مُلا کی محراب: مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہارِ فن کا سہارا (اسد فاطمی)

مُلا کی محراب: مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہارِ فن کا سہارا (اسد فاطمی)

نصیرالدین صاحب سے میری ملاقاتیں تب سے ہیں جب میں لاہور میں کام کاج کرتا تھا، تنخواہ پاتا تھا اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا۔ میں نے جبھی ان سے ذکر کیا تھا کہ ہائی اسکول کے دنوں میں گرمیوں کی چھٹیاں میں گاؤں کے خوشنویس اور پینٹر کی دکان پر گزارتا تھا، وہ جلد ساز بھی تھا۔ اس شاگردی کی بدولت میں نے اپنے آبائی گھر پر موجود بیشتر کتب خود جلد کی ہیں۔ افسوس کہ میں نے سب سے خستہ کتابوں سے آغاز کیا اور میرے نوآموز ہاتھوں نے باپ دادا کی چند بہت نادر کتب پر تباہ کن شگاف اندازیاں کر ڈالیں۔
2017ء میں ٹائپوگرافی کے ایک بڑے منصوبے کا تحفہ لے کر گاؤں سے لاہور میں ایک دوست کے اسٹوڈیو پہنچا۔ وہ چند روز میرا پیٹ پالنے کے بعد اس شاہانہ مہم کی سرپرستی سے دست کش ہو گیا۔ پہلے فاقے ہوئے، پھر در بدری، لیکن میں نے رسم خط کا مطالعہ جیسے تیسے جاری رکھا۔ کچھ ہفتوں میں تن پہ پہن رکھا جوڑا اور پیروں کی جوتی ہی وہ املاک تھیں جن کی فکر میرے اور میری آوارگی کے بیچ حائل رہ گئی تھی۔ ایک دن دربار داتا صاحب لنگر کی قطار پر کھڑے خیال آیا کہ نصیرالدین صاحب کی دوکان بھی تو یہیں دربار سے ملحق بازارِ کتب میں ہے، یہ خیال آیا اور میں سر پڑے جاڑوں میں ٹھٹھر کے مر جانے سے بچ گیا۔

نصیرالدین صاحب جنہیں ان کے قبیلے میں مولَوی صَیب یا مُلا صَیب کے لقب سے پکارا جاتا ہے، لورالائی کے پشتون ہیں، کوئٹہ اور لورالائی کے مدارس میں پڑھے، کتابوں سے رومان پالا، کوئٹہ، پشاور، سکھر، شکارپور اور مشہد و تہران تک کتب فروشی کا دھندا کیا۔ گاہے اپنی دوکان سجا کر، گاہے گٹھڑی شانے پہ ڈالے گاؤں گاؤں، مکتب مکتب پھیری لگائی۔ پینتیس چالیس برس سے لاہور میں ہیں۔ یہاں ان کی دوکان عرب و عجم کی نادر ترین کتابوں اور قلمی مخطوطوں کا مخزن ہے۔ دکان کے پیچھے ایک بڑا گودام ہے، گودام کے اوپر ایک گودام ہے، کتابوں کے پُشتوں کے بیچ ایک سرنگ نما تنگ رستہ نیچے گلی کی طرف کھلنے والی ایک محرابی کھڑکی تک آتا ہے جہاں مخطوطات کی مرمت والی میز ہے اور دوسرے کونے میں اتنی جگہ خالی ہے کہ ایک آدھ بے گھر یہاں ایک پورا موسم سرما رات کی نیند کر سکتا ہے۔

میری فارسی دانی اور خوشنویسی کی صلاحیت پر پہلے سے ہی ملا صاحب نے اعتبار کیا ہوا تھا سو مجھے مخطوطے مرمت کرنے کی اجازت پانے کے لیے ان کے آگے کوئی امتحان دینے کی حاجت نہیں ہوئی۔

میں اس محرابی کھڑکی کے نیچے ایک کونے میں بچھانے کے لیے ایک کمبل کہیں سے لے آیا، دوسرے کونے میں کام والی میز تھی۔ سامنے جلد سازی کے گتے، چمڑے، چِیڑ موسلی، زنبور اور شکنجے پڑے ہیں، ایک طرف کچھ سامانِ کتابت اور قلمی نسخوں کا ایک پشتہ دھرا ہے۔ بوسیدہ اور دریدہ ٹکڑوں سے غائب متن کو متبادل مآخذوں سے ڈھونڈنا، اصل کے خط کے مطابق وہ ٹکڑا پھر سے لکھنا، اور ٹکڑے کو متعلقہ ورق سے جوڑنا، ایک بیحد دقیق کام تھا اور ملا صاحب نے مجھ سے کام کی سنجیدہ بازپرس کبھی نہ کی۔ میرا فن ابھی ناقص تھا، میں سستے بازاری قلم اور رنگوں سے کوئی تصویر یا متن مرمت کر کے ندامت آمیز سے انداز میں مُلا کی طرف بڑھاتا کہ سوا تین صدیاں پرانے نسخے کا ساڑھے ستیاناس ہو گیا، لیکن ملا صاحب ہلکا سا چیں بجبیں ہو کر ساتھ ہی ایک تسلی آمیز ہنسی کے ساتھ کہتے؛ بالکل پَسکِلاس ہو گیا ہے، بالکل ٹھیک ہے۔
میرے کام سے ابھی دوکان کو کچھ خاص منفعت نہیں ملی تھی سو میں نے مُلا سے کبھی اجرت کا مطالبہ نہیں کیا۔ دربار مارکیٹ سے آگے ایک گلی چھوڑ کر پُلاؤ کی دیگیں بٹتی ہیں، سگریٹ کا برانڈ میرا اور مُلا کا ایک ہی ہے، سو وہ میں مُلا کی جیب سے خود نکال لیتا تھا۔ دھندے کا حال یہ ہے کہ مُلا کو دوکان سے زیادہ دیوان سجانے میں دلچسپی ہے۔ دن بھر دوکان میں مدارس کے طلبہ اور برادری کے قبائلی آئے رہتے ہیں، قہوہ چلتا ہے اور مُلا کے قہقہے اوپری منزل تک سنائی دیتے ہیں۔ قہوہ بنانے اور چائے لانے کا کام مُلا کے بیٹے کا تھا، میں آیا تو یہ ذمہ میں نے لیا اور اس نوجوان کو اسکول اور کھیل کود کے لیے کچھ فراغ مل گیا۔ چائے قہوہ سنبھالنے کے بعد اکثر شام پڑے ملا صاحب ایک آدھ لال نوٹ میری جیب میں بھی اڑسنے لگے۔

تب تک حافظ چائے والا مجھے پہچاننے لگا تھا، دوسری دکانوں پہ کام کرنے والے کمسن گلی سے گزرتے ہوئے میری طرف ہنس کے گیند اچھالنے لگ گئے تھے اور میں ایک بار پھر اوپر کام کی میز کی نسبت گلی اور دیوان کی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لینے لگا۔ ملا صاحب نے کہا کہ یہ میرے رشتے دار افغانستان سے آئے ہیں، ولایت جوزجان میں کھیتی باڑی ہے، اردو پنجابی سے ناآشنا ہیں، تم دری جانتے ہو، بڑے میاں کو اسپتال لے جاؤ، جوان کو شہر گھماؤ۔ ایسے موقعوں پر رات دس بجے سے پہلے دکان پر لوٹنا بیوقوفی ہے، آوارگی کی آوارگی اور کام سے بھی غیر حاضر نہیں۔ پیچھے مُلا کی بیٹھک بھی چل رہی ہے۔ فقہی بحثوں میں انہیں ایک دو بار "پقہِ شاپعی" سے استناد کرتے دیکھا گیا ہے، لیکن عام طور پر وہ رندِ ہر مشرب اور مردِ آزادہ روح ہیں۔ قبائلیوں کی گپیں، کتاب چوروں اور نوادر کے چور بازاروں کے قصے، مسجد و منبر کے شگوفے، اپنی جوانی کی مہم جوئیاں۔۔۔ ملا کی بیٹھک میں کوئی ایک آدھ موضوع نہیں چلتا۔

