خواب میں اِک بازار لگا تھا (عظمیٰ طور)

خواب میں اِک بازار لگا تھا (عظمیٰ طور)

آنکھ لگی تو
خواب میں اک بازار لگا تھا
طرح طرح کے اسٹال لگے تھے
ایک ریڑھی پر کوئی
مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا
محبت کی قیمت اتنی کم تھی
سنتے ہی میں رو پڑی تھی
احساس بیچنے والا
مجھ سے نظریں نہ ملا پایا
دل کی دھڑکن
اپنے بکنے پر نالاں تھی
مروت تروڑی مروڑی پڑی ہوئی تھی
آنسوؤں کے پیالے کے نیچے خواب پڑے تھے
بلک رہے تھے
امیدوں کی چھوٹی سی گٹھڑی کھلی پڑی تھی
سسک رہی تھی
آس پتھر کی مورت کی صورت
ایک کونے میں دھری تھی
میری آنکھیں جلنے لگی تھیں
خواب میں اک بازار لگا تھا
اک ریڑھی پر کوئی
مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا


Related Articles

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان

گن رہی ہوکیا

تنویر انجم: اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں

The Hate Poem from the Rebel in Each of Us

The Hate Poem from the Rebel in Each of Us A ghost scared to death The infinite terror of children’s