محبت کی گیارہ کہانیاں (پانچویں کہانی)

محبت کی گیارہ کہانیاں (پانچویں کہانی)

شام کو جب ہاسٹل آئی تو نصرت پہلے سے موجود تھی، نصرت ابھی پچھلے سال تک اس پوری لق و دق یونیورسٹی میں میری اکلوتی دوست تھی، جسے میں سارا حال دن بھر کا ہنس رو کر بتایا کرتی تھی۔اب بھی ہماری دوستی ہے، مگر اس کی اور میری مصروفیات میں فرق آگیا ہے۔گورا رنگ، کچھ حد تک لمبا قد، کمر تک کالے گھنے بال ، لمبی گردن اور گلابی ہونٹوں کے ساتھ اس کی خوبصورتی دیکھنے والے کو پہلی ہی نظر میں گرویدہ کرلیتی ہے، ہاسٹل میں کمرہ نہ ملنے سے پہلے ڈورمیٹری میں ہمیں کافی وقت اور لڑکیوں کے ساتھ بھی گزارنا پڑا تھا، ایک بڑے سے ہال میں تین چار بیڈ پڑے تھے، جن میں سے کنارے والے پر نصرت لیٹا کرتی تھی، میرا اس کے برابر والا بیڈ تھا اور ایک cupboard میرے اول جلول سامان اور کپڑوں سے بھرا رہتا تھا، ہم گرمیوں میں خاصے پریشان ہوتے تھے، حالانکہ شہر کی ہوا مرطوب ہے، مگر کبھی کبھی عجیب سا حبس بھی ہوجایا کرتا ہے۔نصرت اور میں ہم زبان بھی ہیں، چنانچہ ہماری علاقائی زبان ایک ہونے کی وجہ سے ہمیں دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں آپس میں تعلق بنانا زیادہ آسان محسوس ہوا، ایسا نہیں ہے کہ میری مادری یا علاقائی زبان اور دوسری لڑکیاں نہیں جانتی ہیں، مگر نصرت کے یہاں ایک بالکل الگ رمق ہے، اس سے گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کی جاسکتی ہیں۔وہ آپ کے سکھ دکھ، اچھے برے سب کو سن کر اپنی دانست میں بھولے مشورے بھی دیا کرتی ہے جو کہ نہایت ناقابل عمل ہونے کے باوجود بھی کچھ دیر کے لیے آپ کے غم اور کرب کو مٹانے پر قادر ہوتے ہیں۔میں اس کی جن باتوں پر حیران و پریشان رہا کرتی تھی ان میں سے ایک یہ تھی کہ اسے کسی سے عشق ہی نہیں ہوپاتا تھا۔شاید اس نے اپنے روایتی طرز کے خاندان کی تمام شرطوں کو بڑی خاموشی سے قبول کرلیا تھا۔ایسا نہیں تھا کہ میں نے بھی کوئی خاص احتجاج کیا ہو، مگر وہ تو اپنے موبائل میں دوستوں سے کی گئی باتوں تک کو گھر جانے سے پہلے ڈیلیٹ کردیا کرتی تھی، سوشل میڈیا کا اکائونٹ بند کردیتی تھی اور گھر جاکر اکثر اس سے رابطہ کرنے کے ذرائع بہت محدود یا نہیں کے برابر ہوجایا کرتے تھے۔ویسے ہم اس دوران کم ہی بات کیا کرتے تھے، جب ہم میں سے کوئی ایک اپنے گھر ہوتا تھا۔

ایک شام کا ذکر ہے، ہلکی پھلکی بوندا بوندی ہورہی تھی۔میں اور نصرت اپنے ہاسٹل کے باہر بینچ پر بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے کہ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ وہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی ہے، جیسے کسی دھیان میں مگن ہوگئی ہو۔عجیب سی بات تھی کیونکہ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا تھا، وہ جب کبھی کوئی بات کیا کرتی تو اپنی ساری توجہ اسی بات پر مرکوز رکھتی، خیر اس بات کو میں نے نوٹس تو کیا، مگر کچھ کہا نہیں۔رات گئے شاید پیاس کی وجہ سے میری آنکھ کھلی، میں ویسے بھی اپنے ایک دوست سے فون پر گفتگو کرتے کرتے بڑی دیر میں سوئی تھی۔ ڈورمیٹری میں اندھیرا تھا، پانی پینے کے لیے باہر جانا ہوتا تھا اور باہر جانے کے لیے لائٹ جلانا پڑتی تھی ، دروازہ کھولنا پڑتا تھا۔خیر، میں لائٹ جلانے سے بچنے کے لیے موبائل کی ٹارچ روشن کرلیا کرتی تھی، مگر پچھلے کئی دنوں سے میرا موبائل عجیب سی حرکتیں کررہا تھا، چلتے چلتے بند ہوجاتا، اس کے سارے فنکشنز ٹھیک سے کام نہیں کررہے تھے۔پانی زیادہ تر میں اپنی بوتل میں بھر کے سرہانے رکھ لیا کرتی تھی، مگر وہ مقدار تو فون پر گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ میرے سوکھتے ہوئے گلے میں پھیلی ہوئی سبز جڑوں کی نذر ہوجاتا تھا۔چنانچہ میں اٹھی، موبائل اندھیرے میں کہاں تھا اس کی مجھے خبر نہیں تھی، ادھر ادھر ٹٹولتی ہوئی دروازے تک پہنچی، دروازہ کھولا تو اس نے عجیب سے کانٹے دار خراٹے کے ساتھ احتجاج کیا، میں ذرا سا فاصلہ بنا کر دو پٹوں کے بیچ میں سے اپنے پتلے دبلے شریر کا فائدہ اٹھاکر باہر آگئی۔پہلے جاکر کومن ریفجریٹر کا نل کھولا اور چلووں میں بھر بھر کے پانی پیا، پھر واش روم گئی۔ واش روم کا دروازہ کھولتے ہی عجیب سی کھریند نے نیند سے بھرے ہوئے نتھنوں پر حملہ کردیا، سانس کے ساتھ گھسنے والے بے انتہا بدبودار جراثیم نے آنکھوں کے بند دروازوں کو اتنی زور سے جھنجھوڑا کہ وہ گرداب میں بہہ جانے والی بیداری کی طرح دھاڑ سے کھل گئے۔میں ایک ہاتھ ناک پر رکھ کر انگریزی طرز کے باتھ روم میں پجامہ کھسکا کر بیٹھ گئی، اف ران سے چپک جانے والی ٹھنڈک نے گرمی کے اس موسم میں بھی ایک موہوم سی چٹکی لی۔سناٹا چاروں طرف بھائیں بھائیں کررہا تھا اور ایسے میں مجھے بہت سی دیکھی گئی ڈرائونی فلموں کے عجیب و غریب مناظر یاد آنے لگے۔میں جلدی جلدی اپنے بدن کے پانی کو ایک شرر شرر بولتی ہوئی پیلی ندی میں بہانے لگی، مگر ایسا لگتا ہے کہ جب انسان خوف میں ہو تو پانی کی یہ دھار شرمگاہ کی ایک طویل جمائی میں تبدیل ہوجاتی ہے، جسے روک پانا خود انسان کے بس کی بات نہ ہو۔الغرض شاید دس ہزار سالوں تک وہاں اپنے بدن کے میلے سمندر خرچ کرکے میں باہر نکلی اور سامنے ایک عجیب سا عکس دیکھ کر میرے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکل پڑی۔

ایک دراز قامت سایہ ، جس کے شانے پر پھیلی ہوئی جیسی سانپ جیسی لٹیں دائیں بائیں ہل رہی تھیں، سامنے دیوار پر ڈول رہا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھا اور انگلیوں کی جھری بناکر ڈرتے ڈرتے جب سامنے دیکھا تو خوف دھواں بن کر دماغ سے اڑ گیا اور اس کی جگہ حیرت نے لے لی، سامنے نصرت واش روم کا دروازہ کھول کر اس طرح دیوار پر بیٹھی ہوئی تھی کہ ہلکے سے دھکے سے نیچے گر سکتی تھی، زبان نکالے ہوئے کسی مظلوم جانور کی طرح ہانپتا ہوا کینٹین لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا، اتنی رات کو نصرت یہاں کیا کررہی ہے، وہ بہت خاموش تھی، اس کے ہاتھ میں موبائل تھا ، مگر وہ اسے دیوار سے ٹکائے ہوئے اپنے پیر کے داہنے ناخن کو تیزی سے کھرچ رہی تھی، گویا اسے اکھاڑ لینا چاہتی ہو۔میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر ہاتھ دھوئے اور اپنے گیلے ہاتھوں سے آگے بڑھ کر سوٹ سے جھانکتی ہوئی اس کی پتلی گوری کمر پر نم ہتھیلی رکھ دی، وہ اوئی کہہ کر چونکی اور دیوار سے نیچے اتر آئی۔میں جاننا چاہتی تھی کہ وہ اتنی رات کو یہاں کیا کررہی ہے، مگر اس کی آنکھیں دیکھ کر محسوس ہوا کہ وہ مجھے کچھ بتانا نہیں چاہتی۔عجیب سی بات تھی، یہ لڑکی دن میں بھی اپنے اس عجیب رویے سے مجھے حیرت میں ڈال چکی تھی اور اب اس وقت رات گئے، اسی طرح کا دوسرا دورہ دیکھ کر مجھے تشویش بھی ہورہی تھی۔مگر نصرت نے کچھ کہا ہی نہیں۔وہ ایک مصنوعی مسکراہٹ لے کر میرے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ڈورمیٹری تک آئی اور ہم کمرے میں جاکر اپنے اپنے بیڈ پر ڈھیر ہوگئے۔

اگلے دن میری آنکھ کھلی تو وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ جاچکی تھی۔میں نہادھوکر تیار ہوئی اور تیزی سے بغیر برنچ ورنچ کیے ہی کیمپس کی طرف بھاگی۔میری ایک کلاس بہرحال مس ہوچکی تھی، مگر پھر بھی ابھی مزید دن بچا ہوا تھا ۔وہاں دوستوں سے ملاقات ہوئی اور میں نصرت کے بارے میں بالکل بھول ہی گئی، اچانک دوستوں کاپلان بنا کہ ہمیں ساحل سمندر جانا چاہیے، میں نے ان سے کہا کہ اب اس وقت وہاں جانے کا کوئی تُک نہیں ہے، ہم اگلے ہفتے جائیں گے، مگر وہ سب سر ہوگئے۔وقاص کا ایک دوست ، جس کی مجھ پر کئی دنوں سے نظر تھی، کچھ زیادہ ہی بذلہ سنجی دکھارہا تھا، ایک دوسرا لڑکا جو شاعری واعری کیا کرتا تھا، میری طرف دور سے حسرت ناک نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔مجھے بعد میں وقاص نے بتایا کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے،مگر بات کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہا ہے، چنانچہ میں اردو کی کلاس کے بعد ایک سوال کے بہانے اس سے ملنے پہنچ گئی، وہ جس بینچ پر بیٹھا تھا، میں نے پہلی ہی ملاقات میں اسے ایسا تاثر دیتے ہوئے وہاں دھرنا جمالیا ، جیسے میری اس سے برسوں کی شناسائی ہو۔وہ کچھ دیر کے لیے عجیب سی کشمکش کا شکار رہا، گویا فیصلہ نہ کرپارہا ہو کہ صبا خود میری قربت حاصل کرنا چاہتی ہے یا پھر اس نے میری چوری پکڑ لی ہے۔بہرحال جو بھی ہو، کچھ دیر کے بعد وہ نارمل ہوگیا، ایک دوسرے لڑکے نے ہماری تصویر نکال لی اور اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ بھی کردیا، خیرمجھے تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، مگر شاعر صاحب کے لیے یہ چھوٹی سی دل لگی ، دل کی لگی بن گئی۔وہ پورا دن میرا ساتھ ہی نہیں چھوڑ رہے تھے، حتیٰ کہ شام کو جب وقاص اپنے دوسرے سنجیدہ، چھچھورے اور سیاسی دوستوں کے چھوٹے گروپ کے ساتھ برآمد ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شاعر میرا بیگ اٹھائے ہوئے، میرے ساتھ ساتھ چلا آرہا ہے۔میں جانتی تھی کہ وقاص کی کچھ کمزوریاں ہیں، وہ اپنی تمام فراخدلی دکھا کر بھی میرے معاملے میں خاصا کنجوس تھا۔اگر میں کوئی بے حد روایتی قسم کی گرل فرینڈ ہوتی تو اب تک وہ شوہروں کی طرح مجھ پر دس طرح کے حکم عائد کرچکا ہوتا جن کی رو سے دوستوں سے ملنے ملانے سے لے کر کیمپس میں رکنے رکانے تک کا سارا شیڈول وہی طے کرتا۔

بہرحال جب رات ہونے لگی اور ہم سارے دوستوں نے ساتھ ہی ایک جگہ ڈنر کیا تو بڑا لطف آیا، دوران ڈنر شاعر صاحب نے فیض احمد فیض کی ایک نظم بار بار مجھے مخاطب کرکے سنائی۔شاعر کی جذباتی کوشش ایک طرف ، لیکن دنیا کی وہ کون سی لڑکی ہوگی جو اس طرح کے بے وقوفانہ جذباتی اظہار پر کسی کو اپنا رفیق سفر مان لے۔لڑکیوں کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ چار چھ لفظ ادھر،ادھر سے جوڑ کر شاعری کرنا یا کسی شاعر کی نظم لڑکی کو سنانا ، اس کی ستائش کرنا یا اس کے آگے دونوں ہاتھ جوڑ کر خوشامد کرنا یہ ساری باتیں وقتی خوشی تو دے سکتی ہیں، مگر اس سے زیادہ ان کی بنیاد پر تعلقات کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی شخص اگر محبت کی غزلیں یا نظمیں لکھ پڑھ کر کسی لڑکی کو اپنی چاہت کے نرغے میں لینا چاہ رہا ہے تو وہ دنیا کا سب سے بڑا گھامڑ ہے۔ڈنر کے بعد میں اتنی تھک گئی تھی کہ واپسی میں راستے ہی نے مجھے جمائیوں کے بڑے بڑے سفیروں سے روبرو کروایا۔میں منہ پھاڑتی آنکھیں مچمچاتی کسی نہ کسی صورت ہاسٹل تک پہنچ گئی،ڈورمیٹری میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ نصرت ایک لڑکی کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کررہی ہے، مجھے دیکھ کر اس نے خوشی سے ہاتھ ہلائے اور بتایا کہ اس نے میرے لیے محنت سے بہت لذیذ کھانا تیار کیا ہے۔میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ میں دوستوں کے ساتھ بھرپور ڈنر کرکے آئی ہوں، مگر اس کی خوشی دیکھ کر دل ڈانواں ڈول ہونے لگا، پھر میں نے فیصلہ کیا کہ جیسے بھی ہو، چند لقمے تو چکھ ہی لینے چاہیے، ویسے بھی نصرت کا موڈ اب اچھا معلوم ہورہا تھا اور مجھے کہیں نہ کہیں یہ دیکھ کر خوشی ہورہی تھی۔

نصرت اور میں فارغ اوقات میں خوب باتیں کیا کرتے تھے، میں اسے اپنے تازہ افیئرز کے بارے میں بتایا کرتی اور وہ مجھے پڑھائی لکھائی، گھر بار، کیمپس اور ہاسٹل کے بورنگ مسئلے اپنے بھولے بیانیے کے ساتھ سنایا کرتی، جنہیں میں قہقہے مار مار کر سنا کرتی تھی۔نصرت کو ابتدا میں یہاں کا ماحول بہت عجیب لگا تھا، اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ عجیب سے مغربی طرز کی نقالی کرنے والی ڈومنیوں کے بیچ کہیں پھنس گئی ہے، وہ باہر سر پر ہر وقت دوپٹہ رکھا کرتی تھی، جو کہ اکثر اوقات نائیلون اور شیفون ہونے کی صورت میں سر سے پھسل جایا کرتا تھا، مگر اسے دوپٹہ برابر کرنے کی محنت سے کبھی میں نے اکتاتے ہوئے نہیں دیکھا۔جو کہ میرے لیے کافی استعجاب کی بات تھی۔پھر باتوں ہی باتوں میں میں نے کافی روز بعد نصرت سے کہا کہ تمہیں اس روز آخر ہوکیا گیا تھا ، جو تم چڑیلوں کی طرح آدھی رات کو ہاسٹل کی دیوار پر بال کھول کر بیٹھ گئی تھیں۔

نصرت پہلے تو مجھے دیکھتی رہی، پھر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس روز میرا جنم دن تھا اور میں اپنے گھروالوں کے فون کا انتظار کررہی تھی۔لیکن پوری رات اور پورا دن کسی کا بھی فون نہیں آیا، ہاسٹل میں تمہارے علاوہ اور کوئی دوست نہیں ہے اور اپنے منہ سے تمہیں اپنی برتھ ڈے کے بارے میں بتاکر میں اس توقع کو نہیں کھونا چاہتی تھی ، جس میں کسی پل تم ہی مجھے مبارکباد دے بیٹھو۔اس کی بات کے جواب میں کیا کہا جائے، مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہ آیا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 16 دسمبر 1971- پسپائی

صبحدم ہماری اور ایف۔ایف کی مشترکہ جمگاہ پر شدید قسم کا اٹیک آیا۔میڈیم توپخانے کی گولہ باری سے ایک دم کیمپ میں ہلچل مچ گئی۔ہماری کمپنی کا ایک جوان شہید اور کئی لوگ چند منٹ کی گولہ باری میں زخمی ہوگئے۔

سرخ شامیانہ - قسط نمبر 3

حسین عابد: کالج غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا، مبینہ ملزم فرار ہوچکے تھے، ہاسٹلوں کی تلاشیاں لینے کے بعد انہیں گھروں کو کوچ کرنے کا حکم جاری ہوا۔

محشرِخیال

سب خیال اڑتے، بھاگتے، چلتے، رینگتے، گھسٹتے، اٹھتے، گرتے اور تیرتے ہوئے تمام تر ممکنہ تیزی سے اس کے دما غ میں گھس گئے۔ کھلا در اندر سے بند کر لیا گیااور پھر دماغ کی بندر بانٹ بڑی بے دریغی سے کی گئی۔