کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

ہم نے گمراہ ستاروں کی
کہانی لکھنی تھی
لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا
ستاروں سے آگے
اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے

یہ کون ہے جو
بے نشاں رات کے نقشے کھینچتا ہے
جو رتجگوں کے سنگلاخ سناٹے میں
قوموں کے انقلابی گیت لکھتا ہے

یہ کون ہے جو سمندر سے
حسین سفر کے رنگ نچوڑ لیتا ہے
جو خاموش درختوں سے
ٹپک ٹپک کر بہنے والی بارش میں
پرندوں کو پھڑپھڑانے کے لیے اکساتا ہے

ہمیں شام کے
سر ٹکراتے ہوئے سایوں سے
اک چاپ کے نشاں سوچنے تھے

مگر اس سے پہلے یہ پوچھنا تھا
کہ تاریخ کے اس پار
امن کے قافلے کہاں تک پہنچے ہیں

کیا اب تک جنون زلیخا
وحشت برادر پہ بھاری ہے
کیا منصور اب بھی سنگ باری میں جیتا ہے
کیا لوگ اب تک مونا لیزا کی مسکان پر اتراتے ہیں
یا جون آف آرک کے جواں سالہ خون پر تلملاتے ہیں

کیا اب تک اوس پڑتی ہے
راہوں پر
باتوں پر
آسوں پر
ہر منظر بیک ورڈ ہوجاتا ہے
سچ کہنے پر
آسمان بے ستون ہو جاتا ہے

ہم نے چلتی ٹرین کی زنجیر کو کھیچنا تھا
مگر اس سے پہلے
اک بے نام آزادی کے لیے
مجسم قوس قزح کے بھید بھی کھولنے تھے.!


Related Articles

مرتے ہوئے خواجہ سرا کا انٹرویو

شاید ہم خدا کی بھول ہیں
جس کو یہ بھی معاف نہیں کرتے
انھیں ہم سے گِھن آتی ہے
یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں

نیند کے انتظار میں

حسین عابد: نیند کے انتظار میں
آج پھر کئی خواب اِدھر اُدھر نکل گئے
اُن آنکھوں کی طرف
جنہوں نے اپنی چکا چوند سے دن کو تسخیر کیا

میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے