خواب کے دروازے پر

خواب کے دروازے پر

سو جاؤ!
اے گلِ شب سو جاؤ!!
جب صبح ہو گی
میں یہیں کہیں ہوں گا
تمہارے آس پاس
تمہیں تمہاری مقدس تاریکیوں سے
طلوع ہوتے ہوئے دیکھوں گا

سو جاؤ ، سو جاؤ!!
رات طویل ہے
ہمارے انتظار سے بھی طویل
جب ہم طلوع ہوں گے
کائنات کے کسی دور دراز حصے میں
خدا تنہائی کی آخری حد سے گزر رہا ہو گا

اور میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا

آ جاؤ، آؤ
اندر آ جاؤ
کھلے دروازوں پہ رکا نہیں کرتے!!
Image: Christian Schloe

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

ایک روشن روح

یلنا سپرا نووا:دانائی کے ارفع عالم کے در کھول کر
سننسی خیزی کو
شفاف پاکیزگی میں تبدیل کرتے ہوئے
تم پہاڑوں کی
بلند و بالا چوٹیاں سر کر جاتے ہو

نیند پری کی موت

علی محمد فرشی: ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

اس طرح کی ایک چھٹے بادلوں والی صاف آسمان کی رات
روح کو آزاد اونچا اڑانے کو کافی ہوتی ہے
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد
گھنٹہ گھر کا منظر کافی متاثر کرتا ہے
ہلکے سے بور کرنے والے
اٹھارہویں صدی جیسے احساس کی مانند