میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)
میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو

میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے

۔۔ اور ۔۔

نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں

کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں

جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟

میں لکھنا ضرور جانتا ہوں

مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی

تم مجھے حاصل کر سکتی ہو

اس کم سے کم قیمت پر

جو کسی آدمی کی لگائی جاسکتی ہے

زندگی گرمیوں کی دوپہر ہے

خواب دیکھتے ہوئے انسان خدا کے بائیں طرف سو رہا ہوتا ہے

میں نے خود کو ایک کتاب کی طرح پیش کر دیا

یہ سوچے بغیر کہ

کوئی لڑکی کسی مرد کے بارے میں کیا نہیں پڑھنا چاہتی

تم میرے اندر بوڑھی ہو رہی ہو

اس خواب کی طرح___ جسے کچھ دنوں بعد زہر کا انجکشن لگایا جانا ہے

ہر آغاز انجام کی طرف

___ اور___

 ہم انجام سے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں

میں جانتاہوں

میری عمر کے ایک ارب مردوں میں سے

میرا انتخاب کرنا

تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا

Image: Dolk


Related Articles

بلڈ کینسر

رضی حیدر: میں اک جوالا مُکھی کا قصہ ہوں
میں انفجارِ عظیم کی طاقتوں میں ذرَہ ہوں

شہدائے پاراچنار کے لیے ایک نظم

(مشتاق علی بنگش، پاراچنار)       تشنہ لب ، ضعفِ دست و پا لے کر جس فریضے نے شل

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری