نرگسیت

نرگسیت

ایک تالاب ہے
جس کے چاروں طرف
نرگسی پھول ہیں
اس کے پانی پہ لرزاں
چمکتا ہوا
یہ مرا عکس ہے

یہ مرا عکس ہے
جس کا ہر ایک خط
جاذب و دل بریں
“دلنشیں، دلنشیں
آفریں، آفریں”

ایسا ساحر ہوں میں
جو کہ مسحور ہے
خود پرستی کے ہاتھوں
جو مجبور ہے
میَں تحیرزدہ
منجمد، منجمد
خود میں سہما ہوا
منفرد، منفرد

میں کہ مبہوت ہوں
میں اپنی انا
اور اپنی ثناء
اور اپنی محبت کا
تابوت ہوں

Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

اے میرے سوچنے والے بیٹے

شہزاد نیر: سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے

حق و نفی

گوتم بیدار ہوتا ہے
صدیوں کی آگ میں جلتی ہڈیاں
بھوک اور افلاس کی چٹختی مٹی
اور خود آزمائی کی زنجیریں اسے

قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں