مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے
ایک راستہ چاہیے
جو پاؤں سے نہیں
دل سے نکلتا ہو

مجھ تک آنے کے لیے
ایک دروازہ چاہیے
جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے
کھل سکتا ہو
اور ایک کھڑکی
جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو

مجھ تک آنے کے لیے
سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت نہیں
نہ لفٹ استعمال کرنے کی
میں آسمان سے اونچی عمارت کی
زمینی منزل میں رہتا ہوں
جہاں ہر آنے والا
اپنی سطح کے مطابق
اونچائی یا نچائی ساتھ لاتا ہے

مجھ تک آنے کے لیے
کہیں جانے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی
میں آنے والوں کے پاس
خود چل کر پہنچ جاتا ہوں!
ٰImage: Daehyun Kim

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

میری شکایتیں بھی تو سن

کاش میں تمہیں بتا سکتا
یہ لفظ کس قدر اجنبی ہوگئے ہیں
اب گزرتے ہوئے سلام بھی نہیں کرتے
کوئی بات کرو تو منہ موڑ لیتے ہیں

عریاں بدن کا مستور چہرہ

حسین عابد: وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں

آسان رستے کا مسافر

حسین عابد: خون کی ہولی کھیلتے
اس کی چمکتی بتیسی میں
مردہ آدمی کے دانت کچکتے رہتے ہیں

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*