے نکلا تھا تو وہ اس کو فرنجی پانی کے نیچے آسمان کی طرف منھ اٹھائے کھڑی آتش بازی کا تماشا دیکھتے ہوے ملی تھی۔ جلوس بہت پہلے گھر کے پاس سے گزر کر دور جا چکا تھا۔ وہ دبے پاؤں چلتا اس کے نزدیک گیا تھا۔ وہ اس سے معلوم کرنے لگی تھی کہ شہر میں کیا کچھ ہوتا رہا تھا۔ بےشک وہ شراب کی ترنگ ہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کی جلد کو چھیڑا تو برانڈی کے اثر سے نرالے احساسات اس کے تن بدن میں دوڑ گئے تھے، یہاں تک کہ اس کو پور پور مدہوش ہوتی لگی تھی۔ وہ شہر کی ان خوشی سے تمتماتے چہروں والی حسیناؤں کے تصور کا ہی اثر تھا جس نے اس سے وہ حرکت سرزد کروائی تھی۔ اس نے اس کو اپنی بغل میں کھینچا تھا اور سر ابھی چکرا ہی رہا تھا کہ اس کو چوم لیا تھا۔ اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ آتش بازی نے آسمان پر روشنی کی ایک چھتری سی چھا دی تھی اور اندھیارے میں اجالے کے نقطے سے بکھیر دیے تھے اور جیسے ہی اس نے اپنے آپ کو چھڑا کر علیحدہ کیا تھا، ان کی نظر پورچ میں کھڑی ہوئی بیوی پر پڑی تھی۔ لڑکی خود کو چھڑا کر بھاگی تھی اور اس کی بیوی کے پاس سے گزر کر دوڑتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ یہ سراسر اس کی نادانی تھی۔ اگر وہ اس رات بھاگی نہ ہوتی تو اس نے کوئی نہ کوئی عذر تراش لیا ہوتا۔

رات گئے تک آتش بازی چھوٹتی رہی تھی مگر گھر میں ایک بےچین کر دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اپنے کمرے میں جانے کے بجاے وہ جھونک میں آ کر پنکھے کے نیچے کوچ پر ہی پڑ رہا تھا۔ اس کی بیوی نے اس کا سامان کمرے کے باہر پھینک دیا تھا۔ اس کو گمان گزرا کہ ایک مرتبہ اس نے خواب میں کسی تاریک سائے کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا تھا اور جب اس نے کروٹ لی تھی تو سائے نے اس کے گال کو چھوا تھا۔ صبح ہوتے جب اس کی نیند اچٹ گئی تھی تو وہ اٹھ گیا تھا اور تادیر ہال میں ٹہلتا رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے کمرے میں جھانکا تھا۔ اس کی بیوی گہری نیند سو رہی تھی۔ وہ دوبارہ ٹہلنے لگا تھا۔ آخرکار وہ دوسرے کمرے کی طرف گیا تھا اور جب اس نے دروازہ کھولا تھا تو وہ کانپ رہا تھا۔ مگر سیوچو کا بستر خالی تھا۔ وہ اس کو پورے گھر میں چپ چاپ تلاش کرتا پھرا تھا اور پھر باغیچے میں نکل گیا تھا۔ جب وہ گھر میں جانے کے لیے پلٹ رہا تھا تو اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تھی جو کھلی ہوئی تھی۔ باہر سڑک سنسان تھی۔ بےچینی محسوس کرتے ہوے وہ ہال میں آیا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو جگانے کی ہمت کی تھی اور جس وقت تک وہ کھوجیوں کو اکٹھا کر سکے تھے، دن نکل آیا تھا۔ ایک تنگ حلقہ بنائے انھوں نے پہاڑی کی ڈھلانوں کو کھنگالنا شروع کیا تھا۔ اس کی بیوی نے ہی سب سے پہلے اس کو رین ٹری کی اس ٹیڑھی میڑھی شاخ سے جھولتے لٹکتے دیکھا تھا۔ ایک چھوٹا سفیدپوش پیکر سیاہ چٹان کے اوپر لٹکا ہوا تھا۔ جب دوڑ کر وہ اُدھر گئی تھی اور اس لڑکی کو نیچے کھینچنے لگی تھی تو اس کی آہ و زاری نے دور دور تک پہاڑی کی خاموشی کو پاش پاش کر دیا تھا۔ سہارا دے کر وہ اپنی بیوی کو گھر لے آیا تھا اور ڈاکٹر بلوایا تھا۔

