خواب اور دیگر عشرے (رحمان راجہ)

خواب اور دیگر عشرے (رحمان راجہ)

ع//خواب

کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب
اپنے پورا ہونے کے امکانات
ساتھ لیے پھرتے ہیں
تمھارے خواب دیکھنے کے لیے
میں رات کا انتظار نہیں کرتا
نرم بستر آنسووں کو خوابوں سمیت جذب کر لیتے ہیں
تمھارے خواب تنہائی یا ہجوم
کہیں بھی دیکھے جا سکتے ہیں
میں تمھارا خواب کینٹن میں
تمھارے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر دیکھتا ہوں

عشرہ//پوائنٹ آف ویو

میں چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتا ہوں
سنہرے بالوں تلے چھپی گندمی گردن
مجھے اپنی طرف مائل نہیں کر پاتی
ریسنگ ٹریک سے اٹھتا دھواں
مرا دھیان بٹانے میں
سب گاڑیوں کی رفتار پر سبقت لے جاتا ہے
تمھاری آنکھیں بھی خوبصورت ہیں لیکن
میں اپنی نظریں
تمھاری ایڑھیوں کی
گہری ہوتی ہوئی دراڑوں سے ہٹا نہیں پاتا

ع//انتظار ختم ہو جاتا ہے(ابرار کے لئے)

یہ دن بھی کونے میں رکھی ہوئی کرسی کے ساتھ گزر جائےگا
لیب میں اے سی گرمی دور کرنے کی غرض سے لگائے جاتے ہیں
پنکھوں کے بر عکس یہ انسانوں کو اپنی باتیں سنانے میں ناکام ہیں

کواڑوں کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آنکھوں کو متوجہ کرتی ہے
ٹیبل پہ رکھی کتاب پر رینگتا ماؤس دائیں، بائیں ہو کر اک جگہ ٹھہر جاتا ہے
سکرین کئی رنگ اور شکلیں بدلنے کے بعد ان کے ایک مجموعے پر ساکن ہو جاتی ہے
آنکھیں کی بورڈ پر مختلف ایلفابیٹس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے دھندلا جاتی ہیں
ہوم بٹن ایک دفعہ پھر بے گھری کا احساس دلانے میں کامیاب رہتا ہے
چیزوں / لوگوں کو اگر مطلوبہ وقت نہ دیا جائے تو وہ غائب ہو جاتے ہیں

آخری دفعہ دروازہ کھلتا ہے اور ایک آشنا چہرہ پر نظر پڑتے ہی سکرین آنکھیں بند کر کے سلیپ موڈ میں چلی جاتی ہے

ع // رنگوں سے کھیلتے بچے

تا دیر یاد رکھے جانا چاہتے ہیں
وہ اپنے ہاتھ کینوس پر چھاپ دیتے ہیں

بے نام نشان مکمل تصویر نہیں بناتے

معلوم نا معلوم ہاتھ چھین لیتے ہیں تصویر
شامل کر دیتے ہیں مرضی کے رنگ

نفرت کا سیاہ چھپا لیتا ہے انتظار کے پیلے کو
عناد کا سبز دبا لیتا ہے اطمینان کے نیلے کو

بلکل با خبر رہتے ہوئے معصوم بچے
مکمل نامکمل تصویر
اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں


Related Articles

اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

جنید الدین: ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے

عشرہ // ڈھوک مری میں ویلینٹائن ڈے

ادریس بابر:شام، یہی سب، ترتیب الٹ کر، دہرایا گیا
ڈھوک مری میں ویلینٹاین ڈے منایا گیا

سرکاری ہسپتال اور دیگر عشرے

رحمان راجہ: ﮨﺭ کسی ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺭ ﭘﮭﺭ سے
ﻭﮨﯽ روایتی سے جملے ﮨﯿﮟ
مرنے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ لیے
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﺍ خالی ﭼﯿﮏ بھر لیا ہو گا
حاکم شہر نے افسوس تو کر لیا ہو گا