میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند
میں پرانی ہو چکی ہوں
کسی پوسیدہ تحریر کی مانند
کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف
اپنے معنی کھو چکے ہیں
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند
کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس مکان کی مانند
کہ جس کے مکیں اس کی بوسیدہ دیواروں
ٹوٹی ٹپکتی چھتوں
سے بیزار نکلے تھے
اور مڑ کر دیکھنے والوں نے
دروازے کے شکستہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے نہ لوٹنے کی قسم کھائی تھی
میں اس مکاں کی دیواروں سے اکھڑے روغن
گھسی ہوئی کھڑکیوں سے جھانکتی
بوسیدگی کی علامت ہوں
میں اتنی پرانی ہوں کہ جتنی پرانی گھڑی سامنے دیوار پہ ٹنگی نجانے کب سے
ایک ہی وقت پہ اٹکی ہے
جیسے ضد پکڑے کھڑی ہے
آؤ مجھے واپس بلاؤ
میرے سیل تھک چکے ہیں
میں چلنا چاہتی تھی مگر
میرے اندر اب سکت باقی نہیں ہے
میں اتنی ہی پرانی تھی تو مجھے
کیوں نئی دنیا بخشی تھی
جہاں نئے پن سے مانوس ہونے کے لیے مجھے پرانا پن دان کرنا پڑ رہا تھا
مجھے کیوں نیا نہ بنایا گیا
کہ میں بھی سمجھ پاتی نئے پن کے تقاضوں کو __


Related Articles

گیت بنتا رہتا ہے

سوئپنل تیواری: انتظار سُر ہے اک
مدّتوں جو اک لے میں
خامشی سے بجتا ہے

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں موت کو رشوت دیتے ہیں اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں وہ

پتھر کی زنجیر

ناصرہ زبیری: کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*