خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے
مجھے زندگی کی
مزدوری پر لگا دیا گیا ہے
میرا تعارف یہ ہے
کہ اغواہ شدہ خوابوں کے
لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں
میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے
نابود ہو گئے
میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے
اور زمانے نے
اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے
روشن خوابوں کو
اغوا کرنے کا چلن اپنایا ہے
گزشتہ سال ایک ویرانے سے
میرے دو خوابوں کی لاشیں ملیں
ایک خواب میں میرے والد
اور دوسرے میں میرا بڑا بھائی مقیم تھا
خوابوں کے چہرے اتنے مسخ تھے
کہ مجھ سے اُن کی خوشبو کو بات کرنی پڑی
مجھ سے ملئیے
بھوک ہڑتالی کیمپوں
اور بینروں کی تحریروں کے علاوہ بھی
میں ہر جگہ دستیاب ہوں
میرا دشمن جس مورچے پر چاہے
میں اُس سے لڑ سکتا ہوں
میں لڑ سکتا ہوں
اپنے بچوں کے خوابوں کی حفاطت تک
اُس وقت تک
جب میرے ماضی کے محل کے
دریچوں سے
خوابوں کی روشنی جھانکنے لگے
Image: Toym de Leon Imao


Related Articles

26 Poems on Physical Love and Sex

They include the poets from Ovid to Rumi, from Browning to Yeats, from Dickenson to Plath, from Auden to Lawrence

غیر معمولی عورت

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

فرض کرو

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب خواب کی ساری گلیوں سے مسلک کے تماشے دور رہیں
ہم عشق نشے میں چور رہیں

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*