محبت کی گیارہ کہانیاں (چھٹی کہانی)

محبت کی گیارہ کہانیاں (چھٹی کہانی)

آپ کبھی کوئی گنجلک یا نا قابل فہم تحریر پڑھیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ میں ایسی تحریروں میں دلچسپی تو لیتی ہوں، کیونکہ میرا مطالعہ لاکھ سماجیات کا ہو،مگر نفسیات سے مجھے ایک خاص شغف ہے۔یوں جانیے کہ جب بھی کوئی ایسی تحریر میرے ہاتھ لگ جائے تو میں اسے رات میں لحاف کا کونا تھامے تھامے پڑھتی رہتی ہوں، لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ نہ سمجھنے میں آنے والی سطروں کو دوبارہ دیکھوں، میرے لیے مشکل الفاظ کا بھی مفہوم پڑھتے پڑھتے ڈھونڈنا ذرا مشکل کام ہے۔یہ سب مجھے اکتادینے والا کام لگتا ہے، شاید اسے آپ میری ناسمجھی قرار دیں، مگر مجھے لگتا ہے کہ میں ادق الفاظ کے معانی جانے بغیر اور مشکل سطروں کو سمجھے بغیر کسی تحریر کا مقصد اور اس میں لکھے گئے بنیادی نکات کے نالوں تک پہنچ ہی جاتی ہوں۔مگر جس حد تک کوئی گنجلک تحریر مجھے اپنا اسیر بناسکتی ہے، اسی حد تک شاعری مجھے بیزار کرتی ہے۔میں شاعری سے کبھی ویسا تعلق نہیں پیدا کرپائی، جیسا عام مشرقی سماج میں لڑکیوں کا ہوا کرتا ہے۔محسن میرے لیے طرح طرح کے گیت اور شعر تراشتا ہے، کسی نظم میں مجھے مور کی پنکھوں جیسی نرم کھال والا پرند بنادیتا ہے تو کبھی میری لمبی گردن کو مئے ناب انڈیلتی ہوئی صراحی۔ مگر آپ خود ہی بتائیے کہ شاعری اور اس کے استعارے(یہ لفظ بھی میں نے اسی سے سنا، جس کا مطلب شاید ایسی لفظی نشانیاں ہیں جو کسی خوبصورت یا بدصورت چیز کے بیان کے لیے استعمال کی جاتی ہیں) مجھے سمجھ ہی نہیں آتے۔میں شاعری کے معاملے میں ایک بند کمرہ ہوں، ٹوٹا ہوا کواڑ اور پھٹی ہوئی چٹائی ہوں۔ میری سختی اور جھنجھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ میں جب کبھی اس کلموہی شاعری کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگتی ہوں، دماغ بھنا اٹھتا ہے اور میں بڑے عقلی سوال قائم کرنے لگتی ہوں۔ ایسی بھی کیا بات ہے کہ ایک آن کی آن میں آدمی کی ذات پر اتنے جھوٹ لاد دیے جائیں کہ اس کا بوجھ نہ اٹھایا جاسکے۔ اور میں تو ویسے بھی بہت خرانٹ قسم کی پتلی دبلی چڑیل ہوں، جسے چاندنی راتوں میں اڑنے والی جھاڑوئوں کی سواریاں تک پسند نہیں۔مجھے تصورات کی دنیا ، وہاں کےسمندر کے مدو جزر، چاند کی روشنی اور سیپیوں کی تراش سے واقعی کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ایک شاعر نے مجھے خوبصورت سا گلاب کہا، میں نے پوچھا کہ گلاب کا مجھ سے آخر کیا تعلق ہے، اچھا پوچھا نہیں، جھوٹ کیوں بولوں۔ صرف سوچا۔گلاب ایک بے حد بیزار کن پھول ہے، اگر اس میں سے خوشبو نکال دی جائے تو وہ ایک نہایت بدذوق آرٹسٹ کا غیر تخلیقی نمونہ معلوم ہوگا۔کبھی کبھی گہرے عنابی رنگ کے گلاب مجھے پسند آجاتے ہیں، مگر یہ کیا کہ محبت کے دن پر آپ گلاب سے کسی کو خوش کررہے ہیں۔ ہم اپنی سوسائٹی میں بوسے سے یہی مبارکباد کیوں نہیں دے سکتے۔ میں تو دینا چاہتی ہوں۔ اس دن میں نے دل رکھنے کے لیے محسن کو بھی بوسہ دینے کا ارادہ کیا تھا، سوچا کہ خوش ہوجائے گا ۔مگر جب میں نے اپنا ارادہ اس پر ظاہر کیا تو مارے خوف کے اس کی گگھی بندھ گئی، کہنے لگا کہ وہ مجھے صرف گال پر بوسہ دے سکتا ہے، اس کے آگے اس کا سارا جاندار شاعرانہ تخیل ، پست ہوکر زمین پر ہانپتا ہوا نظر آئے گا۔چنانچہ میرا موڈ اتنا خراب ہوا کہ میں نے وہ شام وقاص کے ساتھ گزاری، گھنٹوں ہم ساحل سمندر پر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک پتھر پر بیٹھے ،دھندلی شام میں ایک دوسرے کو چومتے رہے۔ اس کے ہونٹوں کی پپڑی دن بہ دن سخت ہوتی جارہی ہے، مجھے اپنے لعاب سے زیادہ کام لیناچاہیے تھا، مگر سردی میں زیادہ پانی نہ پینے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ زبان پر بہتا ہوا لعاب خشک ہونے لگتا ہے، اور پھر جن لوگوں کو بوسے کا تجربہ ہے ، وہ جانتے ہیں کہ اگر دونوں فریقین میں سے کسی ایک کی زبان ہلکی خشک ہو تو پھر متقابل فریق کے منہ کی ساری مہک جھیلنی ہوتی ہے۔میں نے اس کے منہ سے اٹھ رہی سگریٹ آلود مہک کو بہت دیر تک جھیلنے کے بعد خود کو اس سے علیحدہ کیا، اور زمین پر تین چار بار تھوکا۔ وہ سمجھا کہ پتہ نہیں، اس سے کیا حرکت سرزد ہوگئی، اس نے کہا ، کیا میرا منہ مہک رہا ہے؟ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، اور بھاگتی ہوئی کالے پڑتے سمندر کی گود میں اتر گئی۔

جب سمندر کا نمکین پانی میرے ہونٹوں اور زبان سے مس ہوا ، آنکھوں میں اترا تو بہت اچھا محسوس ہوا۔ وقاص دور بیٹھا یک گونہ شرمندگی سے مجھے نہاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ہر بار سمندر کی جو لہر آتی، میں اس پر کود کر کسی جنگلی بھوکے اژدہے کی طرح حملہ کرتی اور پھر اس کے زور سے بہت دور تک کھلکھلا کر واپس پلٹتی ہوئی آتی۔سمندر ویسے بہت خاموش جاندار ہے، مگر جب کبھی آپ کنارے پر اس کا شور محسوس کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رگوں میں کیسے کیسے شریر ہنگامے موجود ہیں۔مجھے سمندر کی نمک آلود ہوا اور رات کی یہ خاموشی بہت پسند ہے، دور دور تک ابھی نہ کوئی سماج ہے، نہ کوئی مذہب ہے، نہ کوئی رسم ہے۔ بس میں اکیلی ، دور بیٹھا ہوا میرا معشوق ، جس کی ساری مردانگی ، ساری ہوس، سارا جنون میں نے دو تین تھوکوں میں اڑادیا اور اب مجھے اپنی آغوش میں لے کر مجھ سے کھیلتا ہوا یہ بوڑھا، بہت بوڑھا سمندر، جس کی مردانگی کو ایک ہزار ایک عورتیں مل کر بھی شرمسار نہیں کرسکتی، یہ سب کے ساتھ ایک ساتھ گہرا اور لمبا وصل کرسکتا ہے، ان کی رانوں، ان کے سینوں اور ان کی گردنوں پر کوئی شعر لکھے بغیر، ان کی جھوٹی تعریفوں اور خوشامدوں کی اسے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ واہ! سمندر میں تیرے بھیگے ہوئے جسم میں اتر جانا چاہتی ہوں، مگر ایک حد سے آگے تیری لہرو ں کے شور سے آگے، تیری خاموشی کی ناڑی میں اترتے ہوئے مجھے خوف آتا ہے۔سمندر اس وقت میرے لیے مارکیز دی ساد کے ناول ' محرم' کے مرکزی کردار فرینول میں تبدیل ہوجاتا ہے اور میں یوگینی جیسی جوان، حسین بیٹی بن کر اس کی جھاگ ابلتی رانوں سے لپٹ چپٹ کر اسے محبت کرتی ہوں۔ ایسے میں اگر چاندنی میری مشفق ماں بن کر مجھے اس سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے تو سمندر سامنے پتھر پر بیٹھے ہوئے میرے معشوق کو میرے ہی کردار کے بارے میں مشکوک کرکے، مجھے اس سے چھڑا لینے پر کمربستہ ہوجائے گا اور اگر وہ اتنے سے بھی نہ مانے تو چاندنی کی کلائیاں توڑ کر،اسی پتھر پر براجمان وقاص کا سر پٹک پٹک کر اس کے خون سے میری مانگ بھردے گا۔اف، کاش میں اس وقت سمندر کے قطروں کوچھیڑتی ہوئی رات کی نیلی چڑیا میں تبدیل ہوجائوں اور سمندر میری ذات کا سارا زہر مجھ پر انڈیلنے کے بجائے اسے اپنی داڑھ میں دباکر خود نیلگوں بن کر شو کی طرح پوری دنیا کو اپنے کرودھ سے بھرا ہوا تانڈو دکھا سکے۔

