مسئلہ تقدیر اور خدا

مسئلہ تقدیر اور خدا

تقدیر کا معاملہ اسلام سمیت بہت سے مذاہب کو درپیش نہایت مشکل معاملات میں سے ایک ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے سب خدا کے علم اور ارادے سے ہے تو انسان کے اچھے بُرے ہونے کا کیا مطلب؟ پھر پہلے سے معلوم افعال پر خدا کا راضی و ناراض ہونا، پہلے سے طے شدہ و متعین نتیجے پر خدا کی تخلیق اور سزا جزا کا یہ سارا معاملہ بھی محض خدا کی اسی صفت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے سو جو چاہے کرے۔

اسلام کے حوالے سے بات کی جائے تو مسئلہ تقدیر کی جو بھی تعبیر مسلمان متکلمین پیش کرتے آئے ہیں، آپس میں اس قدر گنجلک ہیں کہ جو بھی پہلو اختیار کیا جائے خود قرآن و حدیث کے دیگر دلائل اس کے خلاف آن کھڑے ہوتے ہیں۔ مذہبی دانشور و مفکرین جو بھی تفہیم اختیار کرتے ہیں کہیں نہ کہیں آ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ "انسان اپنی محدود سی عقل سے خدا کی لامحدود ذات و صفات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔" اگر نتیجہ حاصل یہی ماننا ہے تو پھر سمجھنے سمجھانے کا تکلف کیسا؟ انسان کو خود ایسی محدود عقل کے ساتھ پیدا کرنا کہ وہ ان معاملات کو سمجھ ہی نہ سکے اور پھر انہی مسائل کو بنیادی ترین ایمان کا حصہ بنانا، کیا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ عقیدہ و نظریہ سمجھ سے بالاتر محض مان لینے کا نام ہے اور اسی کو "غیب پر ایمان لانا" کہا جاتا ہے۔

مگر یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ چیز جو سمجھ سے بالاتر ہو اسے ماننا اور آنکھیں بند کئے تسلیم کرنا یا اس پر سوال نہ اٹھانا ہی خدائی منشاء و ہدایت ہے تو پھر یہ سہولت کیا دیگر مذاہب کو بھی حاصل ہے؟ دیگر مذاہب و قدیم یونانی دیومالائی قصے کہانیاں اور ان پر مبنی عقائد پر ایمان لانا بھی کیا اس بنیاد پر ہدایت ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی محدود عقل و فہم سے ان معاملات کا احاطہ نہیں کر سکتا؟

ان فلسفیانہ مباحث کو چھوڑتے ہوئے آئیے ایک نظر تقدیر سے متعلقہ آیات و احادیث پر ڈالتے ہیں:

قرآن میں ارشاد ہوا: "کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔" (سورة الحديد: 22)

حضرت ابوہریرۃ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو کچھ تمھارے ساتھ ہونے والا ہے اس پر قلم خشک ہو چکا ہے۔"
(صحیح بخاری، کتاب القدر، قبل حدیث: 6596)

ہمارے مذہبی علماء و مفکرین اکثر یہ تعبیر اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد صرف خدا کا علم اور ارادہ ہے نا کہ کسی انسان کو اس علم کی بنیاد پر مجبور کیا جاتا ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اکثر نصوص اس تاویل کے خلاف ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ تقدیر ہی انسان پر غلبہ پاتی ہے وہ اعمال کچھ بھی کر رہا ہو، اس کی پہلے سے طے شدہ متعین تقدیر کے مطابق اسے سہلوت دی جاتی ہے اور اس سے وہی عمل کروایا جاتا ہے۔

"پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ,وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کر دیتا ہے۔" (سورة الأنعام: 125)

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خدا جسے خود ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو ہدایت کے لئے کھول دیتا ہے اور اس کے مقابل جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے۔ اب جس کا سینہ خود خدا نے کھولا ہو اسے ہدایت ملنا محض خدا کا اس پر خصوصی و امتیازی فضل ٹھہرا اور جس کا سینہ خود خدا نے تنگ کر دیا ہو کہ خود خدا اسے گمراہی میں ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو بتائیں اسے ہدایت کیسے اور کہاں سے ملے؟

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا کئے، انہیں اس وقت جنت کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے اور دوزخ کے لئے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔"
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2662)

یہ حدیث بھی واضح ثبوت ہے کہ جنتیوں کو پیدا ہی جنت کے لئے کیا گیا اور جہنم میں جانے والوں کو پیدا ہی جہنمی اور جہنم جانے کے لئے کیا گیا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6594)

گویا کہ کوئی انسان اعمال کیسے بھی کر لے، آخر میں تقدیر اس پر غلبہ پاتی ہے اور وہ اسی کے مطابق جنتی و جہنمی بنتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے جو بھی عمل کرے۔"
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2141)

حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لئے آسان کیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6596)

حضرت عمر سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر ایک کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے) چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بد بختوں میں سے ہے وہ بد بختی والا کام کرتا ہے۔" (سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2135)

حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے: "بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا۔"
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ۔۔۔، حدیث: 2645، طبع دارالسلام 6726)

یہ تمام احادیث بھی یہ حقیقت کھول کر بیان کر دیتی ہیں کہ تقدیر پہلے سے متعین نتیجہ ہے اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دے دی جاتی ہے۔ گویا جسے پہلے سے جنتی لکھ دیا گیا اس کے لئے نیک اعمال کو آسان کر دیا اور جسے جہنمی لکھا گیا اسے بدی کی طرف آسانی اور سہولت دی جاتی ہے۔ ہر ایک کرتا ہی وہ ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ کیا اس معاملے کو صرف پہلے سے جانا گیا علم و ارادہ کہا جا سکتا ہے؟

حضرت ابوہریرۃ سے مروی حدیث میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے مناظرہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے جب کہا: "پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا۔ حضرت آدم نے جواب دیا: "آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے بھی پہلے میرے لیے لکھ دیا تھا۔" آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے۔
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2134)

صحیح مسلم کی روایت (2652) میں وضاحت موجود ہے کہ یہ مناظرہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خود انبیاء کا عقیدہ و نظریہ بھی یہی تھا کہ ان سے جو اعمال صادر ہوئے وہ سب لکھی ہوئی تقدیر کی وجہ سے ہی تھے۔ یہاں پر ایک اور شبہ کا جواب بھی ضروری ہے کہ شاید کوئی یہی سمجھے کہ اعمال تو چلو تقدیر سے ہیں اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دی جاتی ہے لیکن یہ اعمال کا صدور ہوتا تو انسان کی اپنی چاہت سے ہے تو عرض ہے کہ قرآن کے مطابق تو انسان کا کسی عمل کی طرف رغبت اور چاہت اختیار کرنا تک خود اس کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا: "اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔" (سورة التكوير: 29)

گویا عمل کی توفیق ہے نہ کسی عمل چاہنے کی آزادی بلکہ جو خدا نے لکھ رکھا ہے اسی کے مطابق سب ہو گا کیونکہ وہ مالک و مختار ہے اور مخلوق میں سے جنتی جہنمی سب طے شدہ ہیں اور خدا کی کسی نامعلوم خواہش کے سامنے بے بس و لاچار جو وہ کم عقل انسانوں کو بتانے کا ہرگز پابند نہیں۔

"جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں." (سورة الإسراء: 16)

اس آیت میں بھی بالکل وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے کہ اللہ خود کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس بستی کے خوشحال لوگوں کو خود حکم دیتا ہے تو وہ نافرمانیاں کرتے ہیں تاکہ اللہ نے ان بستی والوں کے لئے پہلے سے جو تباہی و بربادی کا فیصلہ کر رکھا ہے وہ ان پر نافذ ہو جائے۔ یہ کہنا پھر کیونکر غلط ہو گا کہ اعمال کی آزادی کا نظریہ کم از کم قرآن کے مطابق ہرگز نہیں؟ بھلا مخلوق کہاں اتنی سکت رکھتی ہے کہ خدا کے اتارے حکم و امر سے منہ موڑے، جہاں ایک پتا بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔

صرف یہی نہیں کہ خدا نے لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق اعمال کو پہلے سے طے شدہ نتیجے کے مطابق سہولت دی یا خود جس کو برباد کرنا مقصود تھا انہیں نافرمانی و گمراہی کا حکم دیا تاکہ خدا کا فیصلہ نافذ ہو بلکہ ایسے نصوص بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اعمال کرنا یا کسی سے کسی عمل کا سرزد ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ محض اللہ کا علم ہی جزا و سزا کا باعث ہو سکتا ہے۔

چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ مَیں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی اولاد کا انجام کیا ہو گا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "وہ اپنے آباء میں سے ہیں۔" مَیں نے کہا: عمل کے بغیر ہی؟ فرمایا: "اللہ کو بہتر علم ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔"
(سنن ابو داؤد، کتاب القدر، باب فی ذراری المشرکین، حدیث 4712)

گویا جزا و سزا کا تعلق ہونے والے اعمال سے ہرگز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے پہلے سے طے شدہ علم کے نتیجے پر ہے۔ بھلا جو ہوا ہی نہیں اس کا علم سوائے خدا کی اپنی منشاء و مرضی کی لکھی تقدیر کے کیا ہے؟ اس ضمن میں قرآن میں موجود حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ انتہائی غور طلب ہے کہ جس میں خضرت خضر نے ایک لڑکے کو اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق قتل کر ڈالا۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 74) پھر اس کی وضاحت یہ بتائی کہ اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے ہمیں خطرہ ہوا کہ یہ لڑکا ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 80)

یہاں دیکھئے کس طرح اللہ کے دیے ہوئے علم کی ہی بنیاد پر ایک لڑکے کو قتل کر دیا گیا اور اسے اس جُرم پر سزا دے دی گئی جو محض اللہ کے علم میں تھا ابھی ہوا نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً کافر بھی خود ہی بنایا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر بنایا گیا تھا، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا۔"
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2661، طبع دارالسلام 6766)

ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ لڑکا جس دن پیدا کیا گیا، کافر پیدا کیا گیا تھا۔"
(سنن ابو داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، حدیث 4706)

غور طلب ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً پیدا ہی کافر کیا گیا اور پھر اپنے ہی لکھے ہوئے کے مطابق اپنے علم کی بنیاد پر اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھوں اس عمل پر سزا بھی نافذ کروائی جو ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔

یہ تمام نصوص سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلامی لحاظ سے تقدیر کا معاملہ ہرگز صرف خدا کے علم میں ہونے کا مسئلہ نہیں اور نہ عمل کے لحاظ سے غیرجانبدار آزادی کا اختیار ہے بلکہ یہ محض خدا کی اپنی چاہت اور منشاء پر مبنی ہے۔ یہ امتحان کا معاملہ نہیں کہ جہاں سب کو برابری کے مواقع میسر ہوں بلکہ سیدھا سادا پہلے سے طے شدہ نتیجے پر خدا کی قدرت و اختیار کا مسئلہ ہے، جہاں وہ کسی کو جوابدہ نہیں کہ وہ جسے چاہے پسند کرے تو جنتی لکھ دے اور جسے ناپسند کرے تو جہنمی بنا دے۔ تمام اعمال تو خود اس کی مرضی بلکہ ان اعمال کا چاہنا تک اسی کی مرضی و منشاء پر ہے۔ جنتی و جہنمی طے شدہ ہیں۔

گویا دنیا ایک سٹیج ہے جہاں پہلے سے لکھے اسکرپٹ کے مطابق سب اداکاری کے لئے مجبور ہیں، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس سب کا مقصد و فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا نے جن کو پیدا کیا ان کے اوپر مکمل قدرت صرف اسی کی ہے اور کوئی اس سے جواب طلب نہیں کر سکتا کہ کس کو کس تقدیر کے ساتھ کیوں پیدا کیا؟ وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔

"جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔" (سورۃ القمر: 48-49)

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

اٹھتے ہیں حجاب آخر-پہلا حصہ

ڈاکٹر عرفان شہزاد: اپنے مسلک کے دائرے میں محدود رہنا، اپنے زیرِ قبضہ اداروں کو اپنے مسلک اور جماعت کے نظرے کے حصار میں رکھنا دراصل ایک بے اعتماد اور خوف زدہ نفسیات کی علامت ہے۔

سائنس،مذہب اور ہمارا رویہ

ایک سوال بہت سے ذی شعور لوگ خود سے اور اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ آخر مسلمان علمی میدان میں اتنے پسماندہ کیوں ہیں، آخر تمام علمی وسائنسی حقائق مغرب کی طرف سے ہی کیوں آتے ہیں،کیوں ہم صدیوں سے جہالت کے اندھیروں میں ڈ وبے ہوئے ہیں، ہمارے ہاں علمی ترقی کے بجائے مردہ تقلید اور اپنے اپنے مکتبہ فکر کی اسیری کیوں ہے۔

میں نے مذہب کیوں چھوڑا؟

خادم حسین: سوال کا کیڑا عقیدت کی عمارت چاٹ جاتا ہے۔ سوال اٹھے تو پہلے ماخذات کا رخ کیا، بخاری شریف پڑھنی شروع کی، نام نہاد علماٴ سے سوالات کئے، اسرار احمد کے راستے غامدی تک آئے اور پھر مذہب اور سیاست کی ملاوٹ اور اس کے موذی اثرات کے باعث مذہبی عقائد کو خیر باد کہا۔