وہ حقیقتاً پشیمان تھا۔ ذہن ہی ذہن میں اس نے تقدیر سے شکوہ کیا تھا۔ آخر کو تھی تو وہ ایک معمولی سی بات، پھر اس کا انجام یوں کیوں ہوا؟ کنگ منگ نے کبھی بھی یہ حقیقت قبول نہیں کی کہ زندگی ایسے ہی صورت اختیار کرتی تھی جیسے جھینگر کے حلق سے نکلی ایک یکہ و تنہا تھرتھری رات کو پہاڑ بنا دے۔

یہ سات برس پہلے کی بات تھی۔ رات کی خنک ہوا نے اس کے چہرے کو منجمد کر دیا اور وہ کانپا۔ گھڑی کے روشن ڈائل پر 7:54 کے ہندسے نظر آئے۔ اس کی بیوی اب بھی چٹائی پر سوئی پڑی تھی۔ سڑک پر اچانک خاموشی چھا گئی تھی۔ دھیمے دھیمے ایک نئی آواز ابھری۔ شروع میں بہت مدھم، دور سے آتی ہوئی گاجے باجے کی آواز، جو بتدریج قریب آتی گئی۔ بیوی اب بھی سو رہی تھی اور وہ اس اُدھیڑبُن میں تھا کہ آیا وہ پھر وہی کچھ ہونے دے۔ گردن گھما کر اس نے ہال کی روشنیوں کو گلابی پردوں میں سے چھن کر آتے دیکھا اور اپنے ہونٹ چباتے ہوے اس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ جس بات کا خیال اسے آیا تھا، وہ نہ ہو۔ سیوچو کی موت کے بعد وہ اندر سے ڈھے گیا تھا۔ بند ٹوٹ چکا تھا۔ آبِ زُلال اب غلیظ سیل بن چکا تھا۔ اس نے اپنے گھٹنوں میں سر دے لیا اور اپنی چپنیوں کو زور سے دبایا۔ یہاں تک کہ ماتھا دُکھنے لگا۔ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر باڑ کی سمت دیکھا۔ آتے ہوے جلوس کے گیس ہنڈوں سے آتی ہوئی روشنی کی وجہ سے باڑ سلمہ ستارے والی ہو گئی تھی اور ہوا میں سانپ کی طرح لہرا رہی تھی۔ جلوس کی آوازوں نے پھیل کر فضا کو پُرشور کر دیا تھا۔ گاتی بجاتی آوازیں، نفیریاں، بینڈباجوں پر فوجی نغمے… اور اچانک مائیکروفون نے تلوار کی طرح وار کیا۔ ایک تیز کرخت آواز آئی، ’’آزادی، ہماری قوم زندہ باد!‘‘ اور خلقت کی طرف سے نعرہ بلند ہوا، ’’آزادی، آزادی!‘‘

اس کی بیوی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور بغیر کچھ سمجھے دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ یک لخت تاریک آسمان میں دور اوپر آتش بازی پھٹ پھٹ کر اپنی شاخیں پھیلانے لگی تو جلوس میں سے زوردار نعرے بلند ہوے۔ ایک پل کے لیے اس کی بیوی بالکل حواس باختہ رہی اور پھر ایک جست مارکر چیخ پکار کرتی گھر کے اندر بھاگ گئی۔

جب وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں گھسا تو وہ اپنے بستر پر لیٹ چکی تھی اور اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔

’’آہ نوئی! آہ نوئی!‘‘ کنگ منگ بیوی کی چیخوں سے اپنی آواز زیادہ بلند کرتے ہوے پکارا، ’’اِدھر آؤ، فوراً!‘‘ اس نے خود کو بیوی پر گرایا اور جب وہ اٹھنے لگی تو اسے جکڑ لیا۔ گردن گھمائی تو اس نے ملازمہ کو دروازے میں ٹھٹکے ان دونوں کو دیکھتے ہوے پایا۔ ’’جلدی کرو! جلدی سے گولیوں کی شیشی اور ایک کپ پانی لے آؤ۔۔۔۔ جلدی کرو!‘‘ اس نے چیخ کر سہمی ہوئی لڑکی کو حکم دیا۔ لڑکی پھرتی سے گئی اور دوا کی شیشی اور پلاسٹک کپ لے کر آ گئی۔ ’’ادھر آؤ!‘‘ اس نے اپنا آزاد ہاتھ ہلایا۔ ’’جب میں دوا دوں تو تم ان کو کس کر دبائے رہنا۔‘‘ اس نے دل میں دعا مانگی کہ وہ اٹھ کر بھاگ نہ جائے۔ لڑکی نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔

جب اس کی بیوی نے دیکھا کہ اسے کون پکڑے تھا تو گالیاں کوسنے اس کے منھ سے ابل پڑے۔ لڑکی پیلی پڑ گئی۔ اپنی انگلیوں کی لرزش کو قابو میں کرتے ہوے اس نے شیشی کا ڈھکن کھولا اور گولیاں اپنی ہتھیلی پر انڈیلیں اور پھر جھک کر اس نے بیوی کے پے در پے چپتیں لگائیں اور اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی چمٹی سی بنا کر اس کے گالوں کو دبایا اور زبردستی اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ اس نے منھ سے غرغراہٹ پیدا کی، حیرت انگیز قوت سے بل کھا کر پہلو بدلا، اپنا چہرہ اس کی گرفت سے چھڑا لیا اور اسی لپیٹ میں لڑکی کو وہ اپنے ساتھ گھسیٹ لے گئی۔ اس اچانک زورآزمائی نے اس کا توازن بگاڑ دیا اور اس نے خود کو اس حالت میں پایا کہ اس کا سینہ لڑکی کے کندھوں کے اوپر تھا۔ زور لگا کر اس کی بیوی نے دوبارہ اٹھنا چاہا تو لڑکی کے سرین اچھلے اور اس کے پیٹ سے ٹکرا کر پچک گئے۔ اس کی رانوں میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اپنا بایاں ہاتھ لڑکی کے سر کے اوپر سے نکال کر اس نے بیوی کے رخسار پھر انگلیوں کی گرفت میں لیے، آہستہ آہستہ اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے گولیاں اس کے لرزتے منھ میں ڈالیں اور منھ بند کر کے دوسرے ہاتھ سے ناک دبا دی۔ اس کی بیوی نے گولیاں یوں نگلیں جیسے اُبکائی لے رہی ہو۔ لڑکی اب رونے لگی تھی۔ اس گڑبڑاہٹ میں اس نے اس کے سرین پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر کانپتے ہوے کمزوری محسوس کرنے لگا۔ تادیر تینوں اسی طرح ایک دوسرے میں الجھے رہے۔
ایک دھچکے کے ساتھ اس کو احساس ہوا کہ وہ تو لڑکی کے کان کے نیچے واقع گلابی مسّے کو چاٹ رہا تھا، اپنی زبان کی نوک سے اس کو تر کر رہا تھا اور اس کی ناک اس کی لیموں جیسی مہک کو یوں سونگھ رہی تھی جیسے کہ وہ کتّا ہو۔ وہ خود کو اس کے بدن سے مس کر رہا تھا، اور تب ہی غشی کی ایک لہر سی اس پر سے گزر گئی۔ اپنے جسم کو اس سے دور ہٹاتے ہوے وہ خود کو آپے میں لایا اور اپنے آپ کو تھکی تھکی آواز میں کہتے سنا، ’’تم اب جا سکتی ہو۔‘‘ اس کی بیوی اب بھی اس کے بوجھ تلے دبی پڑی تھی۔ لڑکی اس کے جسم پر دباؤ ڈالتی اٹھی اور جب وہ پلنگ سے اتری تو اس کا اسپرنگ اپنی جگہ آیا اور پلنگ چرچرایا۔ جب اس نے منھ گھمایا تو اس کی نظریں لڑکی کی عجیب الجھن میں گرفتار نظروں سے ملیں۔ وہ ابھی تک پلنگ کے قریب کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بات کو پا جانے والی چمک تھی۔ ’’تم جاؤ، میں ٹھیک ہوں...میں اب ٹھیک ٹھاک ہوں،‘‘ اس نے دہرایا اور منھ پھیر لیا۔ وہ ذرا سا کُب نکالے وہاں سے چل دی۔ جب وہ چلی گئی تو وہ اپنی بیوی پر جھکا چپکے چپکے روتا رہا جو کچھ اس طرح ساکت پڑی تھی جیسے مردہ ہو۔