کیا میں ایک بھرپور سونامی کے بارے میں ذکر کر رہی ہوں، اف مجھے یہاں سے باہر نکلنا ہوگا۔سمندر کبھی منت سماجت نہیں کرتا، ننھے اور منہ لٹکائے ہوئے نیازمندوں کی طرح اسے اس بات سے بالکل غرض نہیں ہے کہ آپ اس کی شرر شرر میں کب تک خود کو شرابور کررہے ہیں۔سمندر سے وصال آپ کا مسئلہ ہے، سمندر کا نہیں، کیونکہ سمندر میں مل جانا، دھرتی کا مقدر ہے اور یہ بات اس نیل دیوتا کو اچھی طرح پتہ ہے۔میں نمک اور پانی سے بھیگی ہوئی باہر نکلی تو دیکھا کہ وقاص ایک درخت سے ٹیک لگاکر پودینہ آمیز ایک مائوتھ فریشنز چبا رہا تھا۔میرے بھیگے ہوئے بدن کو دیکھ کر اس نے فریشنز منہ سے کسی انجانی جگہ پر پھینکی، ہتھیلی پر منہ کو لے کر جاکر ہواکی ایک تھپکی دی اورمیرے بالکل نزدیک آکر کہا'میں نے دو دنوں سے سگریٹ نہیں پی ہے صبا!' میرے نتھنوں میں مصنوعی پودینے کی تیز بو کسی غار میں اندھا دھند گھستے ہوئے چمگادڑوں کی طرح داخل ہوئی۔ میں اسے یہ بتانا نہیں چاہتی تھی کہ سگریٹ کی طرح مجھے ان مائوتھ فریشنرز کی بو بھی بے حد بری معلوم ہوتی ہے، ابھی میں خود کو سنبھال ہی رہی تھی کہ وہ مجھ پر ٹوٹ پڑا، اس نے سب سے پہلے میرے بدن کے جس حصے کو اپنے دانتوں سے کچکچا کر ادھیڑنا شروع کیا، وہ میری نابی تھی ، ایک عجیب سی گدگدی پورے شریر میں برقی رو کی طرح دوڑ رہی تھی، اس نے مجھے ریت پر گرادیا اور ہلکی چاندنی رات میں سمندر کے بدن سے نکل کر ایک آدمی کے بدن میں ادھڑتی ہوئی میری سانسیں اپنے ہی وصل کا تماشا دیکھنے میں مصروف ہوگئیں۔ وقاص جس وقت میری کھٹی اور نیم آمیز شرمگاہ کے قطرے اپنی حلق میں اتار رہا تھا، میں نے سمندر کی جانب دیکھا۔سمندر جو فرانسیسی عاشق فرینول کی طرح حاسد نہیں تھا، بلکہ چیخوف کے تراشے گئے کسی روسی کردار کی طرح بالکل بے نیاز اپنی ترنگ میں رات کا آنند لیتے ہوئے منہ کھولے لہروں کے گہرے خراٹے بھررہا تھا۔

