آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)

خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے
کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے

غُربت میں تیری یاد سہارا بنی رہے
تیرا خیال ساتھ رہا ہم جہاں رہے

ہم کو تیرے حضور سبھی کچھ قبول تھا
مجبور بھی رہے تو بہت شادماں رہے

جی بھر کے ہم نے لطفِ ستم تو اٹھا لیا
نامہرباں رہے تو بڑے مہرباں رہے

کب ہم کو امتیازِ فراق و وصال تھا
کیا جانیے کہ آپ کہاں ہم کہاں رہے


Related Articles

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا

آج کا گیت: لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے (اقبال بانو)

کلام: محمد ابراہیم ذوق آواز: اقبال بانو لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی

آج کا گیت: تنہائی کے سب دن ہیں (قاری وحید ظفر قاسمی)

کلام: محمد علی جوہر نعت خواں: قاری وحید ظفر قاسمی تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں اب