دھوم دھڑکّا آدھا گھنٹہ ہوا ختم ہو چکا تھا۔ وہ آہستگی سے پلنگ سے اٹھا، باغیچے میں جا کر بکھرے ہوے تاش سمیٹے اور چٹائی کو لپیٹا۔ رات اندھیری تھی اور آتش بازی اب بھی آسمان پر چھوٹ رہی تھی۔ اس کو ناتوانی محسوس ہوئی تو اس نے ایک درخت سے ٹیک لگا لی۔ ایک بڑا سا چکنا پھول اس کے گال کو چھوتا ہوا زمین پر جا گرا۔

جیسے ہی وہ واپس جانے کے لیے مڑا، لڑکی کے کمرے کی بتی بجھ گئی۔ اسے جُھرجُھری شروع ہوئی تو اس نے لان کے کنارے ٹھٹک کر آنکھیں موند لیں اور بڑی دقت سے اپنے قدم اٹھائے۔ اس نے غور سے اس کی آواز پر کان لگائے لگائے ہال کی بتیاں بجھائیں۔ جھینگر کے حلق سے ایک کراہ نکل کر فضا میں لرزنے لگی۔ فاختیٔ رنگ کی چھپکلیاں اپنے شکار کی تلاش میں چھت کے تختوں پر رینگیں۔ پچھلی بار کون سی تھی؟ کیا وہ آہ پن تھی جو پھرتی سے اپنا دروازہ بند کرتے ہوے ہکلائی تھی؟ یا وہ آہ کِم تھی جس نے کپڑوں پر استری کرتے ہوے عیّار نظریں مٹکائیں اور پھر اس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی؟ یا آہ پوہ جس نے باہر نکل کر بھاگنے کے لیے بیرونی پھاٹک دھڑدھڑا ڈالا تھا؟ لگتا تھا اتنی بہت سی تھیں۔ تھکن محسوس کرتے ہوے وہ اپنی بیوی کے کمرے میں گیا اور کرسی پر مڑتڑ کے پڑ رہا اور بستر پر پڑے اس کے مبہم جسم کو دیکھتا رہا۔ خدا کا شکر کہ اگلے دن چھٹی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان ڈراؤنے خوابوں کی کشش سے پیچھا چھڑانے میں لگ گیا جو اب کثرت سے آنے لگے تھے۔ مکان کی بالائی منزل میں بلیاں دبے پاؤں گھوم رہی تھیں۔ اس نے سوچا کہ ایک طرح سے وہ خوش تھا کہ اس کا اپنا گھر تھا اور روپے پیسے کی طرف سے بھی کوئی فکر نہیں تھی۔ آزادی نے اس پر بڑا ہُن برسایا تھا۔ بس اگر سیوچو بھی زندہ رہتی۔۔۔۔ اگلے دن کے لیے جب اس نے گھڑی کو کوک دی تو اندھیرے میں اس کی روشن سوئی تھرتھرائی۔

آج

آج

سہ ماہی "آج" کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔


Related Articles

پِٹا ہوا مہرہ

یہ عینک اس کی نظر کی کمی کو کسی طور پورا نہیں کرتی۔ یہ بس اس کی تنہائی کی ساتھی ہے۔ اس کی صفائی میں کچھ لمحے بیت جاتے ہیں۔ زندگی موت کی طرف دو قدم آگے بڑھ جاتی ہے جیسے ٹرین نے دو اسٹیشن پار کرلیے ہوں۔

کنجڑا، قصائی

تحریر: انور سہیل انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے

حکایات جنوں

خدا کے ترازو کے آس پاس داڑھیوں، مسواکوں، تسبیحوں، مصلوں، برقعوں،صحیفوں، کھجوروں، تلواروں، ٹخنے سے اونچی اور ٹخنے سے نیچی شلواروں اور لوٹوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ، خدا نے انسانوں کی صرف روحیں تولنے کا حکم دے دیا تھا۔