معدومیت کا مکالمہ (رضی حیدر)

معدومیت کا مکالمہ (رضی حیدر)

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ،
کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے کو ہیں
یا فنا ہو بھی چکے ؟

وہ : فنا ہو رہے ہیں (سرگوشی)

تم : مگر جو قمقمیں جلتی ہیں بھجتی ہیں ، یہ آرزوئیں ہی تو ہیں
امیدیں ہیں صبح نو کی

میں : امیدیں ، آرزوئیں ، خواب! ہاہ !!
ایک اور حیلہ بہانہ
ہم جل رہے ہیں !
سنا تم نے ؟
ہم جل رہے ہیں
یہ قمقمیں نہیں ہیں .. میری تمہاری وردیاں ہیں
سونگھو !!
تمہیں پکتے گوشت کی بدبو نہیں آتی
یہ ہمارا ہے ! میرا تمہارا گوشت
سونگھو!!

تم : مجھے نزلہ ہے چند دن سے ،
کسی بدبو کی خوشبو کی رسائی ممکن نہیں مجھے تک
مگر میں دیکھ سکتا ہوں

میں : تو دیکھو نا !!!
یہ سر کٹے بچوں کے ریلے
یہ نیلی موچھیں
یہ بغلوں میں،مسانوں پے بال
یہی دیکھ کر تو انہوں نے کہا تھا ، یہ بچے نہیں ہیں
یہی دیکھ کر ،

انہوں نے اپنے ایمانِ محکم کو اور پختہ کیا تھا

تم : ہاں ، انہوں نے کہا تھا یہ بچے نہیں ہیں

میں : تو کیوں امیدوں کی رجا، کی بات کرتے ہو

ابھی خون ابلے گا ،
درد دھواں بن کر اس آشفتہ سر سے نکلے گا تو سنو گے ؟

تم : میں سن تو رہا ہوں

میں : مجھے مت سنو !
یہ چیخیں سنو !!

تم : یہ مدھم سی چیخیں ؟

میں : یہ مدھم کہاں ہیں ؟
قیامت کا صور پھونکا جا رہا ہے
اور تم کہ رہے ہو ، یہ مدھم سی چیخیں ؟
بموں کے چھرے اُستخوانوں میں ،
سروں کے کاسوں میں چھید کررہے ہیں
ہم جل رہے ہیں

سنا تم نے
فنا ہو رہے ہیں

تم : اس گرداب ، اس حیلے بہانوں کے گرداب میں ،
جہاں ہم فنا ہو رہے تھے

فنا ہو چکے ہیں
Image: mike el-nazly

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Razi Haider

Razi Haider

Razi Haider is an engineer by profession , Kashmiri by heart , a poet and photographer. His Interests include politics, ontology, ethical philosophy, theology film and photography history.


Related Articles

ڈھلتی دوپہر کی چُپ میں

حسین عابد: خدا اوپر رہتا ہے
دوپائے، چرند پرند نیچے
آنا جانا لگا رہتا ہے

سلمان حیدر کی ایک نظم

کسی بالوں کے گچھے کا
شریعت اور بلوغت سے
کوئی رشتہ نہیں ہوتا

کایا کا کرب

آفتاب اقبال شمیم: اس نے چاہا
بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے
مگر شاخوں سے مرجھائے ہوئے پتوں کی صورت
ہاتھ اس کے بازوؤں سے
گر چکے تھے