یہاں کام کے دنوں میں قلاشی کے باوجود کئی نایاب عشرتیں ایک جگہ میسر تھیں۔ نیچے میلہ رام کی گلی میں شہرِ لاہور سے مخصوص ایک متین سی رونق تھی، گودام کی بلدار سیڑھی چڑھ کے محرابی کھڑکی تک آتے آتے کابل و شیراز کی مہک دماغ تک آ جاتی۔ یہاں اوپر سب کام بِن کہے، اپنی مرضی کا تھا۔ کئی دن تو جھاڑ پھونک کرتا رہا، مخطوطوں کے پشتے از سرِ نو مرتب کیے، خالی کاغذ، لین دین کی یادداشتیں، طالبان عہد کے جنگجو کمانڈروں کے پراپیگنڈا اسٹیکر اور ب بندوق پ پستول کے قاعدے، انقلابِ ثور اور انقلابِ خمینی کے زمزمے اور پمفلٹ، حافظ و سعدی کی شاعری کے مصور پرنٹ، قمری و شمسی کیلنڈروں کے ٹکڑے، سیلف ہیلپ کتابچے، ادعیہ پنجسورے، چرمی گردپوش، سوئیاں دھاگے، کیل کانٹے، وزٹنگ کارڈ، کاروباری رقعے سب الگ الگ خانوں میں رکھے۔ اپنے کمبل سے ملحق الماری میں اپنے ذوق اور کام کی کتب اپنے ہاتھ کی دوری پر سجائیں۔ جھاڑو، پوچی، قرنوں کی دھول۔۔۔ نیچے دکان میں قرون وسطیٰ کے پیتل کے کُرّوں اور اصطرلابوں سے کھیلتے ہوئے گمان گزرتا کہ میں خود بھی انہی نوادر میں سے ایک ہوں۔ کبھی شام کو دربار کی دیوار سے لگ کے قوالی سن لی، کبھی راوی ٹاپ کر کامران کی بارہ دری والے کنارے بیٹھ کے رات گئے تک بلند آواز میں بے سُرے راگ الاپتا۔ رات کو بے سروسامان سی میز پہ شرحِ کریما کا مرمت ناپذیر مجروح نسخہ سامنے رکھ کے شیخ ابنِ مقلہ کے بریدہ ہاتھوں کو یاد کر کے نکوٹین آلود آہیں بھرتا۔

اگلے سال کی پہلی صبح آنکھ کھلی تو خود کو اسلام آباد کی سڑکوں پر بے دست و پا حالت میں مجہول سے خلاؤں کی طرف تاکتا ہوا پایا۔ شرحِ کریما کا نسخہ مرمت نہیں ہو سکا۔ نئے شہر میں پرانے دوستوں کو ڈھونڈیے۔ نہانے کو گرم پانی کی فکر کیجیے، ماں باپ نے اپنے حصے کا رو پیٹ لیا، اگر خان و خویش میں کوئی اور پوچھے کہ سال بھر کہاں گم رہے تو کیا کہیے۔

اگر جنون کو ایک عارضہ مان لیا جائے تو میں کہوں گا کہ یہ متعدی مرض ہے۔ ایک سرسری راہگیر اس چھوت کے اثر سے محفوظ ہے کہ اس کے لیے آوارہ پاگل محض متاعِ عبرت ہیں۔ دن دیہاڑے کربلا گامے شاہ کے صدر دروازے کے آگے ہگتی ہوئی بُڑھیا، کچہری روڈ کے فٹ پاتھ پر ننگ دھڑنگ لیٹ کے لن کو دھوپ لگواتا ادھیڑ عمر شخص، کَسی ہوئی لال پتلون پہنے شور مچانے اور دیواروں پہ فلائنگ کِکیں مارتے رہنے والا ٹوٹل کریزی لڑکا، جنہیں ان کی بوالعجبی کے باوجود کوئی راہگیر پلٹ کر نہیں دیکھتا، ان کے پاس جا کر ان سے بات کریں تو ان میں بیشتر موسم کی خنکی یا ٹریفک حادثوں کی ہولناکی وغیرہ جیسے کسی موضوع پر کسی بھی دوسرے شخص کی سی ہوشمندی سے بات کر سکتے ہیں۔ وہ ایک بے مہر اور غیر روادار سماج میں ایک ناقابل اعتبار سی سماجی قبولیت کو قربان کر کے اس کے عوض اپنی انفرادیت کے اظہار کا بسیط اجازہ حاصل کر چکنے والے چالاک ترین لوگ ہیں۔

میرے ایک متوسط زندگی کے خط سے نیچے چلے جانے کی ایک سادہ تر وجہ بے سروسامانی کا جبر ضرور تھی، لیکن ایک محرک ایک بزعم خود تخلیق کار کا خالی پن بھی تھا۔ میں ساز و سامان کی دیکھ بھال کرتے رہنے والی بودوباش کے آگے جتنا مزاحم ہوتا گیا، لاشعور میں رواں ایک ماجرائے خام کے آگے میری مزاحمت، خود سپردگی میں بدلتی چلی گئی۔ ان ایام میں حرف، رنگ، صوت، ساخت، روشنی، جنبش، ادا اور علامت کے وہ پارے میرے افعال اور حسیات کے ہمسفر تھے، جنہیں روزمرہ بامعنی ابلاغ کے لیے ہم کسی ذخیرے میں شمار نہیں کرتے۔ میں شہر کے در و دیوار، کوچہ و بازار اور ان میں متحرک زندگی سے مہینوں تک مسلسل خاموش مکالمے میں رہا۔ یہ مکمل خبط تھا، لیکن اس تسلسل میں گاہے کچھ ایسی پرماجرا واردات ضرور آ جاتی جس کی یاد مجھے اب بھی بضد رکھتی ہے کہ اس کی ممکنہ تاویل، ہوش و خرد کی سکہ بند دنیا میں مجھ پر سے دیوانگی کی تہمت کو دھو سکتی ہے۔ میں نے گذرگاہوں اور عمارتوں کی زبان سمجھنے کی سعی کی۔ میں نے صبح فٹ پاتھوں سے جاگ کر، اونچے گھڑیال کے اشارے پر رٹے رٹائے رستوں پہ خیراتی لنگروں تک پہنچتے انسانوں، راوی کے پل اور نہر والی سڑک پہ صدقے کا تیار شدہ گوشت اٹھانے کے لیے شہر بھر کے آسمان پر سیاروی دائروں میں اڑتی چیلوں، اور اپنے اپنے مدار کے گرد گھومنے والے آوارہ کتوں اور بلیوں کی الگ الگ گردشوں کے بیچ کے موہوم سے باہمی آہنگ کو ایک سنجیدہ مشاہدے کا موضوع سمجھا۔ اور میں نے زندگانِ شہر پر اعتماد کیا کہ میں اپنی دقیق اور نازک و شکستنی فنی مشقتیں عام رسائی کے کسی کونے کھدرے میں سجا دوں گا تو دستِ تخریب سے پہلے چشمِ بینا اس تک پہنچے گی۔

پنجاب پبلک لائبریری میں گزارے دنوں اور جیل روڈ، ٹکسالی اور یادگار چوک کے قرب و جوار میں گزاری گئی راتوں کے دوران کاغذوں کے کچھ ٹکڑے جو میں یہاں وہاں دابتا رہا تھا، ان میں سے جو کچھ سمیٹ سکا، مُلا کی محراب تک لے آیا۔ سال بھر بعد اب آ کر بچے کھچے پرزے وہاں سے سمیٹنے کی نوبت ہوئی ہے اور محراب پر یہ نشان چھوڑے جاتا ہوں۔ عمومی سماجی توقعات اور متوسط حضری معیار زندگی کے آگے سرِ تسلیم کو مقدور بھر خم کر چکنے کے بعد بھی، اپنے ظاہر کو تباہ و برباد کر لینے کے دنوں کی یاد کبھی کبھار پلٹ کے دیکھتے رہنے پر اکساتی ہے۔ ایسی کسی بھی ممکنہ بازدید کے لیے مُلا کی محراب میرے تئیں ایک حوالے کا نقطہ ہے۔


محراب کا شعر:
فَوَقَف٘تُ أسئلُهَا وَ کَی٘فَ سَوالُنا
صُمّاً خَوَالِدَ ما یَبِی٘نُ کَلامُهَا
«لبید بن ربیعہ»
سبع المعلقات کا چوتھا قصیدہ۔ لبید کئی مدتوں کے بعد منیٰ کی بستی سے گزرتا ہے، اور غول اور رجام کے علاقے، جہاں کبھی اس کی محبوبہ آباد تھی، اب ویرانوں میں بدل چکے ہیں؛
"میں وہاں ٹھہر گیا کہ کچھ پتہ پوچھوں۔ پر ان ٹھوس اینٹ پتھروں سے کیا پوچھنا، جن کی بات کچھ پلے نہیں پڑتی۔"
Image: Asad Fatemi

Asad Fatemi

Asad Fatemi

Asad Fatemi is a freelance writer and a poet. He is a former editor of Urdu section of Laaltain. He lives in his hometown in district Jhang.


Related Articles

کوزہ گر

اذیت، بے بسی درد، اپنے وجود کے کھو جانے کا احساس بہت طاقتور ریلے کی طرح اسے بہانے لگا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اور عورت بن گئی ۔

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظر نامہ

اکیسویں صدی کی غزل کا اگر اجتماعی سطح پر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس معاصر منظر نامے میں جو نمایاں لوگ نظر آتے ہیں ان کے ہاں معاصر زندگی کے ذاتی تجربات و انکشافات کی تخلیقی شکل مختلف اسلوبیات کے ساتھ اور مختلف تہذیبی رنگوں کی آمیزش کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔

ایک جابر کا سنگِ مزار

جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے