Mob the Omnipotent

Mob the Omnipotent
Mob the Omnipotent
آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

ہجوم نبی کے جوتے خون سے بھر سکتا ہے
اور مکہ کی فتح کے دن
اسلام قبول بھی کر سکتا ہے
ہجوم سیاست کا پیٹ
اور کاروبار کی پیٹھ ہے
ہجوم سرسید کو نچوا سکتا ہے
ٹرمپ کو کنگ بنا سکتا ہے
ہجوم پوپ کو گرا سکتا ہے
Bob کو اٹھا سکتا ہے
ہجوم لشکر ہے
ریڈ آرمی ہے

ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
ہجوم آدمی ہے
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

حفیظ تبسم:سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی لاشیں بہتیں
پہچان سے عاری ہیں

قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں

بقا کی دیوار

سلمان حیدر: خون کے داغ ہیں
کچھ دیر بھی رہنے کے نہیں
کل سحر ہو گی تو بازار سجے گا پھر سے
پھر اسی طور سے بہہ نکلے گا لوگوں کا ہجوم