نرگسیت

نرگسیت

ایک تالاب ہے
جس کے چاروں طرف
نرگسی پھول ہیں
اس کے پانی پہ لرزاں
چمکتا ہوا
یہ مرا عکس ہے

یہ مرا عکس ہے
جس کا ہر ایک خط
جاذب و دل بریں
“دلنشیں، دلنشیں
آفریں، آفریں”

ایسا ساحر ہوں میں
جو کہ مسحور ہے
خود پرستی کے ہاتھوں
جو مجبور ہے
میَں تحیرزدہ
منجمد، منجمد
خود میں سہما ہوا
منفرد، منفرد

میں کہ مبہوت ہوں
میں اپنی انا
اور اپنی ثناء
اور اپنی محبت کا
تابوت ہوں

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

وہ زمین سے کچھ انگلیاں ادھار مانگ رہا ہے
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی

غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے

ہم لوگ

ہم ممتاز قادری کو غازی دین کا سپوت کہتے ہیں، قاتلوں کو عاشق رسولﷺ کا خطاب دیتے ہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے حق میں جلسے، جلوس اور ریلیاں بھی نکالتے ہیں اور اگر ہماری رائے سے کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے دین دشمن اور توہین رسالتﷺ کا مرتکب قرار دے کر اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں۔