نزار قبانی کی رومانی شاعری

نزار قبانی کی رومانی شاعری

"معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی پر محیط ہے، ان کے اشعار، نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزارقبانی 30 اپریل 1998ء کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی، شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت و انفرادیت کی بدولت ہنوز تازہ و شاداب ہے۔ نزارقبانی نے اپنے باہم متناقض افکار و شعریات کے ذریعے پوری زندگی ادبی و فکری سطح پر ایک قسم کا ہیجان برپا کئے رکھا، وہ بیسویں صدی کے نصفِ آخر کے عربی معاشرے کے تضادات کو ان کی حقیقی شکل وصورت میں بیان کرتے تھے۔ وہ واحد ایسے عربی شاعر تھے جس نے ایک طویل زمانے سے قائم معاشرتی رسوم و رواج کے خلاف پوری جرأت و ہمت سے ہلہ بولا۔ اس نے بھرپور آزادی اور باغیانہ تیور کے ساتھ جہاں ایک طرف فکری، عملی اور شعوری سطح پر اس وقت کے عالمِ عربی کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا وہیں معاشرتی منکرات اور حرام و حلال جیسے نازک موضوعات بھی اس کی ناوک افگنی سے محفوظ نہ رہے۔"

نزّار قبانی عرب دنیا کا ایک معروف نام ہے۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ قانون کی تعلیم حاصل تو کی مگر کبھی عملی طور پر قانون دان یا منصف کی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے سفارت کاری کا انتخاب کیا اور وہ ملک شام کی طرف سے کئی ملکوں میں سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ملازمت کے بعد ڈیڑھ دہائی تک یورپ میں مقیم رہے اور 30 اپریل 1998ء کو ان کا انتقال ہوا۔

نزّار قبانی زمانہء طالب علمی سے ہی شاعری لکھنا شروع کر چکے تھے اور یہ زیادہ تر رومانوی شاعری ہوتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا اور پھر اس جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں بھی آئیں۔ اس دور کی عرب دنیا کو نزّار قبانی نے بہت غور سے دیکھا اور انہوں نے عربوں کی حالت زار اور ان کے رویئے کو اپنی شاعری کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ آخر تک استبداد کی مخالفت میں مزاحتمی شاعری کرتے رہے۔

ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت دکھی انسان تھے جن کی پہلی بیوی شادی کے فوراً بعد ہی ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی ایک پرانی دوست کے ساتھ دوسری شادی کی اور ان کا بھی جلد انتقال ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان کا بیٹا ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ اصل زندگی کی تلخیوں سے انہوں نے ایسی شاعری کشید کی کہ جس میں مزاحمتی کڑواہٹ کے علاوہ رومانوی مٹھاس بھی شامل ہے۔

ان کی رومانوی شاعری کے حوالے سے سنگِ میل پبلی کیشنز نے 'محبت کی 101 نظمیں' کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کی ہے جس میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم آنجہانی منّو بھائی نے کئے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل نظموں کے علاوہ 'ایک روزن' کے قارئین کیلئے ہم نے نزّار قبانی کی کچھ مزید رومانوی نظمیں ترجمہ کی ہیں۔ ہر نظم کے آخر میں دیئے گئے ویب لنک سے یہی نظم عربی اور انگریزی میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو لگتا ہے میں وقت کا شہنشاہ بن گیا ہوں
زمین اور جو کچھ بھی اس میں ہے، میری ملکیت بن چکا ہے
اور میں گھوڑے پر سوار سورج کی سیر کو نکل کھڑا ہوتا ہوں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو میں بہتی ہوئی روشنی میں ڈھل جاتا ہوں
کہ نظر جسے دیکھ نہ سکتی ہو
اور میری ڈائریوں میں لکھی نظمیں
ببول اور پوست کے کھیت بن جاتی ہیں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
پانی میری انگلیوں سے پھُدک کر بہہ نکلتا ہے
گھاس میری زبان پر اُگنے لگتی ہے
جب میں محبت کرتا ہوں

میں اس سبھی وقت سے باہر کا کوئی وقت بن جاتا ہوں۔

جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=56


محبت کا گَر موازنہ کیجے

میری جانِ من میں تمہارے باقی چاہنے والوں جیسا نہیں ہوں
اگر کوئی دوسرا تمہیں بادل لا کر دیتا ہے
تو میں تمہیں بارش پیش کروں گا
اگر وہ تمہیں لالٹین عطا کرتا ہے، تو میں
تمہیں چاند لا کر دوں گا
اگر وہ دے تمہیں ایک شاخ
تو میں تمہیں پیڑ کے پیڑ لا دوں گا
اور اگر کوئی دوسرا تمہیں بحری جہاز لا کردے
تو میں تمہیں سفر تحفہ کروں گا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=55


جب میں تم سے محبت کرتا ہوں

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
ایک نئی زبان پُھوٹ پڑتی ہے
نئے شہر، نئے ملک دریافت ہونے لگتے ہیں
گھنٹے ننّھے کتوں کی مانند سانس لینے لگتے ہیں
کتابوں کے صفحوں کے بیچ سے اناج کے خوشے اُگ آتے ہیں
پرندے تمہاری آنکھوں سے شہد کی بوندیں چُرا کر اڑنے لگتے ہیں
انڈین پھلیوں سے لدے قافلے تمہارے پستانوں سے روانہ ہونے لگتے ہیں
ہر طرف آم ہی آم گرنے لگتے ہیں
جنگل آگ پہن لیتے ہیں
اور چہارسُو نیوبین ڈھول بجنے لگتے ہیں۔

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تمہاری چھاتیاں لاج شرم جھٹک دیتی ہیں
یہ نُور میں بدل جاتی ہیں، گرج دار ہو جاتی ہیں
تلوار لگنے لگتی ہیں اور ایک ریتلا طوفان بن جاتی ہیں
جب میں تم سے محبت کرتا ہوں تو عرب شہر چھلانگنے لگتے ہیں
اور ڈٹ جاتے ہیں صدیوں کے استبداد کے خلاف
اور انتقام کے خلاف جو قبائلی قوانین کی آڑ میں ان سے لیا جاتا رہا
اور میں، جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تو مارچ کرنے لگتا ہوں
بدصورتی کے خلاف
نمک کے بادشاہوں کے خلاف
صحرا کو ادارہ جاتی بندوبست میں جکڑنے کے خلاف
اور میں تب تک تمہیں چاہتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا
میں تب تک تم سے یونہی محبت کرتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=61


میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے

میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے:
'میرے اور فلک کے بیچ کیا فرق ہے؟'
فرق یہ ہے، میری جان
کہ جب تم ہنستی ہو
میں آسمان کو بھول جاتا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=334


اے میری چاہت

اے میری چاہت
اگر تم پاگل پن میں میرے برابر ہوتی
تو تم اپنے گہنے اتار پھینکتی،
اپنے تمام کنگن بیچ کر
میری آنکھوں میں آ کر سو جاتی۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=335


میں جب جب تمہیں چُومتا ہوں

میں جب جب تمہیں چومتا ہوں
ایک لمبی جدائی کے بعد،
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے میں کسی سرخ لیٹر باکس میں
جلدی سے محبت نامہ ڈال رہا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=336


روشنی لالٹین سے مقدّم ہے

روشنی لالٹین سے مقدّم ہے
نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے
اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے

تمہارے نام میرے خط
ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی
صرف یہی وہ دستاویز ہیں
جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے
تمہارا حسن
اور میرا پاگل پن۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=338

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالات زندگی
http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=ssd&shid=2

شاعری
http://www.adab.com/modules.php?name=Sh3er&doWhat=lsq&shid=7&start=0

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

توہین رسالت پر ایک فراموش شدہ فتویٰ

دیوبندی اور بریلوی، دونوں فرقوں کے بانیوں نے اس فتوے کے ذریعے اس رائے کی توثیق کی ہے کہ کسی غیر مسلم کو توہینِ مذہب و رسالت کے محض ایک مرتبہ ارتکاب پرسزائے موت نہیں دی جا سکتی اور اسی بناء پر وہ معافی کا مستحق ہے۔

تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے

اور خدا کرے وہ تمھیں کبھی معاف نہ کرے

برخوردار گولی تم اتنا چیختی کیوں ہو؟ کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تمھیں چلانے والوں کے اندر کوئی چیخ