کنویں کے اندر کا آدمی (محمد جمیل اختر)

کنویں کے اندر کا آدمی (محمد جمیل اختر)

کتنے زور سے چیخوں تو آواز کنویں سے باہر سُنائی دے گی؟‘‘

سال پہلے، ہاں غالباً یہ سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔

پڑھنے والے اِس میں دوچار مہینے کم یا زیادہ بھی کر سکتے ہیں کہ کنویں میں کیلنڈر دستیاب نہیں حتٰی کہ یہاں گھڑی بھی موجود نہیں اور سچ پوچھیے تو کنویں میں کیلنڈر اور گھڑی کا کیا کام؟ یہ ایک سال صرف میرا اندازہ ہے عین ممکن ہے یہ کئی سال پر مُحیط کہانی ہو۔۔۔کنویں میں رات اور دن کا مطلب ایک ہی ہے۔۔۔

ایک منٹ سے دوسرے منٹ کے درمیان وقفہ ساٹھ سیکنڈز نہیں ہے اور نہ ہی ایک گھنٹے سے دوسرے گھنٹے کا فاصلہ ساٹھ منٹ ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایک ہفتے سے دوسرے ہفتے کافاصلہ سات دن ہے اور سال میں تین سو پینسٹھ دن ہیں تو کنویں کے روزوشب کے حساب سے یہ سب غلط ہے ۔۔۔خوشی، غم ، آزادی اور قید میں وقت کی ترتیب ایک سی نہیں رہتی، ساٹھ سیکنڈز کی خوشی میں گُزرتا لمحہ جب غم کے قالب میں ڈھلتا ہے توصدیاں نگل جاتا ہے ۔۔۔ سو معلوم نہیں میں کب سے اِس کنویں میں ہوں۔۔۔

’’کتنے زور سے چیخوں تو آواز کنویں سے باہر سُنائی دے گی؟‘‘

میرا گلا اَب چیخ چیخ کر اِس قدر زخمی ہوچکا ہے کہ اِس سے ہروقت خر، خر کی آواز آتی رہتی ہے جو صرف مجھے سُنائی دیتی ہے حتٰی کہ سوتے ہوئے ہرخواب کے پسِ منظر میں خر، خر کی آواز جاری رہتی ہے۔

مُدت سے میں نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا جس میں یہ خر ، خر سنائی نہ دی ہو۔ شاید بچپن میں مجھے اِس آواز کے بغیر بھی خواب دکھائی دیتے ہوں لیکن اب مجھے باہر کی باتیں زیادہ تفصیل سے یاد نہیں۔ وہاں کی ایک ہلکی سی یاداُن قوانین کے بارے ہے جو اُس وقت نافذتھے۔ لوگ اضافی آنکھیں، کان اور زُبان لیے پھرتے تھے کیوں کہ وہ اُن سے کوئی کام نہیں لیتے تھے۔ نافذشُدہ قانون کے تحت بولنا، دیکھنا اور سننا ہوتا تھا۔ فاختائیں امن کے گیت گاتی تھیں تو لوگ کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور کہتے۔

’’ہم نے یہ سب نہیں سُنناکہ ہمارے کان فقط گولیوں اور بم دھماکوں کے شور سننے کے لیے بنے ہیں اورہم نے مسخ شُدہ لاشیں دیکھنی ہیں ‘‘
یہ دور ماؤں کا بچے جنم دینے کادور ہرگزنہیں تھا لیکن کنویں سے باہر دھڑادھڑ بچے پیداہورہے تھے، وہ بچے کہ جن کے کان محبت بھری لوریوں سے ناآشنا تھے۔

’’ تو کتنے زور سے چیخوں؟‘‘

کنویں میں رہتے ہوئے مجھے اتنا اندازہ ہو چکا ہے کہ باہر لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹ چکے ہیں یا اُن کی آنکھیں اب دیکھنے کے قابل نہیں رہیں۔
ممکن ہے وہ اب مکمل طورپر بہرے اور اندھے پن کا شکار ہوگئے ہوں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سننے اوردیکھنے کے قوانین میں مزید سختی آ چکی ہو جس کی وجہ سے اُنہیں میری کوئی بھی چیخ سنائی نہ دیتی ہو اور نہ یہ کنواں دکھائی دیتا ہو۔ جنہیں دکھائی اور سنائی نہ دے وہ بھلا بولیں گے کیوں؟ کنویں کے اندر اور باہر کی دنیا کے درمیان ایک خلا ہے جس میں کوئی آواز، کوئی روشنی سفر نہیں کر پاتی ۔۔۔

’’ تو کتنے زور سے؟‘‘

کنویں کے اندر مکمل تاریکی ہے ، یہ ایک ترک شُدہ کنواں ہے۔ لوگ اوپر سے گند یہاں پھینکتے ہیں جس پہ میرا گزر بسر ہوتا ہے۔ بعض اوقات عجیب وغریب لیس داراور بدبو سے بھرا گند کوئی نیچے پھینک دیتا ہے جس کے تعفن سے کنویں کی فضا مزید آلودہ ہو جاتی ہے لیکن میں گند پھینکنے والوں تک اپنا احتجاج نہیں پہنچاسکتا ۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جب گند پھینک رہے ہوتے ہیں تو اپنے ناک پر رومال رکھے ہوتے ہیں اور آنکھیں بند ہوتی ہیں اور وہ گند پھینکتے ہوئے شاید ذرا دیر کو بھی نہیں سوچتے کہ کوئی انسان کنویں کے اندر بھی ہوسکتا ہے۔

ایک عرصہ تک میں کنویں میں سیڑھی ڈھونڈتا رہا ہوں لیکن اب میں تھک چُکا ہوں اور اپنی یہ کوشش ترک کر چکا ہوں، آپ میری بات کا یقین کریں کہ اِس کنویں میں کوئی سیڑھی نہیں ہے۔

’’ تو کتنے ؟؟؟‘‘

جب میں کنویں سے باہر تھا تو میں بھی یہاں گند پھینکنے آیا کرتا تھا، میں نے کبھی اِس کے اندر جھانک کر نہیں دیکھا تھا، عین ممکن ہے اُس وقت بھی یہاں کوئی رہتا ہویا یہ بھی ممکن ہے کہ ہر شخص کے لیے الگ الگ کنویں بنوائے گئے ہوں۔ یہ صرف میرا خیال ہے اِس بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔

میرا حافظہ اب میرا ساتھ نہیں دیتا ورنہ میں آپ کو ضرور بتاتا کہ میں یہاں کیسے آیا تھا ذہن پہ بہت زور دے کر سوچوں تو دو باتوں کی طرف دھیان جاتا ہے اور میں یہ تصدیق کرنے سے قاصر ہوں کہ اِن میں سے کون سی بات دُرست ہے دراصل کنویں میں کوئی بھی بات مکمل طور پر درست نہیں ہوتی۔

۱: ایک روز مجھے کہا گیا کہ جا کر کنویں میں گندپھینک کر آؤ، سو جب میں گند پھینک رہا تھا تو میرا پاؤں لڑکھڑا گیا اور میں اُس دن سے کنویں میں ہوں۔

۲: دراصل مجھے چند لوگوں نے قانون کی خلاف ورزی کرنے پہ مل کر اوپر سے دھکا دیا تھا کیوں کہ شروع شروع میں میرے ہاتھ پاؤں بندھے رہتے تھے اور وہ رسی اب بھی کبھی کبھار میرے پاؤں سے الجھ جاتی ہے ۔

رسی کے علاوہ مجھے جس چیز سے الجھن محسوس ہوتی ہے وہ یہاں کے زہریلے کیڑے مکوڑے ہیں جو وقتاً فوقتاً میرے ہاتھ، پاؤں پہ کاٹتے رہتے ہیں چونکہ یہاں تاریکی اس قدر زیادہ ہے کہ اتنی مدت یہاں رہنے کے باوجود میری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل نہیں ہو سکیں سو میں زہریلے حشرات الارض سے بچ نہیں پاتا اگرچہ کہ میں اپنے جسم پر انہیں رینگتے ہوئے محسوس کر سکتا ہوں لیکن میں بھاگ کر جاؤں بھی تو کہاں جاؤں کہ یہاں اندھیرے کی چاروں جانب اندھیرا ہے اور مجھے کوئی پانچویں سمت نہیں مل رہی، اگر یہاں روشنی ہوتی تو آپ دیکھتے کہ میرا جسم اب نیلا ہو چکا ہے اور مسلسل کھڑا رہنے سے پاؤں سُوج چکے ہیں لیکن میں یہ زخمی جسم کسی کو دِکھا نہیں سکتا اور ویسے بھی کنویں کی تہہ میں پانی کی مقدار بھی کم ہوتی جارہی ہے سو مجھے نہیں لگتا کہ میں زیادہ عرصہ یہاں زندہ رہ سکتا ہوں۔ میری آنکھیں روشنی کے لیے، کان لوریاں سننے اور زبان کوئی بات اونچی آواز میں کہنے کو ترس رہی ہے اور کنویں میں دیکھنے کو اندھیرا ہے، سننے کو زہریلے کیڑے مکوڑوں کی نہ سمجھ میں آنے والی آوازیں اور میری خر، خر ہے وہ بھی کسی کو سمجھ نہیں آسکتی۔

’’ چیخوں ؟؟؟؟‘‘

خر، خر۔۔۔۔ آخر یہ خر ، خر کتنی دیر ہوتی رہے گی ؟
اوپر کوئی آرہا ہے ۔۔
ہاں کوئی ہے۔۔
مجھے زور سے چیخنے دیجیے کہ شاید میری آواز کسی کو سُنائی دے جائے۔۔۔
’’ خرررررررررررررررررررر‘‘
’’ خرررررررررررررررررررر‘'
آآہ! میرے گلے سے اِس کے علاوہ کوئی آواز نہیں نکل رہی ، باقی آوازوں کے بارے میں صرف سوچ سکتا ہوں اوراِس کنویں میں صرف سوچ کے سہارے زندگی نہیں گُزاری جاسکتی۔۔۔۔

Muhammad Jameel Akhtar

Muhammad Jameel Akhtar

Muhammad Jameel Akhtar born in Mianwali, lives in Rawalpindi, works as an accountant. Short story writing is a catharsis for him to channel whatever he wanted to yell about. He lives in his short stories rather than just penning them down on paper. His short stories have been published in Fanoon, Adab-e-Latif and other publications.


Related Articles

ملبا سانس لیتا ہے

محمد حمید شاہد:

کنجڑا، قصائی

تحریر: انور سہیل انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*