کتبہ (فیثا غورث)

کتبہ (فیثا غورث)

میں نے اک گیت لکھا
اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں

میں نے اک نظم کہی
اور وہ چھت سے کود گئی

میں نے اک کہانی بُنی
اور وہ پھندے سے لٹک گئی

میں نے اک بچہ جنا
اور اس نے مجھے قتل کر دیا


Related Articles

تری خیر انارکلی۔۔

(اختر عثمان) تری خیر انارکلی تو جنموں لیکھ جلی نورتن ترے درپَے ہی رہے دیوار میں چنوا کر نہ جیے

جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار

شہر ادھیڑا جا چکا ہے

سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