رات کے قریب پونے بارہ بجے ہم وہاں سے نکلے،ایک لمبا راستہ طے کرنا تھا، چنانچہ باتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ادھر ادھر کی بہت سی باتوں میں نہ جانے کہاں سے محسن کا ذکر آگیا، حالانکہ میرا بدن اس وقت اتنا تھکا ہوا تھا، پائوں اتنے بوجھل تھے اور بازو اتنے شل کہ میں شاعر یا شاعری جیسے تپا دینے والے موضوعات پر بالکل بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔مگر وقاص اپنے عدم تحفظ کی بنا پر ایسے موضوعات سے چپک کر رہ جانے والا شخص تھا۔ وہ مجھے جان بوجھ کر بار بار ان لوگوں اور ان باتوں کی جانب کھینچتا تھا، جن سے اصل میں اسے کوئی شکوہ ہو، اور دکھاتا ایسے تھا، جیسے اسے میری فکر ہو۔میں اس کے اس رویے سے اچھی طرح واقف تھی، چنانچہ اکثر اسے جھڑک دیا کرتی تھی، مگر اس وقت، یعنی رات کے پونے بارہ بجے ، سمندر اور آدمی سے وصال کرنے کے بعد مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ میں اس موضوع کو جھڑک دیتی۔اس نے اپنی جینز سے ، جس کے پانئچوں اور جیبوں میں اچھی خاصی ریت پھنسی تھی، ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر دکھایا۔یہ دراصل ایک خط تھا ، جو کیمپس میں میری بے خبری کے عالم میں ہی گردش کررہا تھا۔یہ کھلا خط محسن نے کسی بلاگ پر اپنی گمنام محبوبہ کے نام لکھا تھا اور ظاہر ہے جیسا کہ سب جانتے ہی تھے کہ وہ مجھ میں دلچسپی رکھتا ہے، اس لیے سب کے شک اور یقین کا پہلا نشانہ میں ہی بنی۔خیر، خط میں کچھ دل جلے اشعار کے ساتھ ایک نہایت شاعرانہ اور بور کردینے والی شکایت لکھی تھی، جس میں کسی کے جذبات کو نہ سمجھنے والی محبوبہ کو بہت شریفانہ انداز میں گالیاں بکی گئی تھیں۔کچھ مشہور ادیبوں کے قول تھے، کچھ پرانے عاشقانہ خطوط کا حوالہ تھا اور کہیں کہیں شاعر صاحب نہ چاہتے ہوئے اپنی محبوبہ کے حسن کی تعریف بھی کربیٹھتے تھے۔ خط سنتے میں، کئی بار مجھے ابکائی آئی ، بلکہ میں نے ایک جگہ بیٹھ کر رستے کے دائیں جانب اگی گھانس پر منہ سے کچھ اگلنے کی اداکاری بھی کی، اس امید میں کہ شاید مجھے الٹی ہوہی جائے، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔

وقاص اوپر سے خواہ کتنی ہی ہمدردیاں دکھا رہا ہو، مگر محسن کے کھلے خط پر میرا یہ رویہ دیکھ کر اسے بلاشبہ بڑی تسکین ہوئی ہوگی۔ہمارے علاقے میں چغد کے لیے ایک نہایت خوبصورت گالی ہے، جسے میں اس لہجے میں آپ کو نہیں سنا سکتی، جس میں ہمارے لوگ بولا کرتے ہیں۔ورنہ ابھی بک کر دکھاتی کہ وقاص جیسے لوگوں کو کس طرح سربازار پکارا جانا چاہیے۔خیر، اگلی صبح جب دھوپ فرش پر اکڑوں پائوں آکر بیٹھی تو میری ننگی پیٹھ پر چپکے ہوئے نمک کے ذرات چبھنے لگے، مجھے یاد آیا کہ میں اپنے ہاسٹل میں نہیں ہوں، بلکہ وقاص مجھے رات کو اپنے ایک دوست کے یہاں لے آیا تھا، اب یاد نہیں آرہا کہ اس کا کیا نام تھا، راحیل، شرجیل یا مزمل، پتہ نہیں!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

ایک عاشق نامراد کا ادبی شکوہ

کہانی کا کچھ تو انجام ہو جائے، دیکھو، کہانیاں کچھ ٹوٹی پھوٹی سی میں بھی لکھ لیتا ہوں، کوئی اوپر بیٹھا بھی لکھ رہا ہے، ان گنت کہانیاں، خوشگوار اور بھیانک کہانیاں۔

اور دینا دعوت مولانا کا اور رد کرنا ایک غیر مسلم کا

غیر مسلم: مولوی صاحب، مجھے امن و سکون کی تلاش ہے۔ یہ امن و سکون مجھے کیسے ملے گا؟

سیٹھانی کا کتا

ﺗﮭﻮﮎ ﮐﻒ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﭽﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺠﯿﺮﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﭘﻠﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﺑﻠﮯ ﭼﺎﻭﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ۔