جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ

بلاشبہ
وہ بہت اچھا ہے
میری کتھا سن کر رودیتا ہے

آج کل
اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے

محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔
ونٹر کی چھٹیوں میں
اسے گھمانا ایک الگ کام ہے

روز شام کو یہ کہتے ہکلا جاتا ہے
کہ
آج کسی کو ڈنر پہ لے جانا ہے

میں آدھے جھوٹ سے پورا سچ جان جاتی ہوں
اور
"بائے" کہہ کر
دکھی ہوجاتی ہوں

وہ مجھ سے پہلے بھی
کسی اور کا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھدی سوچ کے پاؤں میں کھلتا کنول

مختلف شکلوں کے لوگوں کے ہجوم میں
مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آوازوں کا شور تھا۔
لفظوں کی باتیں کرتی لڑکی کو کٹہرے میں لایا گیا

سچ لکھنے کے جرم میں
خون آشام درندہ الزامات کا بوجھ اٹھائے چیخا
قلم قبیلہ عورت
کلنک کا ٹیکہ ھے

وقت ذرا الٹی چال کیا چلا
نظروں نے سوچ کے زاویہ کو بگڑا دیکھا
ہوا مخالف سمت چلتی
اس کے بدن میں شگاف ڈالنے لگی

وہ بدشکل بھدی سوچ کے پاؤں تلے روندی گئ
لکھتی انگلیوں سے رستے خون سے معصوم چہروں کا نصیب سنوارتے
تن تنہا
پیروں میں الجھے کانٹوں سے
حرف حرف درد ٹپکاتی رہی

پہاڑوں کی چوٹیوں پہ
برف گرتی رہی
لڑکی
قلم تھامے سچ کی نوک سے
بوڑھے خبطی کی ریش پہ مکالمہ لکھتی رہی
آوازوں کا ہجوم
بدن میں تھکن اتارتے اس پہ کیچڑ اچھالتا رہا
کسی آواز کی بیٹی گھر سے بھاگی
تو آوازیں خود کشی کرنے لگیں

آسماں سے خدا نے جھانکا
سورج نے انگڑائی لی
دھوپ نے حدت اوڑھی
برف پگھلا کر
لڑکی کو باعزت بری کر دیا۔

سنا ھے، بالوں میں سفید پھول ٹانکتی لڑکی
بالوں کی چاندی سے اکثر اپنے گھر کا پتہ پوچھتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرارت

نیلی چڑیا نے
ندی کے چمکتے پانی میں
سورج کو نہاتے دیکھا

اس نے سبز شاخوں پہ جھولتی
رو پیلی کرنوں کے سنگ
پانی میں شرارت کرتے
پر کیا بھگوئے
اف!
سارا پانی
نیلگوں ھو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب فاحشہ کا لفظ ایجاد ہوا

جب پہلی بار
گھریلو عورت کے لئے
فاحشہ کا لفظ ایجاد ہوا
یقیناً۔۔۔۔۔۔
اس عورت نے دعا کی ہوگی
زمیں میں پناہ لینے
یا
آسمان کی طرف اڑ جانے کی

میں اب کبھی کبھار فرصت میں
لفظ کے اندر چھپے
درد کے بارے میں سوچتی ہوں
پاؤں خوف سے کانپ جاتے ہیں
ہونٹوں پر خاموشی
اور
ہاتھ کی چوڑیاں
گبھرا کے ٹوٹ جاتی ہیں
اس لئے کہ
اس لفظ کے آزادانہ برتاؤ کے بعد
عورت کا سایہ بھی
ساتھ چلنے سے انکار کر دیتا ہے

میں ڈائری میں لکھتی ہوں
موجودہ معاشرے کے زوال کا سبب
اس لفظ کے غبار میں
تلاش کیا جا سکتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگل اور سمندر کے درمیان

اس نے کہا
مجھ سے ملنے آنا
میرا گھر بہت خوبصورت ہے

میں نے کہا
میرا پہلا عشق سمندر تھا
دوسرا جنگل

سنو!
میرا گھر جنگل اور سمندر کے درمیاں ہے
ہرن اور مچھلیاں
ساتھ ساتھ رقص کرتے ہیں

میرا تیسرا قدم اٹھا ہی رہ گیا
تیسری آواز نے اسے ناشتہ کے لئے
بلا لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صحرا کی ریت پھانکتی لڑکی

تم نے الزامات کی پوٹلی
سر راہ کھول کر
زمانے بھر کی خاک میری مانگ میں بھر دی
میں چپ رہی

تم نے اک اک سے
ناکردہ گناہوں کی خود گھڑی داستاں کہی
میں نے لب سی لئے

معصوم فرشتوں کی بھولی مسکان
میں ھمکتی امیدیں
مجھے جاں سے بڑھ کر عزیز تھیں۔
تونے سب روشنیاں گل کر دیں۔
میرے سینے میں زخم در زخم
فروزاں کی ہیں سب لہو کی شمعیں

تاریک راہوں کو میرا پتہ دے کر
جنگلوں میں بھٹکا کر
آبلہ پیروں میں صحرا باندھ کر
مجھے تنہا چھوڑ دیا۔
میں روئی
کوئی حرف شکایت نہ کہا

مگر تو نے تو۔۔۔۔۔۔
کل شام حد کر دی۔
میری پیوند لگی چادر کھینچ کر
بیچ بازار بو لی لگا دی۔
بہت سستے میں بیچ کر
اپنی انا بچانے والے
یاد تو کر
میں نے کہاں کہاں
اپنی کنواری خواہشوں کو گروی رکھا
صحراوءوں کی ریت پھانکی
اپنی تشنگی بیچ کر
تیری راہ میں رل گئی
اور
تم رشتوں کی زنجیر بدلنے میں
کتنے جلد باز نکلے۔
میں نے تیرے پیروں کے کانٹے نکال کر
دل میں چھپا لئے

میری زباں پہ تیرے بھرم کے وعدے رکھے رہے
اور
زمانہ بھر کی رسوائیاں
میری جھولی میں گرا کر
اب تم کہتے ھو۔۔۔۔
میں وہ نہیں
جسے تم چاھو۔

سنو میرے دوست!
اس نے کیسے مجھے باندھ کر مارا۔
ذات پہ لگے
رسوائیوں کے داغ کیسے دھلتے ہیں
یہ کون بتائے گا۔۔۔۔؟؟؟؟؟

Image: Christian Schloe


Related Articles

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں

وقت کا نوحہ

ثروت زہرا: میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے

دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے