میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں
کبھی پانیوں کی
خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں
کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر
دم سادھے
چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں

میں کھلے اور پھیلے ہوئے
برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا
معذرت کے ساتھ
مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے نفرت ہے

دیکھو تم
میرے بارے میں غلط اندازے مت لگانا
اور غلط اندازہ پر اترانا تو بلکل بھی نہیں
چلو میں ہی تمہیں بتائے دیتا ہوں

میرے اوپر
یہ پتھر کسی نے رکھا نہیں ہے
بلکہ میں اس پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں
اور دوسروں کو بھی
اس پتھر کے نیچے دیکھنا چاہتا ہوں.!
Image: Enrico Ferrarini


Related Articles

زہر کا گھونسلا

ایچ بی بلوچ: یہ بات الگ ہے کہ
کانٹے اپنی ضد میں
خاموش ہونٹوں اور سانپوں کی طرح

ما چس کی اٹھائیس خالی ڈبیاں

تین لفظوں میں تحلیل ہو نے کے لئے
مجھے کتنی مدتیں درکا ر تھیں ؟

شہدائے پاراچنار کے لیے ایک نظم

(مشتاق علی بنگش، پاراچنار)       تشنہ لب ، ضعفِ دست و پا لے کر جس فریضے نے شل