آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)

خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے
کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے

غُربت میں تیری یاد سہارا بنی رہے
تیرا خیال ساتھ رہا ہم جہاں رہے

ہم کو تیرے حضور سبھی کچھ قبول تھا
مجبور بھی رہے تو بہت شادماں رہے

جی بھر کے ہم نے لطفِ ستم تو اٹھا لیا
نامہرباں رہے تو بڑے مہرباں رہے

کب ہم کو امتیازِ فراق و وصال تھا
کیا جانیے کہ آپ کہاں ہم کہاں رہے


Related Articles

آج کا گیت: آج تجھے کیوں چُپ سی لگی ہے (ناصر کاظمی، اسد امانت علی خان)

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے آج تو جیسے ساری دنیا ہم

آج کا گیت: لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے (اقبال بانو)

کلام: محمد ابراہیم ذوق آواز: اقبال بانو لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی

آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)

سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں خدا کرے کہ تیرے