کتبہ (فیثا غورث)

کتبہ (فیثا غورث)

میں نے اک گیت لکھا
اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں

میں نے اک نظم کہی
اور وہ چھت سے کود گئی

میں نے اک کہانی بُنی
اور وہ پھندے سے لٹک گئی

میں نے اک بچہ جنا
اور اس نے مجھے قتل کر دیا


Related Articles

ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں

ایچ-بی- بلوچ: بڑھاپا کسئ چیز کو
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے

روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

سدرہ سحر عمران: جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں

A Story Retold

Sarosh Azeem: His tears watered the little sapling
their love had grown
after she had gone
and manured it with
ashes of memories